مایوسی امید میں کیسے بدلے؟
معاشی و سیاسی نا برابری سماج میں دو اصول (حق گوئی اور عمل) کے ابھار کا سبب بنتی ہے۔ نتیجہ درحقیقت عمل کے اندر پنہاں ہوتا ہے۔ انسان جو بوئے گا وہی کاٹے گا۔ کیونکہ ثمر بیج کے اندر پنہاں ہے۔ انسان کو عمل کرنے کی آزادی ہے۔ عمل پہلے سرزد ہوتا ہے، جبکہ نتیجہ بعد میں برآمد ہوتا ہے۔ جو لوگ زندگی پر جمود طاری کرلیتے ہیں وہ محکوم بن جاتے ہیں۔ عدم رواداری، عدم مساوات، سیاسی، معاشی اور معاشرتی زبوں حالی ان کا مقدر بن جاتی ہے۔ ظلم، دہشت گردی اور فساد ان کا وتیرہ بن جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں ایسے لوگ خوف و حزن کا شکار ہو جاتے ہیں۔ مطلب جسے زندوں میں شمار ہونا ہے اسے جمود توڑ کر حرکت اور حق گوئی کے اصول پر قائم رہنا ہو گا۔
ان اصولوں کے پیشِ نظر ہم جب موجودہ حالات کا جائزہ لیتے ہیں تو ہمیں فکری جمود نظر آتا ہے۔ سیاسی و معاشی نا انصافی کے خلاف سچائی سے گریزاں انسانی ہجوم دکھائی دیتا ہے۔ ہماری آنکھوں کے سامنے بے حسی، جھوٹ، منافقت، نفرت اور خوف جیسے منفی رویے ہمارے معاشرے کو تنزلی کی طرف تیزی سے دھکیلتے نظر آتے ہیں۔ ہم نہ صرف تنزلی کے گواہ بلکہ حصہ بن چکے ہیں۔ ہم سب کچھ دیکھنے اور سننے کے باوجود بھی اندھے بنے بیٹھے ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے ہماری اس زبوں حالی کے محرکات اور اسباب کیا ہیں؟
اس زبوں حالی کی ایک وجہ تو وہ تین اساسی قوتیں ہیں جو عوام اور پاکستان کی انفرادی اور اجتماعی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ ان تینوں قوتوں کی تمثیل فرعون، قارون اور ہامان کے رنگ میں پیش کی جا سکتی ہے۔ فرعون ملوکیت کی علامت ہے جو ملک و قوم کو سیاسی طور پر غلام بنائے ہوئے ہے۔ قارون اس جماعت کا نمائندہ ہے جو ملک و قوم کے ذرائع آمدن پر قبضہ کر کے عوام کو ان کے بنیادی معاشی و معاشرتی حقوق سے محروم کیے ہوئے ہے۔ ہامان اس برہمنیت کا آئینہ دار ہے جو فرعون اور قارون کے ناجائز قبضہ کو جائز قرار دیے ہوئے ہے اور لوگوں کو صبر کی تلقین اور اگلے جہان میں جنت کا جھانسا دے کر فرعون اور قارون کے اختیارات کو مذہبی سطح پر جواز مہیا کیے ہوئے ہے۔
اس زبوں حالی اور ترقی کی راہ میں رکاوٹ کی دوسری مگر اہم وجہ ہم خود ہیں۔ ہماری فکری سوچ، سیاست، معیشت اور حریت سب انہی فرعونی، قارونی اور ہامانی قوتوں کی غلام ہے۔ ہم اپنی عزت و وقار، آزادی، عقل، ارادہ، امتیاز، صلاحیتیں، استحقاق ترک کیے ہوئے ہیں۔ یہ صفات جس نے ہمیں اشرف المخلوق کا جامہ پہنایا، ہم انہی صفات کو بھول کر ازخود اپنی اہمیت بھول چکے ہیں۔ ہم اب تک تقلید و اوہام کی زنجیروں کو نہ توڑ پائے ہیں۔
ہم نا انصافی دیکھنے کے باوجود حق گوئی سے گریزاں ہیں۔ ہم زبوں حالی کے باوجود اپنی حالت آپ بدلنے کے بجائے کسی مسیحا اور معجزہ کے منتظر ہیں۔ ہم قدرت کے اصول کو سمجھنے سے عاری ہیں کہ ان قوموں کے حالات نہیں بدلتے جو اپنے حالات آپ بدلنے کے خواہاں نہ ہوں۔ ہم اصولِ حق گوئی سے بھی ناواقف بنے بیٹھے ہیں۔
موجودہ زمینی حقائق متقاضی ہیں کہ ہم اصول حق گوئی اور اصولِ عمل کو اپنا کر اپنی عظیم ذمے داری نبھائیں تاکہ معاشرے میں جنم لینے والے ظلم کے خلاف علمِ حق بلند ہو۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہماری اس ذمے داری کی نوعیت اور مقصد کیا ہے؟
اس ذمے داری کی نوعیت اور مقصد تمام سیاسی، مذہبی، جغرافیائی اور نسلی مصلحتوں اور وابستگیوں سے مبّرا ہو کر ظالم کے خلاف مظلوم کی آواز بننا ہے۔ ذاتی اور وقتی مفادات پر اجتماعی اور قومی مفادات کو ترجیح دینا ہے۔ ہماری سیاسی، مذہبی یا نسلی مخالفت اور عداوت ہمیں راستی اور انصاف کا ساتھ چھوڑنے پر آمادہ نہ کرے۔ ہم جم کر سچی گواہی دینے والے بن جائیں۔ اگرچہ وہ گواہی ہماری اپنی ذات، عزیز و اقرباء، سیاسی، مذہبی یا نسلی گروہ کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ فکری جمود کو توڑ کر اس کی پختگی اور غور و فکر کا بندوبست کریں۔ ہم معاشرتی فلاح، تعلیم، صحت، بے روزگاری، امن، باہمی ہم آہنگی، برداشت، رواداری، خوشحالی کے لیے عملی اقدامات کریں۔ ہم ملکی سالمیت، آئین، عوام اور جمہوریت کے پاسبان بن جائیں۔
ہم ایک ایسی غیر متشدد پرامن فکری تحریک کا آغاز کریں، جس کا مقصد ہر متشدد، مذہبی، سیاسی اور نسلی و علاقائی جنونیت، غیر اخلاقی، غیر انسانی، غیر آئینی، غیرجمہوری، صنفی امتیاز اور تعصب پر مبنی قوت کا قلع قمع کرنا ہو۔ اس فکری تحریک کے لیے کسی مال و متاع اور مددگار کی ضرورت نہیں۔ ضرورت ہے تو صرف ہمت کی، لگن کی، سچائی کی، حصولِ مقصد کی، فکری پختگی کی اور سب سے بڑھ کر عمل کی۔
ہمیں ساری قوتیں و کوششیں خالص ملک و قوم کی خوشحالی، جمہوریت کے استحکام اور قومی یکجہتی پر مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم سب کو فرقہ پرستی اور پارٹی بازی چھوڑ کر ایک خوشحال قوم اور جمہوری ملک کے لیے متحد ہونا ہو گا۔ ہمیں عملی طور پر لوگوں کی جان و مال اور عزت کی حفاظت کے لیے انفرادی اور اجتماعی اقدامات کرنے ہوں گے۔ ہماری ہر ممکن کوشش ہونی چاہیے کہ جاہلیت عرفان میں بدلے۔ مایوسی امید میں بدلے۔ غیر جمہوری قوتوں کی حوصلہ شکنی ہو، جمہوری رویے پروان چڑھیں۔
غیر یقینی اور خوف کے بادل چھٹ جائیں۔ تاریکی روشنی سے گھبرائے۔ باطل حق کا سامنا نہ کرسکے۔ اور اگر کسی وقت بھی ہم یہ محسوس کریں کہ عدل و انصاف کے پیمانے بدل رہے ہیں، حق سے بے اعتنائی برتی جا رہی ہے، ہم ہمت ہار رہے ہیں، سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ مندوب قرار دیا جا رہا ہے، تو پھر ہم سب پر یہ ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ ہم اپنے ساتھ باقی لوگوں کو بھی حاضر و موجود کی طرف متوجہ کریں اور ان کا احساس جھنجھوڑیں۔


