کنکریٹ میں گندھا پاکستانی معاشرتی رویہ
ری انفورسڈ کنکریٹ اور سیمنٹ جسے عرفِ عام میں آر سی سی کہا جاتا ہے ایک تعمیراتی اصطلاح ہے۔ اِس طریقہ تعمیر میں کنکریٹ اور سیمنٹ کے آمیزے کو زمین، دیواروں اور چھتوں پر بچھائے ہوئے لوہے کے جال پر اچھی طرح پھیلا دیا جاتا ہے۔ اس تمام تر عمل کے بعد اِس آمیزے کو کئی روز تک سوکھنے دیا جاتا ہے اور اس دوران اِس پر متعدد بار پانی کی بھر پور ترائی کی جاتی ہے۔ جس سے اِس آمیزے سے تیار شدہ ڈھانچے کی مضبوطی میں بے پناہ اضافہ ہو جاتا ہے۔ یہ طریقہ تعمیر ساری دنیا میں مستعمل ہے اور تمام بڑے بڑے ڈیمز، پل اور کثیر المنزلہ عمارات اس ہی کے مرہون منت ہیں۔
قارئین کرام پاکستانی معاشرتی تناظر میں آر سی سی کی اصطلاح محض تعمیراتی شعبے تک محدود نظر نہیں آتی۔ درحقیقت اِس اصطلاح کو پاکستانی معاشرے میں پائے جانے والے مختلف انسانی رویوں اور مجموعی سوچ پر با آسانی منطبق کیا جاسکتا ہے۔ بد قسمتی سے ملک میں بڑھتی ہوئی عدم بر داشت، غیر جمہوری طرز سیاست و حکومت اور ریاست کے اہم اداروں کا خود کو آئینی اور قانونی حدود و قیود سے ماورا سمجھنے کے علاوہ اپنے مخالفین کے خلاف طاقت کا بے دریغ استعمال کرنا ایک ایسی صورتحال کی منظر کشی کر رہا ہے جہاں ہمارے سیاسی، حکومتی اور ادارہ جاتی روئیے برسوں پر پھیلی نفرت، عقل کل سمجھنے کی غلط سوچ اور اپنے تمام تر مخالفین کو کچل دینے کی خواہش کی مسلسل آبیاری سے اب ایک مضبوط آر سی سی ڈھانچے میں تبدیل ہو چکے ہیں۔
متحدہ ہندوستان کی تاریخ میں کچھ ایسی ہی صورت حال 1857 کی جنگ آزادی کی ناکامی کے بعد دیکھنے کو ملی جب انگریز حکمرانوں نے طاقت کے نشے میں شکست خوردہ مسلمانوں پر ریاستی جور و ستم کا بازار گرم کر ڈالا اور ایسا کرتے ہوئے انہوں نے جنگ آزادی میں شامل دوسرے بڑے گروہ یعنی ہندووں کو اپنے قریب کر لیا۔ انگریزوں کا یہ اقدام اِس حقیقت کے مکمل بر عکس تھا کہ میرٹھ چھاؤنی میں استعمال کے لیے دیے جانے والوں کا رستوں میں گائے اور سور کی چربی کا استعمال کیا گیا تھا۔ جو ہندووں اور مسلمانوں دونوں کی مذہبی روایات کے خلاف تھا۔ چنانچہ اِن دونوں مذہبی گروہوں نے مشترکہ اعلان بغاوت کر دیا تھا۔ لیکن انگریزوں کی جانب سے ہندووں کو مکمل طور پر نظر انداز کرنا دراصل اُن کے ”تقسیم کرو اور حکومت کرو“ کے فلسفے کی بھر پور عکاسی کرتا تھا۔ بد قسمتی سے یہ فلسفہ حکمرانی آج بھی دنیا کے کئی ممالک بشمول پاکستان میں کافی حد تک رائج العمل ہے۔
انگریزوں کی جانب سے رکھے جانے والے اس ناروا سلوک میں ضرورت اِس امر کی تھی کہ اُن کے ذہن سے مسلمانوں کے خلاف موجود آر سی سی سوچ کو دور کیا جائے۔ لیکن ظلم و بر بریت اور خوف کی اُس پر آشوب فضا میں کسی مسلمان قائد میں اتنی اخلاقی جرات نہیں تھی کہ وہ یہ اہم فریضہ سر انجام دے سکے۔ اس تمام تر صورت حال میں بر صغیر کے عظیم رہنما سر سید احمد خان نے اِس کام کو سر انجام دینے کا بیڑا اُٹھایا۔ انہوں نے اپنے مشہور زمانہ کتابچے ”اسباب بغاوت ہند“ میں ان تمام حکومتی اقدامات کا بھر پور تجزیہ کیا جو مسلمانوں میں بے چینی اور بغاوت کا باعث بنے۔ سر سید کے اس تجزیے اور ان کی جانب سے دی گئیں سفارشات بالآخر رنگ لائیں اور انگریز حکمرانوں نے اپنی آر سی سی سوچ کو تبدیل کرتے ہوئے مسلمانوں سے مکالمے کا آغاز کیا جو بالآخر اُن کی مسلمانوں کے ساتھ ایک اچھی ”ورکنگ ریلیشن شپ“ کا پیش خیمہ ثابت ہوا۔ جس کے تحت مسلمانوں پر اعلیٰ تعلیم، سرکاری ملازمتوں اور سیاست میں حصہ لینے کے دروازے کھل گئے۔ جو بالآخر پاکستان کی آزادی کی صورت میں اختتام پذیر ہوئے۔
قارئین کرام ملک میں تیزی سے پھیلتی ہوئی سیا سی اور معاشی ابتری، حکومتی و ریاستی جور و ستم، انتخابات کی چوری، عدالتی فیصلوں کی تذلیل، ایک مخصوص جماعت کے کارکنوں اور اعلیٰ قیادت کی مسلسل نظر بندی اور ملک دشمن ثابت کرنے کی حکومتی اور ریاستی کوششیں اس زیرعتاب سیاسی جماعت کے اندر بڑھتی ہوئی مزاحمتی سیاست کی عین اس طرح آبیاری کر رہی ہیں جس طرح آر سی سی ڈھانچے کی تعمیر میں کی جاتی ہے۔ اس تمام تر صورت حال نے پاکستانی قوم کی واضح اکثریت اور حکومت وقت و دیگر اہم قومی اداروں کے درمیان عدم اعتماد اور بے یقینی کی ایک ایسی فضا قائم کر دی ہے جس میں ہر آنے والے دن حکومتی اور ریاستی اداروں کی قانونی موشگافیوں اور چیرہ دستیوں کے باعث مسلسل اضافہ ہو تا جا رہا ہے۔
بدقسمتی سے حکومت کی جانب سے پیش کردہ 50 سے زائد مجوزہ آئینی ترامیم جو کہ صریحاً ذاتی مفادات پر مبنی ہیں، نے اس بے اعتمادی کی فضا میں خطرناک حد تک اضافہ کر دیا ہے۔ پاکستانی قوم کو یہ بات ذہن نشین کرنا ہوگی کہ کوئی بھی ملک مضبوط حکومتی اور ریاستی اداروں کے بغیر سلامتی اور ترقی کا تصور ہی نہیں کر سکتا لیکن اس کے ساتھ ساتھ حکومت اور ریاستی اداروں کو اس بات کا ہمیشہ ادراک ہونا چاہیے کہ ان کی تمام تر طاقت اور جاہ و جلال محض عوام کی تائید اور حمایت کی مرہون منت ہے۔
ملکی تاریخ کے اس اہم موڑ پر ملکی ذرائع ابلاغ اور حقیقی اشرافیہ پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے جس کے تحت اُن پر لازم ہے کہ وہ اپنے کاروباری مفادات اور ذاتی منفعت کو بالائے طاق رکھ کر سر سید احمد خان کی قائم کردہ اعلیٰ اقدار کی پیروی کرتے ہوئے حکومت، اہم ریاستی اداروں اور زیر معتوب پاکستان تحریک انصاف کو ایک با معنی اور پر مقصد مذاکرات کے لیے ایک میز پر بٹھائیں۔ اِن مذاکرات کا مقصد تمام سیاسی قائدین اور کارکنوں کی فوری رہائی، تحریر اور تقریر کی آزادی، حکومتی اور ریاستی پر تشدد اقدامات کا خاتمہ، ملک میں آزاد اور منصفانہ انتخابات کا انعقاد اور اس کے نتیجے میں وجود میں آنے والی حکومت کو اقتدار کی فوری منتقلی ہو نا چاہیے۔ مزید براں اس معاہدے کے تحت تمام سیاسی، حکومتی اور ریاستی ادارے آئین اور قانون میں درج حدود و قیود کے اندر کام کرنے کے پابند ہوں گے۔ امید واثق ہے کہ ایسے کسی بھی معاہدے کی صورت میں ملک موجودہ غیر یقینی اور بد اعتمادی کی فضا سے نکل کر ایک بار پھر ترقی اور خوش حالی کی شاہراہ پر گامزن ہو سکتا ہے۔ بصورتِ دیگر ملک پر طاری موجودہ آر سی سی سوچ ملک کو کسی بڑے قومی المیے سے دو چار کر سکتی ہے۔
صاحب مضمون اپنی تمام تر معروضات کا اختتام مشہور فرانسیسی دانشور، ادیب اور نوبل انعام یافتہ البرٹ کامیو کے قول پر کرنا چاہتا ہے جس کے مطابق ”بد ترین احترام وہ ہے جو خوف پر قائم ہے”۔
انداز بیاں گرچہ بہت شوخ نہیں ہے
شاید کے تیرے دل میں اُتر جائے میری بات


