کیا اس لالہ زار کے سب رنگ پھیکے ہیں؟


سقراط سے جب لوگوں نے سوال کیا کہ تم نوجوانوں کی عقل کو پراگندہ کیوں کر رہے ہو؟ تو جواب آیا کہ ایسی زندگی جینے کا فائدہ نہیں جس میں تسخیر نہ ہو۔ تسخیر سے اس کی مراد اپنی ذات اور عقل و دانش کو پرکھنا اور اپنی ذات کو پہچاننا ہے۔ جس کی بنیاد ایک ایسی زندگی ہے جس میں اپنی حقیقی جبلت اور صلاحیت کو پرکھنا ہے۔

بہترین زندگی کی موشگافیوں کو کن اصولوں پر پرکھا جاسکتا ہے یا کیسے ایک بہترین زندگی گزاری جا سکتی ہے؟

اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک لالہ زار میں مختلف النوع پھول پائے جاتے ہیں اور جس کی خوبصورتی کے معیار اور رنگ ہر آنکھ کو مختلف نظر آتے ہیں۔ یاد رہے اس لالہ زار میں خاردار پیڑ پودے بھی ہیں اور خونخوار جانور بھی۔

کسی کے نزدیک گلاب کا پھول جو کہ نہایت ہی دلکش معلوم ہوتا ہے، اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ زندگی بہت خوبصورت ہے بالکل ایک گلاب کی طرح جس کے وجود کا مقصد محض خوشبو بکھیرنا اور دلکش نظر آنا ہے گلاب اپنی زندگی خود پسندی میں گزارتا ہے۔ لیکن معاشرے کی اس تیز رفتار ارتقا اور پیرہن نے اس گلاب کی شبیہ تھوڑی بدل دی ہے آج، کئی لوگوں کے نزدیک، یہ گلاب ایک بہترین زندگی اس لالہ زار میں گزار رہا ہے جس کا مقصد خوشی کا ارتکاب کرنا ہے چاہے وہ تسخیر کے ذریعے ہو یا پھر اپنی ذات سے باہر سوچنا ہو۔ گلاب خوشبو ضرور بکھیرتا ہے لیکن اس خوشبو سے دوسرے لوگ بھی مستفید ہوتے ہیں۔

اس لالہ زار میں بہترین زندگی کی ڈیفینیشن اتنی آسان نہیں کیوں کہ یہاں ہر پھول (فلسفی و مفکر ) ذی شعور ہے اور اپنی ایک تشریح بیان کرتا ہے۔

اس لالہ زار میں تھوڑی ہی فاصلے پر جائیے تو آپ کو نرگس کے پھول ملیں گے جس کا رنگ زرد اور پھیکا ہے نرگس کے پھول کے لئے زندگی بے رنگ ہے جس کا کوئی مقصد نہیں نہ جانے کب سے اس لالہ زار کو آباد کیے ہوئے ہیں اور مسلسل ایک ارتقائی مراحل سے گزر کر یہ نرگس کا پھول کی ایک شکل اوڑھے رکھا ہے۔ المیہ یہ ہے نرگس کا پھول بظاہر دلکش معلوم ہوتا ہے لیکن اس پھول میں ایک نا امیدی کی ایک رمز ہے جو کہ گردش حالات نے اسے نوازی ہے۔

لالہ زار کو بیل کے پودوں نے بھی آباد کیا ہوا ہے جس کے لیے زندگی جہد مسلسل کا نام ہے۔ ایسی جدوجہد جس میں بیل کے پودے کو محض قد و قامت (سماجی حیثیت ) اور بے ہنگم شاخوں ( مادی تعاقب ) کے علاوہ کچھ نہیں ملتا۔ یہ بیل کا پودا بے اعتنائی سے کسی دوسرے درخت پر اپنا تسلط قائم کر لیتا ہے۔

کیا یہ پھول اپنی بہترین زندگی گزار رہے ہیں؟

نہیں! کیوں کہ ان پھولوں کی زندگی میں ایک جذبہ ارادیت اور شفقت کا فقدان ہے۔ گلاب جو کہ خود پرستی کا قائل ہے جس کو لگتا ہے زندگی محض خوش رہنا اور اپنی خواہشات کی تکمیل ہے جبکہ نرگس کے پھول کی زندگی بے مطلب ہے۔

میرے مطابق ایک بہترین زندگی وہ ہے جس میں آپ خود کو فتح کر لیتے ہیں اور فتح کے بعد خود شناسی آتی ہے جس میں آپ اپنے آپ کو پہچانتے ہیں کہ آپ کے اندر کون سا پھول ( کچھ کرنے کا جوش اور خوشی کا ذریعہ ) موجود ہے۔ کیا وہ کنول کا پھول ہے جو خود تو گدلے پانی میں رہتا ہے لیکن خودنمائی کی بہترین مثال قائم کیے ہوئے ہیں کہ دیکھنے والوں کو دلکش نظر آتا ہے۔

تسخیر، بہترین زندگی کے لیے، لازمی ہے جہاں آپ علم کا حصول، نئے تجربات اور خود شناسی ( محاکمہ ذات ) کرتے ہیں۔

زندگی ایک پھول کی طرح جمود کا شکار نہیں ہوتی جو ایک ہی لباس پوری عمر پہنے رکھتی ہے، ایک ہی شبیہ لے کر، زندگی جہد مسلسل بھی نہیں۔

بہترین زندگی، میرے مطابق، خوشحالی کا حصول، اور خود شناسی ہے۔

Facebook Comments HS