گلوبل وارمنگ: کیا ہماری سمت درست ہے؟


پاکستانی معاشرہ ایک ہمہ جہت زوال کی طرف گامزن ہے۔ آپ کسی بھی سماجی شعبے پر نظر ڈالیں تو وہ ایک نئی پستی کو چھوتا نظر آئے گا۔ حکومتی بے حسی کا تو کیا گلہ ایسا لگتا ہے کہ ساری قوم سے احساس زیاں مفقود ہو گیا ہے۔ گزشتہ چند سال سے پاکستان بدترین ماحولیاتی تبدیلیوں کا شکار ہے جس کی وجہ سے موسمیاتی پیٹرن میں تبدیلی، غیر متوقع سیلاب اور بارشیں، اربن فلڈنگ، لینڈ سلائیڈنگ، زمینی کٹاؤ اور شدید ہیٹ ویو کا سامنا ہے۔ گلوبل وارمنگ اور موسمیاتی بدلاؤ ایک خوفناک عرفیت کی صورت منہ کھولے جس تیزی سے ہماری طرف بڑھ رہا ہے اس کا شاید ہمیں ادراک نہیں۔ پھر بدقسمتی سے ہم ایک ایسے ملک کے باسی ہیں جہاں اجتماعی فائدے کو ذاتی اور ذاتی تباہی کو اجتماعی تباہی پر فوقیت دی جاتی ہے۔

پاکستان میں عوام صرف گرمی یا زیادہ گرمی اور سردی میں زیادہ سردی یا پھر غیر متوقع بارشوں اور سیلابی صورتحال کو ہی ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات سمجھتی ہے۔ پاکستانی عوام کی اکثریت سمجھتی ہے کہ ہیٹ ویو اور گرمی میں شدت کی واحد وجہ درختوں اور جنگلات کا خاتمہ ہے لیکن معاملہ اتنا سادہ نہیں ہے۔

ماحولیاتی تپش اور ماحولیاتی بدلاؤ ایک اصطلاح ہے جو زمین کے اوسط درجہ حرارت اور اس کے متعلقہ اثرات میں ہونے والے اضافے کا مشاہدہ کرنے کے لیے گزشتہ صدی سے استعمال ہو رہی ہے اور اسی ماحولیاتی تپش کی وجہ سے کئی ملکوں میں طوفان اور سیلابوں کی شدت میں اضافے، جنگلات میں خود بخود بھڑک اٹھنے والی آگ اور انتہائی درجہ حرارت سے لاکھوں لوگ اب تک لقمۂ اجل بن چکے ہیں اور یہ خطرہ ابھی تھما نہیں بلکہ ایک خوفناک عفریت کی مانند منہ کھولے ساری دنیا کو نگلنے کے لیے ہماری طرف لپک رہا ہے۔

صنعتی دور سے پہلے یعنی 1850 سے 1900 عیسوی کے درمیان عالمی درجہ حرارت میں اوسطاً ایک ڈگری سیلسیئس کا اضافہ ریکارڈ ہوا۔ گرمی میں اضافے کا یہ رجحان 2016، 2017، اور 2019 اور 2023 کے دوران جزوی طور پر 1.5 ڈگری کے نشان کو بھی عبور کر گیا ہے۔ موسمیاتی سائنسدانوں کی طرف سے یہ پیش گوئی کی گئی ہے کہ 2024 کے دوران کسی وقت بین الاقوامی سطح پر 1.5 ڈگری کی حد سے تجاوز کرنے کا امکان ہے۔ اگر عالمی درجہ حرارت میں اسی رفتار سے اضافہ ہوتا رہا تو صرف چند سال بعد دنیا انسانوں کے رہنے لائق نہیں رہے گی۔

عالمی حدت اور درجہ حرارت میں اضافے سے گلیشئرز کے پگھلاؤ، سمندری طوفان، سطح سمندر میں اضافے اور زمینی کٹاؤ کی وجہ سے شہر کے شہر صفحہ ہستی سے مٹ سکتے ہیں۔ لینڈ سلائیڈنگ، جنگلات میں آگ، غیر متوقع اور تباہ کن سیلاب، طویل خشک سالی کی وجہ سے آئندہ چند سالوں میں دنیا کی 70 فیصد آبادی کو خوراک اور پانی کے بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے ہمیں صرف ناقابل برداشت ہیٹ ویو نہیں بلکہ بیماریوں اور غربت میں اضافے، معاشی تباہی، زرعی بحران اور غیر متوقع جغرافیائی تبدیلیوں اور پانی کی کمی کی وجہ سے پڑوسی ممالک کے ساتھ ممکنہ جنگوں کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جس میں لاکھوں انسانی جانوں کے ضیاع کا خطرہ ہے۔

اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے صرف 2022 میں آنے والے سیلاب سے ملکی معیشت کو 40 ارب ڈالر کا نقصان ہوا اور 22 لاکھ گھر تباہ ہوئے۔ ہر سال ماحولیاتی تبدیلی سے ہونے والا 500 ارب روپے کا نقصان اس سے کے علاوہ ہے۔

عالمی بینک کی ہی ایک رپورٹ کے مطابق 2022 کے سیلاب کے بعد پاکستان میں غربت کی شرح میں 5 فیصد اضافہ ہوا جس کے بعد شرح غربت 34 فیصد سے بڑھ کر 40 فیصد تک پہنچ گئی یعنی ایک کروڑ سے زائد لوگ صرف سیلاب کی تباہ کاریوں کی وجہ سے سطح غربت سے نیچے چلے گئے۔

موسمیاتی بدلاؤ اور درجہ حرارت میں اضافے سے مستقبل قریب میں آنے والا مزید ایک اور ممکنہ سیلاب نہ صرف پاکستان کے معاشی اور سماجی ڈھانچے کو تباہ کردے گا بلکہ خدشہ ہے پاکستان میں غربت اور بھوک سے خدانخواستہ خانہ جنگی ہی نہ شروع ہو جائے۔

معاشی اور سماجی وجوہات کی وجہ سے دیہات سے شہروں کی طرف نقل مکانی نے بھی پاکستان میں ماحولیات کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ بڑی تعداد میں نقل مکانی نے شہروں میں گنجائش سے زیادہ لوگوں کو آباد کر دیا ہے، جس کی وجہ سے نہ صرف شہروں کے پھیلاؤ میں اضافہ ہو رہا ہے بلکہ اس نقل مکانی نے شہری ڈھانچے اور سہولیات کو بری طرح متاثر کیا ہے۔

شہری علاقوں میں آبادی کے بے پناہ دباؤ سے نہ صرف بے روزگاری بڑھ رہی ہے بلکہ بے روزگاری کی وجہ سے صرف اسٹریٹ کرائم اور دیگر جرائم میں اضافہ ہو رہا ہے۔ دوسری طرف دیہات سے شہری علاقوں میں نقل مکانی اور آبادی کے دباؤ سے کراچی جیسے میٹروپولیٹن شہر کو بھی ہر تقریباً سال اربن فلڈنگ کا سامنا ہے۔

عالمی درجہ حرارت اور اضافے اور ماحولیاتی تبدیلی کی سب سے بڑی وجہ صنعتوں سے کاربن کا اخراج اور زہریلی گیسیں ہیں جو کہ زمین کے اوپر موجود اوزون کی لیئر کو تباہ کر رہی ہیں۔ پاکستان دنیا بھر میں ماحولیاتی آلودگی اور موسمیاتی تبدیلی کی وجہ بننے والے کاربن کا صرف آدھا فیصد سے بھی کم اخراج کرتا ہے لیکن پاکستان کاربن اخراج کی وجہ سے ہونے والی موسمیاتی تبدیلی سے شدید متاثر ہونے والے صف اول کے ممالک میں شامل ہے۔

بین الاقوامی سطح پر ماحولیاتی تبدیلیوں اور گلوبل وارمنگ سے نمٹنے کے لیے عالمی معاہدے موجود ہیں جن کے مطابق دنیا بھر میں کاربن کا اخراج کرنے والے بڑے صنعتی ممالک ماحولیاتی تبدیلیوں اور گلوبل وارمنگ سے نمٹنے کے لیے غریب ممالک کو فنڈنگ اور تکنیکی مدد دینے کے پابند ہیں لیکن بدقسمتی سے ان عالمی معاہدوں کی پاسداری کوئی بھی امیر اور طاقتور ملک نہیں کرتا۔ امیر ممالک کی ناکافی فنڈنگ اور اور عدم دلچسپی کی وجہ سے گرین ہاؤسز گیسز کے اخراج میں اتنی کمی نہیں ہو سکی جو گلوبل وارمنگ کے خطرے کو کنٹرول کرنے کے لیے کافی ہو۔ جس کا خمیازہ پاکستان جیسے غریب اور پسماندہ ممالک کو بدترین آفات کے سامنے کی صورت کرنا پڑ رہا ہے۔

مصنوعی ذہانت کے استعمال سے کی گئی ایک تازہ ترین تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ موسمیاتی چیلنجز کے خطرے سے نمٹنے کے لیے اڈاپشن یعنی ماحولیاتی موافقت کی مدد سے گلوبل وارمنگ کے منفی اثرات کو کم کر سکتے ہیں۔ موسمیاتی یا ماحولیاتی تبدیلی کے ساتھ موافقت سے مراد وہ اقدامات ہیں جو معاشرتی ماحول، صحت عامہ، معیشت وغیرہ پر گلوبل وارمنگ کے منفی اثرات کو کم کرنے کے لیے اٹھائے جا سکتے ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات کو ایڈجسٹ کرنے کے لیے ہر ملک، علاقے یا کمیونٹی کی مخصوص علاقائی ضروریات کے مطابق اقدامات کرنے سے ماحولیاتی تبدیلی کے منفی اثرات کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ یہ اقدامات قابل تجدید توانائی پیدا کرنے سے لے کر ماحولیاتی نظام کی بحالی تک حل ہو سکتے ہیں۔ نئی ٹیکنالوجیز کا استعمال کرتے ہوئے، انسان موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کے مطابق ڈھالنے کے لیے فطرت پر مبنی آسان حل بھی استعمال کر سکتے ہیں۔

ٹیکنالوجی کی مدد سے ہم ایسے ہائبرڈ بیج بنا سکتے ہیں جو کم پانی اور کھاد کے باوجود زیادہ سے زیادہ پیداوار دینے میں مدد دیں۔ اسی طرح ری سائیکلنگ اور فضلے کی مدد سے دوبارہ پیداوار کی سرکلر اکانومی کی مدد سے ماحول اور ایکو سسٹم کے لیے سب سے بڑے خطرے یعنی صنعتی ویسٹ کے مسئلے پر بھی قابو پایا جا سکتا ہے۔

شہروں میں زیر زمین وسیع ٹینکرز کی مدد سے نہ صرف اربن فلڈنگ پر قابو پایا جاسکتا ہے بلکہ ان زیر زمین ٹینکرز کی مدد سے شہروں میں ہر سال بارشوں سے ضائع ہونے والا لاکھوں لیٹر پانی سے ہمارے زیر زمین واٹر چینلز کو ریچارج کرنے میں بھی مدد ملے گی۔ اسی طرح سیوریج کے پانی کو واٹر ٹریٹمنٹ ٹیکنالوجی کے ذریعے ری سائیکل کر کے صنعتی استعمال کے لئے دوبارہ کارآمد بنایا جا سکتا ہے۔

پاکستان ہر سال اربوں ڈالر کا خام تیل درآمد کرتا ہے جس کو پروسیسنگ کے بعد صنعتوں، ٹرانسپورٹ اور بجلی بنانے کے لئے بھی استعمال کیا جاتا ہے جو کہ نہ صرف کاربن اور گرین ہاؤس گیسز کے اخراج کا باعث بنتی ہیں بلکہ اربوں ڈالر کا سالانہ امپورٹ بل پاکستان کی معیشت پر بھی بہت بڑا بوجھ ہے۔ اگر پاکستان صرف ٹرانسپورٹ کے شعبے کو ایندھن سے ماحول دوست الیکٹرک ٹیکنالوجی پر شفٹ کرنے کا فیصلہ کر لے تو صرف درآمدی ایندھن کے امپورٹ بل سے سالانہ 10 ارب ڈالرز باآسانی بچائے جا سکتے ہیں۔

بڑے شہروں میں عمودی عمارتوں اور رہائشی اپارٹمنٹس کے رجحان کی حوصلہ افزائی سے نہ صرف شہری آبادی کے پھیلاؤ کو روکنے میں مدد مل سکتی ہے بلکہ زرعی زمینوں کو تیزی سے نگلتی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے سامنے بھی بند باندھا جا سکتا ہے۔

ہم ایک کمزور ملک ہونے کی حیثیت سے عالمی سطح پر موسمیاتی بدلاؤ اور گلوبل وارمنگ کو تو نہیں روک سکتے لیکن ماحولیاتی اور موسمیاتی تبدیلی کے ساتھ مطابقت کی مدد سے ہم گلوبل وارمنگ کے چیلنجز سے نبردآزما ہوسکتے ہیں۔ اگر گلوبل وارمنگ اور ماحولیاتی تبدیلی کو روکنے کے لئے فوری اور ہنگامی اقدامات نہ لئے گئے تو خطرہ ہے اگلے چند ہی سالوں میں ٹھٹھہ، بدین، کراچی اور کوئٹہ سمیت پاکستان کے کئی بڑے شہر صفحہ ہستی سے مٹ سکتے ہیں۔

Facebook Comments HS