رواج کی اذیت سے ثقافت کی اذیت تک!
قبائلی اضلاع میں خواتین کی حیثیت! ”رواج“ کا مطلب عام طور پر کسی مخصوص عمل یا طریقے کو بیان کرتا ہے جو کسی مجتمع یا سماج میں معمول ہوتا ہے، یہ ایک سماجی یا ثقافتی معیار کو ظاہر کرتا ہے جو افراد کے مابین اخلاقی اور روایاتی تعلقات کو قائم رکھنے میں مدد فراہم کرتا ہے، رواج عموماً ایک معین گروہ یا مجتمع کی زندگی میں اخلاقی اور ثقافتی اقدار اور معاشرتی انتظامات کو ظاہر کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے!
خیبر پختونخوا کے قبائلی علاقوں کے رسم رواج اور ثقافت بہت اہمیت کے حامل ہے، ہر قسم کے رسم و رواج کو ہم اسلامی حکم کی طرح دیکھتے ہیں۔
زیادہ تر رسم و رواج عورتوں پر ہی لاگو کرتے ہیں جس کا دین کے ساتھ کوئی مشابہت نہیں بلکہ اسلام میں نا جائز قرار دیے ہیں خیبر پختونخوا کے علاقوں میں خواتین کی حیثیت یکساں نہیں ہے، جو رشتہ داری، سماجی حیثیت، سیاسی منظر نامے اور معاشی پس منظر جیسے عوامل سے متاثر ہے۔ مقامی رسوم و رواج اور روایات جو مردانہ برتری کو برقرار رکھتی ہیں، انتہائی عمل میں حصہ ڈالتی ہیں، جیسے کہ قبائل کے درمیان تنازعات کو حل کرنے کے لیے عورتوں کی فروخت یا تبادلہ، یہ طرزِ عمل اسلامی اصولوں، قومی قوانین اور بین الاقوامی اصولوں کے بالکل برعکس ہیں۔
جرگہ نظام، روایت میں گہرائی سے جڑا ہوا ہے، جرگہ کا نظام خواتین کو نقصان دہ رسوم و رواج کے خلاف مناسب تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہو سکتا ہے، جرگے کے اندر کیے گئے فیصلے بین الاقوامی معیارات یا خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے بنائے گئے قومی قوانین کے مطابق نہیں ہو سکتے، جس کی وجہ سے خواتین روایتی اصولوں کے ذریعے منظور شدہ زیادتیوں کا شکار ہو جاتی ہیں۔ قبائل کے درمیان تنازعات کو حل کرنے کے لیے عورتوں کی فروخت یا تبادلہ کیا جاتا ہے۔
خیبر پختونخوا کے قبائلی اضلاع میں جب کوئی مرد جذباتی قدم اٹھاتا ہے اور کسی شخص کو قتل کرتے ہیں پھر اس تنازعہ کو حل کرنے کے لئے عورتوں کا تبادلہ کیا جاتا ہے۔
قبائلی ضلع شمالی وزیرستان ہمزونی میسوری کا رہاشئی نائب اللہ ولد صابرین کو جب بحرین میں قبائلی ضلع خیبر سے تعلق رکھنے والے عمران نامی شخص نے کلہاڑی کے ذریعے شدید زخمی کیا ایک سال بعد اس تنازعہ کو حل کرتے وقت عمران کے مامو نے تین لڑکیوں کو دینے کی بات کی۔
اس طرح لڑکیوں کی زندگی برباد کرنے کا ایک رسم و رواج موجود ہے۔
دوسری طرف اگر کوئی لڑکی منگنی ہونے کے باوجود شادی سے انکار کرنے پر یہی لڑکی کسی دوسرے ضلع میں شادی کرنی ہوگی۔ اگر لڑکے نے منگنی ہونے کے باوجود شادی سے انکار کیا پھر لڑکے کے اوپر یہ قانون لاگو نہیں ہو گا۔ قبائلی اضلاع میں ذات پات سے ہٹ کر شادیاں غیر معمولی اور ممنوع سمجھی جاتی ہیں، قبائلی ضلع زیریں جنوبی وزیرستان میں ایک نوجوان فرشتہ جیسی خوبصورت لڑکی کے تجربے نے اس داستان میں ایک پُرجوش پرت کا اضافہ کیا۔ بچپن میں منگنی ہونے کے باوجود اس کے اپنے کزن سے شادی سے انکار نے جرگے کو یہ حکم جاری کرنے پر مجبور کیا کہ اسے اپنی ذات سے باہر اور کسی دوسرے ضلع سے شادی کرنی چاہیے۔ اس فیصلے نے اسے تکلیف کی حالت میں چھوڑ دیا ہے، جو ان کمیونٹیز میں روایتی اصولوں کو چیلنج کرنے والوں کو درپیش مشکلات کی عکاسی کرتا ہے۔


