ایرانی صدارتی انتخابات امکانات


آج 28 جون 2024 بروز جمعہ ایران میں صدارتی انتخابات منعقد ہو رہے ہیں۔ صدر ابراہیم رائیسی کی رحلت کے بعد ایرانی آئین کے مطابق پچاس دنوں بعد یہ ہونا لازم تھے۔ ووٹوں کی گنتی کب ہوگی اور نتائج کب تک آئیں گے یہ تو حتمی طور کسی کو معلوم نہیں۔ البتہ قیافہ گو سمجھتے ہیں کہ شاید ایک ہفتہ تک حتمی نتیجہ سامنے آئے گا۔ البتہ اگر کہیں ضرورت پڑی اور دوبارہ انتخاب کروانا ہوا تو پھر 5 جولائی کو دوبارہ انتخاب ہو گا۔ صدارتی انتخاب سے پہلے کئی بحث و مباحثہ ہوئے ہیں جس میں معیشت، خارجہ پالیسی، انٹرنیٹ پہ سرکاری ناروا پابندیاں، اقلیتوں اور خواتین کے حقوق کے حوالے سے گرما گرم بحث ہوتی رہی ہے سب سے زیادہ خواتین کے لباس کے حوالے سے بحث ہوئی ہے۔

انقلاب ایران کے بعد اب تک ملاؤں کا عنان اقتدار پر شدید مذہبی اثر قائم رہا ہے۔ خواتین اپنے شہری حقوق اور لباس کی پابندیوں کے خلاف برسر پیکار رہتی آئی ہیں اور اب بھی انہیں کسی امیدوار سے کسی بڑی تبدیلی کی توقع نہیں ہے وہ سمجھتی ہیں کہ آزاد امیدوار مسعود پزیکشان سے بھی کسی خاص تبدیلی کی توقع نہیں کر سکتے کیونکہ وہ بھی جبری حجاب کے ہی طرفدار ہیں۔ تمام امیدوار آتے تو اسی ملائیت بھرے نظام سے ہی ہیں۔ لہذا کسی بڑی تبدیلی کی توقع رکھنا عبث ہو گا۔ مسعود پزیکشان مغرب سے تعلقات بہتر چاہتا ہے۔

دو اور اہم امیدوار سعید جلیلی اور محمد باقر قالیباف ہیں۔ قالیباف پارلیمنٹ کے اسپیکر ہیں جن کا وسیع تجربہ ہے وہ اسلامک گارڈ کور کا حصہ بھی رہے ہیں اور کمانڈر کے طور فرائض سر انجام دیے ہیں۔ سعید جلیلی بھی حکومتی اکابرین میں سے ہیں۔ مسعود پزیکشان پیشے کے لحاظ سے تو ماہر امراضِ قلب ہیں لیکن وہ صدر خاتمی کے دور میں وزیر صحت کے طور کام کرچکے ہیں۔ وہ تھوڑے سے مختلف الخیال بھی ہیں۔ انہیں ایک خاص مقصد سے انتخابی معرکہ میں اترنے دیا گیا ہے تاکہ ذرا عالمی برادری کو آزادیٔ رائے کی تصویر دکھائی جا سکے۔

ایرانی عوام تو دنیا کے ساتھ بہتر تعلقات چاہتے ہیں بالخصوص مغربی دنیا کے ساتھ مخاصمت کے بجائے دوستی اور پرامن بقائے باہمی رواداری اور برداشت کا مظاہرہ چاہتے ہیں۔ صدر خاتمی کا انتخاب بھی بڑا تاریخی تھا جب انہیں اسی فیصد ووٹ ملے تھے تب بھی عوام کی توقعات تھیں مگر وہ بھی کسی پالیسی میں بڑی تبدیلی نہ لا سکے اور اپنا وقت پورا کر کے چلتے بنے۔ وہ بھی فری اکنامی اور بیرونی سرمایہ کاری کے خواہاں تھے۔ لہذا حالیہ برسوں میں یہی دیکھا گیا ہے کہ صدارتی انتخابات جیتنے اور عہدۂ جلیلہ پہ متمکن ہونے کے باوجود وہ کسی بڑی تبدیلی کا باعث بن نہیں سکتے۔ سخت گیر عناصر کا عنان اقتدار پہ شدید مذہبی اور انتہا پسندانہ انداز فکر ہی حاوی رہتا ہے۔ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنائی کا ہی ہر لفظ گویا قانون اور آئین ہے۔ جب تک کسی معاملے پہ ان کی گردن مثبت طور اوپر نیچے نہ ہو کچھ بھی ممکن نہیں۔

دوسری اہم ترین فیصلہ ساز قوت ایرانی گارڈز کی اعلیٰ قیادت ہے، ان کا پاؤں بھی گویا ہاتھی کا پاؤں جیسا ہے وہ نہ صرف عسکری معاملات بلکہ خارجہ و داخلہ پالیسیوں کو کنٹرول کرتے ہیں، ہر شعبۂ ہائے زندگی میں انہی کی رائے مقدم ہوتی ہے چاہے معاملہ ٹیلی کمیونیکیشن کا ہو، صنعتی پیداوار ہو یا جہاز رانی کا ہو الغرض یہ تجارت کا ہو یا کچھ اور ہو سب میں اس کی اعلیٰ قیادت جو کہہ دے وہی حکومتی پالیسی ہوتی ہے۔ ان اہم ترین اور بالادست طبقات کی دی ہوئی ہدایات کے بغیر ایرانی صدر ایک قدم بھی نہیں اٹھاتا وہ کسی طور ریڈ لائنز کو عبور کرنے کی گستاخی نہیں کر سکتا۔ اب انتخابات کون جیت کے آتا ہے اتنا اہم نہیں جب تک یہ نظام جاری ہے اس میں رہتے ہوئے کسی بڑی تبدیلی کی توقع رکھنا عبث ہو گا۔

Facebook Comments HS