انڈیا کی دریائے راوی پر شاہ پور کنڈی ڈیم کی تعمیر: ’ہماری نظروں کے سامنے ایک دریا کا قتل ہوا ہے‘

ترہب اصغر اور محمد زبير - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور


راوی
دریائے راوی قدرت کی ستم ظریفی کا نہیں بلکہ انسانی منصوبوں کا شکار ہوا ہے
’کچھ سال پہلے تک اس سارے علاقے میں پانی ہی پانی ہوتا تھا۔ اب جتنا پانی نظر آرہا ہے اس سے تو یہ دریا لگتا ہی نہیں بلکہ کوئی چھوٹی موٹی ندی محسوس ہوتی ہے۔‘

انڈیا سے منسلک پاکستانی سرحدی علاقے میں اگر آپ درائے روای کے کنارے کھڑے ہو کر یہ منظر دیکھیں تو وہاں رہنے والے کسان بابا حیدر علی کی یہ بات زیادہ بہتر سمجھ سکیں گے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’پہلے جب مون سون کی بارشیں ہوتیں تھیں تو دور دور تک پانی چلا جاتا تھا اور جب یہ پانی اترتا تو لوگ بس بیچ پھینک کر کھیتی باڑی کرتے تھے۔ اب صورتحال یہ ہے کہ کئی سالوں سے اگر زیادہ بارشیں بھی ہوں تو پانی تھوڑا سا ہی زمینوں تک آتا ہے۔ دریا کے گرد بسنے والے مقامی کسان اپنے کھیتوں کو پانی دینے کے لیے ٹیوب ویل استعمال کرتے ہیں۔‘

اور یہ سب اس لیے ہو رہا ہے کہ ’یہ دریا قدرت کی ستم ظریفی کا نہیں بلکہ انسانی منصوبوں کا شکار ہوا ہے۔‘

ہمسایہ ملک انڈیا نے پاکستان کی جانب سے برسوں تحفظات کے اظہار کے باوجود اس دریا پر ڈیم تعمیر کر کے پانی کے بہاؤ کو محدود کرنے کے بجائے مکمل طور پر بند کر دیا ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان اور انڈیا کے مابین پانی کی مسئلہ دونوں ممالک کے بطور الگ ریاست قیام سے شروع ہوا جو آج تک چل رہا ہے۔ تاہم 1960 میں اس مسئلے کے حل کے لیے ایک معاہدہ طے پایا جسے سندھ طاس معاہدے کا نام دیا گیا۔ 19 ستمبر 1960 کو یہ معاہدہ عالمی بینک کی ثالثی میں دونوں ممالک کے درمیان طے ہوا۔ جس کے تحت دونوں ممالک کے حقوق اور ذمہ داریوں کو طے اور محدود کیا گیا۔

اس معاہدے نے مغربی دریاؤں یعنی سندھ، جہلم اور چناب کا پانی پاکستان کو اور مشرقی دریاؤں یعنی راوی، بیاس اور ستلج کا پانی انڈیا کو دے دیا۔ تاہم اس معاہدے میں مشکلات اس وقت شروع ہوئیں جب انڈیا نے مشرقی دریاؤں پر پن بجلی کے منصوبے بنانے شروع کیے۔ پاکستان کو یہ تشویش تھی کہ ان منصوبوں سے اس کی طرف جانے والے پانی کے بہاؤ میں کمی آ جائے گی۔

ڈیم

مرتا ہوا دریائے راوی

یہی نہیں انڈیا کی جانب سے رفتہ رفتہ مشرقی دریاؤں پر ڈیموں کی تعمیرات ہوتی چلی گئی۔ جس کی حالیہ مثال انڈین پنجاب کے علاقے پٹھان کوٹ کے مقام پر بننے والا شاہ پور کنڈی بیراج ڈیم ہے۔ یہ ڈیم دریائے راوی پر 45 سال کے عرصے میں مکمل کیا گیا جس سے دریائے راوی کے پانی کا بہاؤ پاکستان کی طرف مکمل طورپر بند ہوگیا ہے۔

جس کے بعد صورتحال یہ ہے کہ اب صرف دریائے راوی میں انڈیا سے آنے والا گندا پانی اور لاہور کے گیارہ گندے نالوں کا گند اس دریا میں موجود ہے۔ جبکہ دریا کا باقی تمام تر حصہ خشک ہوچکا ہے۔

آرٹسٹ، ماحولیاتی کارکن اور راوی بچاو تحریک کے رہنما ابو زر مادھوی کہتے ہیں کہ ’دریائے راوی تو سرحدوں کو ملانے والا دریا ہے۔ جو انڈیا سے پاکستان اور پھر پاکستان سے انڈیا میں جاتا ہے۔ اور ہم نے اسی جیتے جاگتے دریا کا قتل کر دیا ہے۔‘

انھوں نے مزيد کہا کہ ’راوی لاکھوں سال پرانی ہے۔ اس کی وجہ سے نہ صرف لاہور بسا بلکہ کئی اور شہر بھی بسے ہیں۔ جہاں جہاں راوی بہتا رہا وہاں پر زندگی چلتی رہی ہے۔‘

ابو زر مادھوی کہتے ہیں کہ پانی اور دریا سرحدوں کے محتاج نہیں ہوتے ہیں۔ یہ جہاں جہاں بہتے ہیں وہاں پر زندگی کا پیغام لے کر آتے ہیں۔ تاہم جب انھیں قدرت کے خلاف اپنی مرضی سے چلانے کی کوشش کرتے ہیں تو پھر یہ کسی کے نہیں بنتے اور سب کے لیے تباہی لے کر آتے ہیں۔

زیادہ تر ماہرین آبپاشی اور ماحولیات کے مطابق پانی سے جڑا ایک بنیادی اصول ہے کہ وہ جن جگہوں سے ہوتا ہوا بہتا ہے یعنی کہ دریا، ندی، نالے، وہاں پانی کا بہاؤ کبھی بھی صفر نہیں کیا جاتا ہے۔

ایم ڈی واسا غفران احمد نے اس بارے میں بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ’انڈیا نے دریائے راوی میں بہنے والے پانی کو بلکل صفر کر دیا ہے جو نہیں کرنا چاہیے تھا۔ میرے خیال میں سندھ طاس معاہدہ کئی دہایئوں پہلے ہوا تھا۔ اس تمام عرصے میں دنیا بھر میں موسمیاتی اور ماحولیاتی تبدیلیاں آئی ہیں۔ جس نے بہت سی چیزوں کا نقشہ بدل کر رکھ دیا ہے۔ اس لیے یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ بگڑتی چیزوں کو ٹھیک کریں نہ کے انھیں مزید بگاڑیں۔‘

راوی

’راوی کے کنارے پر ہیں مگر دریا میں پانی نہیں‘

دریائے راوی کے گرد و نواح میں رہنے والے زیادہ تر لوگوں کا یہی کہنا ہے کہ 80 اور 90 کی دہائی کے بعد ہم نے اس دریا کا پانی کم ہوتے اور پھر ختم ہوتے دیکھا ہے۔

ظفر علی لاہور اور شیخوپورہ کے سرحدی گاوں مولن والا میں ملاح ہیں۔ ان کی کشتی لوگوں کو دریا کے آرپار لے جانے کا کام سالوں سے کررہی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ’مجھے اب دریا کی حالت دیکھ کر حیرانی ہوتی ہے کہ اس پانی کو بھی دریا کہا جا سکتا ہے کہ نہیں۔‘

انھوں نے مزید بتایا کہ ’کبھی اس دریا کا پانی بہت صاف و شفاف ہوا کرتا تھا گندگی اور کچرا پہلے بھی ہوتا تھا مگر پانی کا بہاؤ زیادہ اور تیز تھا جو اپنے ساتھ کچرا بہا کر لے جاتا تھا اب تو اس پانی کا رنگ بتا رہا ہے کہ یہ کمیکل ملا پانی ہے جس میں مچھلی زندہ ہی نہیں رہ پاتی ہے بلکہ مچھلی کیا میں نے تو دیگر آبی مخلوق بھی کئی سالوں سے نہیں دیکھی ہے۔‘

’پہلے اس علاقے میں کئی مچھیرے ہوتے تھے اب پورے دریا میں گھوم جائیں کوئی مچھیرا نہیں ملے گا ہاں کبھی کبھار اگر مون سون میں بارشیں ہوں تو مچھلی آجاتی ہے اور کوئی ایک آدھا مچھیرا بھی آجاتا ہے مگر اب ایسا کچھ نہیں ہے۔‘

دریا کے آس پاس بسنے والوں کی شکایات یہاں تک ہی محدود نہیں ہیں۔ حیدر علی بھی عرصہ دراز سے دریائے راوی کے پاس ہی رہ رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’اب پینے کا پانی حاصل کرنے کے لیے جو کنواں کھودا جاتا تھا اس کو دو سو فٹ سے بھی زیادہ کھودنا پڑتا ہے۔ میں نے تو کئی سال پہلے یہ سوچا بھی نہیں تھا کہ راوی کے کنارے پر آباد ہمارے گاؤں میں بھی کبھی پانی کا مسئلہ ہوگا مگر اب یہ مسئلہ بھی درپیش ہے۔‘

اس بارے میں بات کرتے ہوئے ایم ڈی واسا عفران احمد کا کہنا تھا کہ ’چلتے ہوئے دریا میں پانی اور زیر زمین پانی کی ری چارجنگ کا کام رک گیا ہے۔ اس دریا میں قدرتی بہاؤ موجود نہیں ہے جس وجہ سے لاہور اور جس جس علاقے سے دریائے راوی گزرتا ہے وہاں پر زیر زمین پانی کم ہوچکا ہے۔ زیر زمین پانی کی کمی شدت سے محسوس ہورہی ہے اور لاہور شہر میں تو یہ مسئلہ سنگین نوعیت اختیار کر چکا ہے۔‘

راوی

دریائے راوی کا بہاؤ کیوں روکا گیا؟

پانی کے ماہر اصغر حسین نے دریائے راوی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ شاہ پور کنڈی بیراج تعمیر ہونے سے قبل انڈیا نے اپنی حدود میں تین مزید ڈیم بھی تعمیر کررکھے ہیں۔ اس منصوبے کی تعمیر کا کام شروع کرنے کی اجازت کے لیے انڈیا زیر انتظام کشمیر کے وزیرِ اعلیٰ شیخ محمد عبداللہ اور پنجاب میں ان کے ہم منصب شیخ محمد پرکاش سنگھ بدل نے دستخط کیے تھے۔

اصغر حسین کے مطابق اس ڈیم کو جلد مکمل ہونا تھا مگر نہ ہوسکا اور 2008 میں اس کو قومی منصوبہ قرار دیا گیا اور اس کی تعمیر کا آغاز 2013 میں ہوا تھا جسے اب مکمل کرلیا گیا ہے۔

’اس ڈیم کی تعمیر مکمل ہونے کے بعد وہ پانی جو انڈیا سے ہوتا ہوا دریائے راوی کے ذریعے پاکستان آتا تھا اس کا رخ موڑ دیا گیا۔ ہماری معلومات کے مطابق اب کہا جارہا ہے کہ اس کو جموں و کشمیر میں آبپاشی کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ اس پانی کا تخمینہ اندازہ 1150کیوسک بتایا جاتا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ 55.5 میٹربلند ڈیم سے دو ہائیڈرو منصوبے بھی شروع کیے گئے ہیں۔

راوی

’سب دریائے روای پر گدھ کی طرح نظریں گاڑے بیٹھیں ہیں‘

بطور صحافی ہم نے دریائے راوی اور اس سے جڑے تمام پہلوؤں کا احاطہ کرنے کے لیے ان علاقوں کا دورہ کیا۔ جس کے بعد یہی محسوس ہوا کہ دریائے روای کے خشک ہونے کے بعد وہ لوگ جو دریا کے قرب و جوار کے رہائشی، مخصوص حکومتی محکمے اور نجی کمپنیاں جس حد تک ہو سکتا ہے اس خشک دریا سے فائدہ حاصل کرنا چاہتی ہیں۔

جیسا کہ وہ لوگ جنھوں نے دریا کی خشک ہونے والی زمین پر گھر بنا لیے یا وہاں زمینوں پر کھیتی شروع کردی۔ کچھ ایسے بھی ہیں جو دریا سے مٹی نکال کر اسے بیچنے کا کام کرتے ہیں۔ حکومتی سطح پر ایسے محکمے بھی وجود میں آگئے جو دریائے راوی کی خشک زمین پر نیا شہر کھڑا کرنا چاہتے ہیں۔ جبکہ ریئل اسٹیٹ والے یہاں سوسائٹی بنانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

آرٹسٹ، ماحولیاتی کارکن اور راوی بچاؤ تحریک کے رہنما ابو زر مادھوی نے اس معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ سب لوگ دریائے راوی پر گدھ کی طرح نظریں جمائے بیٹھے ہیں کہ کب یہ دریا مکمل خشک ہو تو ہم اس پر قبضہ کریں اور یہاں تعمیرات کریں۔‘

انھیں یہ نہیں معلوم کہ جب قدرت کا نظام چلتا ہے جیسا کہ سیلاب یا موسمیاتی تبدیلی آتی ہے تو وہ تباہی سب کے لیے لے کر آتا ہے۔ اس لیے دریاؤں کو ان کی اصل شکل میں رہنے دینا ہی عقلمندی ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 33095 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments