جماعت اسلامی بڑی انتخابی جماعت کیوں نہ بن سکی

میرے خیال میں اس کی دو بڑی وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں لسانیت، مذہب، قومیت اور صوبائیت کے لحاظ سے بہت تقسیم ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی، پختونخوا ملی عوامی پارٹی، قومی وطن پارٹی پختون قومیت، نیشنل پارٹی بلوچ قومیت، اور ایم کیوایم مہاجر قومیت کی بنیاد پر سیاست کرتی ہیں۔ مذہبی جماعتیں اسلام ، کسی خاص فرقہ اسلام کے پرچار اور نفاذ اسلام پر سیاست کرتی ہیں جن میں جماعت اسلامی، جمعیت علمائے اسلام کے دونوں گروپ اور کچھ اور چھوٹی جماعتیں شامل ہیں۔ یہ تمام جماعتیں کسی ایک خاص گروپ کو اپیل کرتی ہیں جس وجہ سے یہ بس ان گروپس میں قابل قبول ہوتی ہیں مگر دوسرے مکتبہ فکر کے لوگوں اور دوسری قومیت کے لوگوں کو ان گروپس سے تعصب پیدا ہو جاتا ہے جس وجہ سے یہ قومی سطح پر نہیں ابھر سکتیں۔پیپلزپارٹی کا نعرہ روٹی ،کپڑا اورمکان، مسلم لیگ کا نعرہ ترقی اور خوشحالی اور تحریک انصاف کا نعرہ انصاف اور کرپشن فری پاکستان ہے۔ یہ نعرے ہر مکتبہ فکرکے لوگوں کو متاثر کرتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ان جماعتوں میں مذہبی علما بھی شامل ہیں، غریب طبقہ بھی، امرا اور اشرافیہ بھی، مسلم بھی اور غیر مسلم بھی۔اس لئے یہ جماعتیں انتخابات میں پورے ملک سے کامیابی حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہیں مگر جماعت اسلامی ایسا نہ کر سکی کیونکہ جماعت نے مذہبی ووٹ بینک کو ٹارگٹ کیا اور وہ بھی کئی حصوں میں بٹ گیا۔
دوسری بڑی وجہ یہ ہے کہ پاکستان کی جمہوریت اور جمہور یعنی عوام سیاسی شعور کے اس مقام پر ابھی نہیں پہنچے جہاں ووٹ بس پارٹی کو ملے، امیدوار کو نہیں۔ پاکستان میں وہ جماعت الیکشن جیتتی ہے جس کے پاس ہر نشست پر مضبوط امیدوار ہو یعنی کوئی پیر، وڈیرا، جاگیردار یا بڑا وکیل ہو۔ تینوں بڑی جماعتوں کے پاس اس طرح کے امیدوار ہیں مگر جماعت اسلامی کے پاس نہیں۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ جماعت کو ایسے امیدوار میسر نہیں بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ جماعت اسلامی نے امیدوار کے لیے جو شخصی اور اخلاقی معیار بنایا ہوا ہے اس پر یہ لوگ پورا نہیں اترتے۔ نظریاتی لحاظ سے تو جماعت اسلامی خراج تحسین کی حق دار ہے مگر عملی سیاست میں جماعت اسلامی کی ناکامی کی یہ ایک بڑی وجہ ہے۔

