مون سون کی تباہ کاریاں اور ہماری ذمہ داریاں
جون کا مہینہ پاکستانیوں کے لیے کسی بھی حوالے سے خوش آئندہ نہیں رہا۔ چاہے حکومت کی طرف سے پیش کیا گیا نیا بجٹ ہو، ورلڈ کپ میں پاکستان بدترین کارکردگی یا پھر سورج کی جھلسا دینے والی گرمی، ہم پاکستانیوں پر یہ مہینہ کڑا ہی گزرا ہے۔
اللہ اللہ کر کے آزمائش کا یہ مہینہ گزر ہی گیا اور اب جولائی کے آغاز سے ہی ہلکی پھلکی بارشوں کی وجہ سے گرمی کا زور آہستہ آہستہ ٹوٹ رہا ہے۔
پاکستان میں موسمیاتی پیش گوئی کے ادارے میٹرولوجی ڈیپارٹمنٹ کے مطابق 3 جولائی سے پاکستان میں مون سون ہوائیں شدت کے ساتھ ملک کے بالائی حصوں میں داخل ہو چکی ہیں۔ جو کہ خوش آئندہ بات ہے مگر اب ہم پاکستانیوں کے سامنے ایک اور آزمائش سینا تانے کھڑی ہے۔
گرمی کے ستائے لوگوں کو جس شدت کے ساتھ مون سون کا انتظار رہتا ہے، موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے اس کے اثرات اتنے ہی شدید ہوتے ہیں۔ 2024 کی گلوبل کلائمیٹ رسک انڈیکس رپورٹ کے مطابق پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثر ہونے والا پانچواں بڑا ملک ہے۔
مون سون کی بارشیں، رحمت یا زحمت؟
ویسے تو بارش کو رحمت کہا جاتا ہے لیکن حالیہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ہمارے لیے مون سون کا موسم کئی لحاظ سے زحمت بنتا جا رہا ہے۔
پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور اس کی معیشت کا 23 فیصد اور لیبر فورس کا 42 فیصد حصہ زراعت پر انحصار کرتا ہے۔ مون سون کا موسم جہاں زرعی شعبے کے لیے مفید ہے اور اس موسم میں ہونے والی مناسب بارشوں سے فصلوں اور پھلوں کی پیداوار بہتر ہوتی ہے۔ وہی ضرورت سے زیادہ بارشیں پاکستان کے اقتصادی، توانائی کے شعبے، فوڈ سیکورٹی اور آبی ذخائر پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔
مون سون کے دوران شدید بارشوں سے آنے والے سیلاب سے نا صرف انسانی جانوں، املاک، انفراسٹرکچر اور فصلوں کو نقصان پہنچاتا ہے بلکہ کم آمدنی والے طبقہ پر بھی منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔ اور نتیجتاً ملکی معیشت کو ہر سال اربوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ جس کی زندہ مثال 2022 کا سیلاب ہے۔ اس تباہ کن سیلاب میں 1739 انسانی جانیں ضائع ہوئیں اور پاکستانی معیشت کو دو اعشاریہ تین ٹریلین روپے کا نقصان پہنچایا۔
مون سون کے اثرات
پاکستان پہاڑوں، دریاؤں اور میدانوں سے گھرا ہوا ایک خوبصورت سرزمین ہے لیکن ہر سال مون سون کے موسم اور حکومت کی جانب سے ناقص انتظامات اس پر گہرے منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔
پہاڑی علاقوں میں ہر سال مون سون کی بارشوں میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوتی ہے۔ بارشوں کے دوران آنے والے سیلابی ریلوں سے ایک جانب انسانی جانوں، نجی و سرکاری املاک کو نقصان پہنچتا ہے، بلکہ پالتو جانوروں کے ساتھ ساتھ زمینی کٹاؤ کی وجہ سے فصلوں اور پھلدار درختوں کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔ پہاڑی علاقوں میں زیادہ تر لوگوں کا معاشی انحصار انہیں فصلوں، پھلدار درختوں یا پھر پالتو جانوروں پر ہوتا ہے۔ دیہی علاقوں میں مون سون کی وجہ سے ہونے والے معاشی نقصان کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ البتہ اس معاشی نقصان کے بڑھتے ہوئے اثرات اب بتدریج نمایاں ہو رہے ہیں اور لوگ بڑی تعداد میں پہاڑی علاقوں سے شہروں کی طرف منتقل ہو رہے ہیں۔
میدانی علاقوں میں مون سون کے منفی اثرات اور بھی مہلک اور دیر پا ہے۔ مون سون کے دوران آنے والے سیلاب نہ صرف شہروں میں انفرا سٹرکچر کو بری طرح متاثرہ کرتے ہیں بلکہ کئی بیماریاں پھیلانے کا باعث بنتے ہیں۔ بجلی، ٹیلی فون، انٹرنیٹ، سیوریج کا نظام، غرض ہر وہ چیز ان بارشوں سے متاثر ہوتی ہے جس کا براہ راست تعلق معیشت کے ساتھ ہے۔ 2022 میں زراعت سے جڑے لوگوں کا نقصانات کا اندازہ کھربوں میں لگایا گیا ہے جس میں فصلوں کی تباہی اور پالتو جانوروں کا نقصان شامل ہیں۔
اس موسم میں ہونے والی طوفانی بارشیں حالیہ سالوں میں پنپتی سیاحت کی صنعت کو بھی مسلسل نقصان پہنچا رہی ہیں۔
غرض کہ مون سون کا موسم ایک جانب گرمی کی شدت کو کم کرتا ہے تو دوسری جانب اکثر و بیشتر عام آدمی پر قہر بن کر ٹوٹتا ہے۔
مون سون کے اثرات کو کیسے کم کیا جا سکتا ہے
مون سون کا سلسلہ پاکستان کے ساتھ ساتھ بھارت، بنگلہ دیش، سری لنکا اور دیگر ممالک میں بھی ہوتا ہیں۔ لیکن شدید موسمیاتی تبدیلیوں اور ناقص انتظامات کی وجہ سے پاکستان پر اس کے اثرات باقی ممالک سے زیادہ مرتب ہوتے ہیں۔ جس کی وجہ سے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسے مشکل وقت میں حکومت اور عوام دونوں کو چاہیے کہ اپنے اپنے حصے کی ذمہ داریاں سرانجام دیں۔
حکومت کو چاہیے کہ مون سون کا موسم شروع ہوتے ہی تمام متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ رہنے کا حکم دے۔ بارش کے پانی کی نکاسی جو کہ سیلاب کی وجہ بنتا ہے، اس کے لیے پہلے سے ہی تمام انتظامات کرنے چاہیے۔ وہ علاقے جہاں پر سیلاب کا خدشہ زیادہ ہوتا ہے وہاں کے مقامی لوگوں کو کسی محفوظ متبادل جگہ پر منتقل کیا جائے۔
اسی سلسلے میں حالیہ مون سون الرٹ کے بعد وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف نے منگل کے روز میٹنگ میں متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ رہنے کا حکم دیا ہے۔
اسی طرح ہم پر بھی کچھ ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں جیسا کہ:
> حکومت کی جاری کردہ احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل درآمد کرنا چاہیے۔
> طوفانی بارشوں اور سیلاب کی صورت میں غیر ضروری طور پر گھروں سے نکلنے سے پرہیز کرنا چاہیے۔
> ہمیشہ موسم کی صورتحال سے باخبر رہنا چاہیے۔
> حکومت کی جانب سے خطرناک قرار دیے گئے علاقوں کو بر وقت خالی کر دیا جائے۔
> سیلاب زدہ علاقوں میں اپنی استعداد کے مطابق متاثرہ لوگوں کی مدد کرنی چاہیے۔
مون سون کا موسم جہاں ایک طرف ہمارے چہرے پر رونق لانے کا سبب بنتا ہے وہیں دوسری جانب اپنے ساتھ آسمانی بجلی، طوفان اور سیلاب کی تباہ کاریاں بھی لاتا ہے۔ جس کی وجہ سے لوگوں کو شدید پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس لیے ایسے وقت میں ہمیں چاہیے کہ اپنا اور اپنے پیاروں کا بہت خیال رکھیں اور حکومت کو چاہیے کہ بروقت انتظامات کی طرف توجہ دے، تا کہ اس موسم میں ہونے والے نقصانات کو کم سے کم کیا جا سکے۔

