فرانس سے تبدیلی کی خوشگوار خبر، دائیں بازو کے انتہاپسند ناکام
فرانس کی قومی اسمبلی کے انتخابات نے یورپی سیاست میں دائیں بازو کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے بارے میں عوام کی پریشانی واضح کی ہے۔ فرانسیسی ووٹروں نے بڑے پیمانے پر انتخاب میں حصہ لے کر انتہا پسند قوم پرست جماعت نیشنل ریلی کی قیادت میں حکومت بنانے کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہونے دیا۔ اگرچہ انتہاپسند لیڈر میرین لے پین کی قیادت میں نیشنل ریلی نے پہلی بار پارلیمانی انتخاب میں ایک سو سے زیادہ نشستیں حاصل کی ہیں۔
فرانس کی 577 رکنی قومی اسمبلی میں کسی پارٹی کو واضح اکثریت حاصل نہیں ہوئی۔ البتہ دو باتوں نے فرانس ہی نہیں بلکہ یورپ بھر میں مبصرین کو حیران کیا ہے۔ ایک تو یہ اندازہ کیا جا رہا تھا کہ نیشنل ریلی پارلیمانی انتخابات میں سب سے بڑی پارٹی بن کر سامنے آئے گی اور اس طرح اس پارٹی کے امیدوار جورڈن بارڈیلا فرانس کے اگلے وزیر اعظم ہوں گے۔ یہ خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکا لیکن نیشنل ریلی نے اس کے باوجود اپنے انتخابی سفر میں شاندار کامیابی حاصل کی ہے۔ گزشتہ پارلیمنٹ میں پارٹی کو 89 نشستیں ملی تھیں البتہ اب ان کی تعداد 143 ہو گئی ہے۔ اسی لیے میرین لے پین نے انتخابی نتائج سامنے آنے کے بعد اسے اپنی شاندار کامیابی قرار دیا ہے۔ اس میں شبہ بھی نہیں ہونا چاہیے کہ اگر نیشنل ریلی کی مقبولیت یوں ہی برقرار رہی تو لے پین 2027 کے صدارتی انتخاب میں زیادہ سیاسی قوت سے انتخاب میں حصہ لیں گی۔ گزشتہ انتخاب میں انہیں صدر میکرون سے پندرہ فیصد کم ووٹ ملے تھے۔
تاہم فرانسیسی انتخابات کا اس سے بھی زیادہ حیران کن پہلو یہ ہے کہ صدر ایموئیل میکرون کی طرف سے 9 جون کو قومی اسمبلی توڑنے اور نئے انتخابات کروانے کے اعلان کے بعد قائم ہونے والا بائیں بازو کا اتحاد نیو پاپولر فرنٹ سب سے بڑی پارٹی کے طور پر سامنے آیا ہے۔ اس فرنٹ کو اگرچہ پارلیمنٹ میں اتنی اکثریت تو حاصل نہیں ہوئی کہ وہ تن تنہا حکومت بنا لے لیکن اس نے حیران کن طور پر 183 نشستیں جیت کر تمام جائزوں اور مبصرین کی قیاس آرائیوں کو غلط ثابت کیا ہے۔
ابھی تک اس حیران کن کامیابی کے عوامل کا جائزہ لینے کی کوشش ہو رہی ہے لیکن اس کامیابی کی ایک بڑی وجہ فرانسیسی عوام کی یہ پریشانی بھی تھی کہ امیگریشن اور یورپ کے ساتھ تعلق کے حوالے سے انتہا پسندانہ نظریات رکھنے والی پارٹی نیشنل ریلی ملک میں اقتدار پر قبضہ نہ کر لے۔ پولنگ کے حتمی نتائج سامنے آنے کے بعد فرانس اس فوری خطرے سے تو باہر نکل آیا ہے لیکن نیشنل ریلی کی پارلیمانی طاقت اور ووٹروں میں مقبولیت کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ایک کروڑ لوگوں نے نیشنل ریلی کے حق میں ووٹ ڈالے۔ یہ بہت بڑی تعداد ظاہر کرتی ہے کہ اس پارٹی کی سیاسی مقبولیت میں کمی کی بجائے اضافہ ہوا ہے۔
گو کہ یہ سیاسی صورت حال فرانس کے علاوہ یورپی سیاست کے تناظر میں بھی پریشان کن ہے جہاں قوم پرست پارٹیوں کے طور پر جانی جانے والی سیاسی گروہوں کی مقبولیت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ نیشنل ریلی کی طرز پر یہ پارٹیاں صرف امیگریشن ختم کرنے یا اس میں شدید کمی کرنے ہی کی حامی نہیں ہیں بلکہ ان کے سیاسی بیانیہ سے متعصبانہ انتہاپسندی اور منافرت کو ہوا ملتی ہے۔ اس طرح فرانس اور دیگر ممالک میں آباد غیر سفید فام تارکین وطن کی مشکلات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
یہ پارٹیاں اپنے ملکوں کو سفید فام تسلط کا نمونہ بنانے کا خواب دیکھتی ہیں۔ انہیں براہ راست نسل پرست تو نہیں کہا جاسکتا لیکن دوسری نسلوں اور عقائد و نظریات کے بارے میں ان کے سیاسی خیالات بیشتر یورپی ممالک میں مساوات پر استوار جمہوری طریقے کے خلاف ہیں۔ ابھی تک کسی یورپی ملک میں دائیں بازو کی کسی انتہاپسند پارٹی کو مکمل اقتدار حاصل نہیں ہوا لیکن گزشتہ ایک دہائی کے دوران میں سویڈن، ڈنمارک، نیدرلینڈ سے لے کر فرانس تک ان پارٹیوں کی مقبولیت میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ کئی ملکوں میں حکومتیں دائیں بازو کی انتہا پسند پارٹیوں کے تعاون سے ہی قائم ہوتی ہیں۔
ان میں تازہ ترین مثال نیدر لینڈ کی ہے جہاں اس سال کے شروع میں منعقد ہونے والے انتخابات میں انتہاپسند لیڈر گیئرٹ وائیلڈرز کی فریڈم پارٹی پارلیمنٹ کی سب سے بڑی پارٹی بننے میں کامیاب ہو گئی تھی۔ وائیلڈرز اس کامیابی کے بعد خود وزیر اعظم بننے پر اصرار کرتا رہا تھا تاہم دوسری پارٹیوں نے انتہاپسند فریڈم پارٹی کی قیادت میں حکومت میں حکومت کا حصہ بننے سے انکار کر دیا۔ بالآخر 7 ماہ کے سیاسی مذاکرات کے بعد تمام بڑی پارٹیوں کے لیڈروں نے حکومت میں شریک نہ ہونے کا فیصلہ کر کے گیئرٹ وائیلڈرز کا راستہ روکا۔ البتہ خفیہ قومی ایجنسی کے سابق سربراہ ڈک شوف کی قیادت میں 2 جولائی کو جس حکومت نے حلف اٹھایا ہے، اسے نیدرلینڈ کی سب سے زیادہ قدامت پسند اور دائیں بازو کی طرف جھکاؤ رکھنے والی حکومت کہا جا رہا ہے۔ سب سے بڑی پارٹی ہونے کی حیثیت سے فریڈم پارٹی حکومتی فیصلوں میں اہم کردار ادا کرے گی۔
اس ماحول میں فرانس میں نیشنل ریلی یا اس کی قیادت میں بننے والی حکومت پورے یورپ میں سراسیمگی پیدا کرنے کا سبب بنتی۔ اس سے ان بنیادی انسانی اصولوں سے گریز کی صورت حال پیدا ہو سکتی تھی جن پر یورپ کے بیشتر ممالک ناز کرتے ہیں اور دنیا بھر میں انسانی حقوق، آزادی رائے اور آزادانہ تجارت کے اصولوں کو عام کروانا چاہتے ہیں۔ البتہ نیشنل ریلی جیسی قوم پرست پارٹیاں اقلیتوں کے حقوق اور سماجی و سیاسی مرتبہ کم کرنا چاہتی ہیں جس سے یورپ کی سماجی و سیاسی شکل و صورت تبدیل ہو سکتی ہے۔
فرانس کے انتخاب سے چند روز قبل برطانیہ میں لیبر پارٹی کی شاندار کامیابی نے دائیں بازو کے سیاسی رجحان کو زک پہنچائی تھی۔ اگرچہ لیبر پارٹی کو اسرائیل کے بارے میں کمزور موقف رکھنے کی سزا بھی ملی ہے۔ بعض انتخابی حلقوں میں غزہ کی حمایت کو سیاسی ایجنڈے پر لانے کی بات کرنے والے ارکان نے لیبر امیدواروں کو ہرا دیا یا انہیں سخت مقابلے کا سامنا کرنا پڑا۔ اس تقسیم سے برطانیہ اور دیگر یورپی ممالک میں اسرائیلی جارحیت کے خلاف سامنے آنے والے غم و غصہ کا اندازہ بھی کیا جاسکتا ہے جو انسانی حقوق کے لیے یورپی عوام کی بنیادی خواہش کی عکاسی کرتا ہے۔ البتہ برطانیہ میں لیبر پارٹی کی مدمقابل کنزرویٹو پارٹی ایک ذمہ دار سیاسی پارٹی ہے۔ اگرچہ اس کی پالیسیاں بعض معاملات میں عوام دوستی اور انسانی حقوق کے حوالے سے پریشان کن ہوتی ہیں۔ اس پس منظر میں لیبر پارٹی کی کامیابی نے امید کی اس کرن کو روشن کیا تھا کہ یورپ کے عوام اب بھی دائیں بازو کے انتہا پسندانہ نظریات کے خلاف بند باندھنے کی خواہش رکھتے ہیں۔
فرانس میں یہی صورت حال دیکھنے میں آئی ہے۔ صدر ایموئیل میکرون نے گزشتہ ماہ کے شروع میں یورپی پارلیمنٹ کے انتخابات میں نیشنل ریلی کی واضح کامیابی کے بعد قومی اسمبلی توڑنے اور نئے قومی انتخابات کا اعلان کیا تھا۔ اگرچہ ان کی پارٹی اسمبلی الائنس کے اہم لیڈر اور وزیر اعظم گیبریل اتل اس فیصلے سے مطمئن نہیں تھے۔ کیوں کہ فرانسیسی قومی اسمبلی کی مدت ختم ہونے میں ابھی تین سال باقی تھے۔ ان لیڈروں کا خیال تھا کہ ملک میں غیر ضروری طور سے سیاسی بحران پیدا کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ البتہ صدر میکرون کا خیال تھا کہ اس موقع پر قومی انتخابات کروا کے فرانسیسی عوام کو یہ فیصلہ کرنے کا موقع دینا چاہیے کہ کیا وہ لے پین کی قیادت میں انتہاپسند نیشنل ریلی کا سیاسی راستہ روکنے میں دلچسپی رکھتے ہیں یا اسے ہی اقتدار دینا چاہتے ہیں۔
سیاسی مبصرین کے خیال میں یہ فیصلہ کرتے ہوئے صدر میکرون نے ایک مشکل سیاسی جؤا کھیلا تھا جس کا نتیجہ موجودہ نتائج کے برعکس بھی ہو سکتا تھا۔ رائے عامہ کے جائزوں اور انتخابات کے پہلے راؤنڈ سے یہی قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں کہ نیشنل ریلی انتخابات میں سب سے بڑی پارٹی بن کر سامنے آئے گی اور شاید اس کی کامیابی اس قدر بڑی ہو کہ وہ کسی سیاسی تعاون کے بغیر تن تنہا حکومت بنانے میں کامیاب ہو جائے۔
یہ قیاس آرائیاں بائیں بازو کی جماعتوں کے اچانک اتحاد نے ناکام بنا دی ہیں۔ تمام سیاسی پارٹیوں نے ایک لحاظ سے نیشنل ریلی کا سیاسی راستہ روکنے کے لئے غیر علانیہ تعاون بھی کیا۔ اہم حلقوں میں نیشنل ریلی کو ناکام کرنے کے لیے امیدواروں نے اپنے نام واپس لے لیے تاکہ ایک ہی امیدوار نیشنل ریلی کا مقابلہ کرسکے۔ اس کا مظاہرہ پیرس سے چند سو کلو میٹر کے فاصلے پر نیشنل ریلی کی لیڈر میرین لے پین کی بہن میری کیرولین لے پین کی ناکامی کی صورت میں بھی دیکھنے میں آیا۔ وہ محض اڑھائی سو ووٹوں سے ناکام ہوئیں کیوں کہ حکمران اسمبلی الائنس کے امیدوار نے اپنا نام واپس لے کر بائیں بازو کے امیدوار کو کامیاب کروانے میں کردار ادا کیا۔ اسی لیے نیشنل ریلی کے لیڈر جورڈن بارڈیلا نے اس سیاسی حکمت عملی کو ناجائز سیاسی ہتھکنڈا قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ہمیں ہرانے کے لیے غیر فطری اتحاد بنائے گئے۔ ان پارٹیوں نے ایک دوسرے سے تعاون کیا جو کسی سیاسی ایجنڈے پر اکٹھے نہیں ہو سکتیں‘ ۔
انتخابات میں اگرچہ جین لک میرونچین کی قیادت میں نیو پاپولر فرنٹ نے شاندار کامیابی حاصل کی ہے لیکن اس فرنٹ کو بائیں بازو کے کامیاب ہونے والے دیگر ارکان کو ساتھ ملا کر بھی حکومت بنانے کے لیے 289 ارکان کی حمایت حاصل نہیں ہو سکی۔ اس لیے پاپولر فرنٹ کو یا تو اقلیتی حکومت بنانا پڑے گی۔ یا انہیں میکرون کی سینٹرسٹ پارٹی اسمبلی الائنس کے ساتھ مل کر حکومت بنانا ہوگی۔ فرانس میں سیاسی اتحاد کی کوئی خاص روایت موجود نہیں ہے، اس لیے مبصرین کا خیال ہے کہ آئندہ چند روز یا ہفتے حکومت سازی کے حوالے سے مشکل ثابت ہوسکتے ہیں۔ جبکہ پاپولر فرنٹ کے شعلہ بیان لیڈر میرونچین کا کہنا ہے کہ صدر میکرون فوری طور سے انہیں حکومت سازی کی دعوت دیں۔ صدر میکرون نے اپنی پارٹی کے ساتھ طویل بات چیت کے بعد فوری طور سے وزیراعظم گیبریل اتل کا استعفی فوری طور سے قبول نہیں کیا اور انہیں بدستور کام کرتے رہنے کی ہدایت کی ہے۔
صدر میکرون کے لیے انتخابات کا یہ پہلو بھی اطمینان بخش ہونا چاہیے کہ عام اندازوں کے برعکس ان کی پارٹی اسمبلی الائنس مکمل طور سے ناکام نہیں ہوئی۔ اگرچہ اسے پہلے جیسی اکثریت تو حاصل نہیں ہوئی لیکن وہ اب بھی قومی اسمبلی کی دوسری بڑی پارٹی ہے اور اسے 163 سیٹیں حاصل ہوئی ہیں۔ اس حیثیت میں اسے وزارت عظمی کے لیے تو شاید پاپولر فرنٹ کی حمایت حاصل نہ ہو سکے لیکن حکومت سازی میں اس کے اثر و رسوخ کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
حکومت سازی سے جڑے مسائل سے قطع نظر فرانسیسی عوام نے نیشنل ریلی کو اقتدار سے دور رکھنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ متعدد شہروں میں پرجوش ریلیوں کے ذریعے خوشی کا مظاہرہ بھی کیا گیا ہے۔ اسی طرح یورپ بھر میں یہ پیغام ضرور گیا ہے کہ عوام انتہاپسند سیاسی گروہوں کا راستہ روکنے کا قصد رکھتے ہیں اور جمہوریت بدستور بنیادی چیلنجز کا سامنا کرنے کی سکت رکھتی ہے۔ اب نیشنل پاپولر فرنٹ کے لیڈر اور دیگر سیاسی عناصر باہمی اشتراک سے نیشنل ریلی کی عوامی مقبولیت میں اضافے کا راستہ روک سکتے ہیں۔ البتہ اگر یہ اتحاد اور سیاسی گروہ باہمی چپقلش کا شکار ہو گئے تو اس کا فائدہ لے پین اور نیشنل ریلی ہی کو ہو گا۔


