خواتین کا عالمی دن – بی بولڈ فار چینج

چلیے ایک نظر کچھ اور اعدادوشمار پر ڈالتے ہیں۔
عورت فاؤنڈیشن کی ایک رپورٹ کے مطابق ہر روز اوسطًا 8 خواتین کو ریپ کیا جاتا ہے اور اس تعداد کا نصف کم عمر بچیاں ہیں۔ اور کچھ ریپ تو پنچائیت اور جرگوں کے فیصلوں پر عمل درآمد کے لیے کیے جاتے ہیں اور یہ فیصلے عمومًا خاندانی وقار کے تخفظ میں ہوتے ہیں۔ یہ کونسا وقار ہے جو کسی کی کو بے عزت کر کے حاصل ہوتا ہے۔ عورت فاؤنڈیشن کی رپورٹ 2010 کے مطابق خواتین پر تشدد کی شرح میں 7.8 فیصد اضافہ ہوا۔ جبکہ عورت فاؤنڈیشن کی رپورٹ 2015 کے مطابق اس اضافے کی شرح میں گزشتہ 5 سالوں میں 49 فیصد اضافہ ہوا۔
کمیشن برائے انسانی حقوق کے 2011 کے اعداوشمار کے مطابق اس سال 2903 خواتین کو ریپ کیا گیا جن میں 2581 کا تعلق پنجاب سے تھا۔ اغوا، ریپ اور قتل اس سال کے ٹاپ تھری جرائم رہے۔ اسی سال میں 1790 خواتین کو مختلف وجوہات کی بنا پر قتل بھی کیا گیا جن میں سے 791 قتل غیرت کے نام پر کئے گئے۔ ایک اور حالیہ رپورٹ کے مطابق 15 ستمبر 2015 تک 8648 کیسز رپورٹ ہوئے جن میں سے 90 تیزاب پھینکنے کے، 72 جلانے کے، 481 گھریلو تشدد کے، 860 غیرت کے نام پر قتل کے، 268 جنسی تشدد کے اور 535 تشدد کے۔
یاد رہے بہت سے کیسز تو رپورٹ ہی نہیں ہوتے۔ ان کے تو کوئی اعداد و شمار ہی نہیں ہیں۔ بھیڑ بکریوں کو بھی ایسے ذبح نہیں کیا جاتا ہوگا جس طرح اس ملک میں خواتین کو کیا جاتا ہے۔

میرا ایک سوال ہے اس سسٹم سے، ان ٹھیکداروں سے کہ کیا تم لوگ عورت کو انسان نہیں سمجھتے؟ ان کے ساتھ غیر انسانی سلوک کرتے وقت آپ مردوں کو کوئی سنت نبویﷺ یاد نہیں آتی؟ یا سب کچھ اپنے مفادات کے لیے ہوتا ہے؟ اور خواتین سے بس اتنی سی درخواست ہے کہ بی بولڈ فار دا چینج۔ کیونکہ تمہارا لحاظ اور خاموشی ان درندوں کو مظالم کا مزید موقع فراہم کرتے ہیں۔ تو کچھ تو ہمت کرنی پڑے گی۔ کسی موسیٰ کا انتطار مت کرنا۔

