عصرحاضر کے کتے

پہلے کتے گھر کے باہر اب کتے گھر کے اندر رکھے جاتے ہیں۔پہلے کتے کو جانور ہی سمجھا جاتا تھا مگر ٓج کل بعض لوگ کتے کو اپنا بیٹا ہی تصور کرتے ہیں۔ میں نے اکثر لوگوں کو کتے پر ہاتھ رکھ کر کہتے سنا ہے کہ ’He is like my son.‘۔
عصر حاضر کے کتے بھی کافی تمیز دار ہیں۔پہلے کتے ہر آتے جاتے پر بھونکتے نظر آتے تھے مگر پھر یہ بھونکنا صرف پتلون شرٹ پہنے شخص یا گلی کے نئے مکین کے لئے مختص کردیا گیا مگر اب یہ بھونکنا بھی مفقود ہوگیا ہے۔اب کتے آرام سے پڑے رہتے ہیں نہ بھونکتے ہیں نہ کاٹتے ہیں ،بس مالک کے بلانے پرمالک سے بوس وکنار کر لیتے ہیں۔
جیسے شہروں اور دیہات میں انسانی معیار زندگی کا فرق ہوتا ہے۔بالکل ایسے ہی شہری اور دیہاتی کتوں میں بھی واضح تقسیم نظرآتی ہے۔شہری کتوں کو خوراک کے لئے گھومنا نہیں پڑتا،خوراک بروقت اور بکثرت مل جاتی ہے اور خوراک ملنے کے بعد شہری کتوں کو سیر کراتے بھی نظر آتے ہیں۔ شہری کتوں کو پتھر پڑنے کا ڈربھی نہیں ہوتا۔موسم کی شدت سے بھی یہ محفوظ رہتے ہیں ۔ اس کے برعکس دیہاتی کتوں کی زندگی سخت مشکلات کا شکار ہے۔ان کو خوراک کی کمی، موسمی شدت، بچوں کی شرارتوں اور بڑوں کے غیظ و غضب کا سامنا رہتا ہے۔ شہری کتے کھانے کے بعد اسے ہضم کرنے کے لئے گھومتے ہیں جبکہ دیہاتی کتے کھانے کی تلاش میں گھومتے ہیں۔ بیشتر دیہاتی کتے بہت ہی کتے ہوتے ہیں یہ شدت پسند اور بنیاد پرست ہوتے ہیں۔ یہ اس گئے گزرے دور میں اپنے آباو اجداد کی بھونکنے اور کاٹنے کی روایت کے امین ہیں۔ ان کو دیکھ کر ہی یقین آتا ہے کہ کتا واقعی بھونکنے اور کاٹنے والا جانور ہے ورنہ شہری کتوں نے تو کتوں کی ناک ہی کٹوا دی ہے۔ اب کتا کیوٹ ہوگا تو اس سے بھلا کون ڈرے گا اور جب کتے سے کوئی ڈرے گا نہیں تو اس کے کتا ہونے سے کیا فائدہ؟

