ڈگریوں کی لوٹ سیل
ہمارا تعلیمی نظام کبھی بھی مثالی نہیں رہا۔ ہم بچپن سے یہی پڑھتے آرہے ہیں کہ یہ نظام محض کلرک پیدا کر سکتا ہے۔ لیکن حالیہ کچھ عرصے سے اس میں کلرک پیدا کرنے کی بھی سکت نہیں رہی۔ اب یہ تھوک کے حساب سے بیروزگار پیدا کر رہا ہے۔ ان بیروزگاروں کی ڈگریوں پر درج CGPAدیکھیں تو عقل دنگ رہ جاتی ہے اور ہم جیسے عامیوں کو اپنی معمولی درجے کی ڈگریوں پر شرمندگی سی محسوس ہونے لگتی ہے۔
وطن عزیز میں تعلیم کی زبوں حالی پر اگر لکھنا شروع کیا جائے تو شاید (بلامبالغہ) عمر بیت جائے۔ بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے۔ لیکن یہ آرٹیکل اس کا متحمل نہیں ہو سکتا ۔ ہم فی الحال یونیورسٹی کی تعلیم کو ہی فوکس کرتے ہیں۔ ہمارے سٹوڈنٹس اعلیٰ ثانوی تعلیم (انٹرمیڈیٹ) مکمل کرنے کے بعد یونیورسٹیوں کا رخ کرتے ہیں یا ایسے اداروں میں داخلہ لیتے ہیں جو کسی نہ کسی یونیورسٹی سے الحاق ہوتے ہیں۔ ایک وقت تھا جب وطن عزیز میں گنی چنی یونیورسٹیاں تھیں۔
ان یونیورسٹیوں میں بھی کسی کسی خوش نصیب کو داخلہ ملتا تھا۔ باقی خلقت کو کالجوں میں ہی داخلہ لینا پڑتا تھا۔ ان کالجوں میں سالانہ سسٹم کے تحت امتحان ہوتے تھے۔ یعنی قدرے مشکل نظام تھا (مثالی وہ بھی نہیں تھا) ۔ بڑی مشکل سے سٹوڈنٹس کی فسٹ یا سیکنڈ ڈویژن آتی تھی۔ اب تو صورتحال بہت مختلف ہے۔ اب تو کھمبیوں کی طرح جگہ جگہ یونیورسٹیاں اگ آئی ہیں جو اپنی اپنی دکانیں کھولے دعوت عام دے رہی ہیں۔ بس آپ کی جیب میں پیسے ہونے چاہیں۔ اگر سرکاری یا نیم سرکاری یونیورسٹی میں آپ کا داخلہ نہیں ہوتا تو آپ کسی بھی پرائیویٹ یونیورسٹی میں داخلہ لے سکتے ہیں۔ میرٹ کی کوئی فکر نہیں۔
اب سرکاری و غیر سرکاری یونیورسٹیوں میں کیا پڑھایا جا رہا ہے؟ دنیا کے ہر مضمون میں بی ایس اور ایم ایس کروایا جا رہا ہے۔ آپ اخبار میں ان یونیورسٹیوں کا اشتہار دیکھیں یا ان کا پراسپکٹس پڑھیں، عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ طب، انجینئرنگ، کیمسٹری، فزکس، ریاضی، انگریزی، پولیٹکل سائنس، اردو، پنجابی، پشتو، کرمنالوجی، وغیرہ وغیرہ نجانے کون کون سے مضامین میں بی ایس، ایم ایس کروائے جا رہے ہیں۔ پاس ہونا چنداں مشکل نہیں۔
فیل ہونے کا چانس ہی کوئی نہیں۔ لاکھوں روپے فیس ڈگری کی قیمت ہی تو ہوتی ہے۔ معیار تعلیم، امتحانی نظام وغیرہ وغیرہ کی کسی کو پرواہ نہیں۔ بس ڈگری ملنی چاہیے۔ یونیورسٹیوں میں بک شاپس کے نام سے دکانیں موجود ہوتی ہیں۔ ان دکانوں سے نوٹس لیں۔ دو چار صفحے رٹا لگائیں اور سمیسٹر پاس کریں۔ محنت، تحقیق اور ریاضت کی کوئی ضرورت نہیں اور شاید گنجائش بھی نہیں۔
اب آتے ہیں اس بات پر کہ اتنا کچھ کرنے کے بعد اور اتنا پیسہ خرچ کرنے کے بعد ملتا کیا ہے؟ ان یونیورسٹیوں سے فارغ ہونے والے ہزاروں نوجوان جب باہر عملی میدان میں آتے ہیں تو شدید مایوسی ان کی منتظر ہوتی ہے۔ ہنر ان کے پاس کوئی ہوتا نہیں۔ نوکریاں ہیں نہیں۔ سرکار مجبور ہے اور نئی بھرتی تو کجا وہ بڑی سرکار (آئی ایم ایف) کے حکم پر پہلے سے موجود ملازمین کو نکالنے پر تلی ہوئی ہے۔ فیکٹریاں ویسے ہی تیزی سے بند ہو رہی ہیں۔
پرائیویٹ سیکٹر کی ویسے ہی کمر ٹوٹ چکی ہے۔ ان نوجوانوں کے پاس چوائس کیا بچتی ہے؟ چوائس یہی کہ بیرون ملک قسمت آزمائی جائے۔ اب میڈیکل اور (شاید) انجینئرنگ والے تو باہر جاکر کچھ نہ کچھ کما ہی لیں لیکن جنھوں نے اردو، انگریزی، پولیٹیکل سائنس، پنجابی وغیرہ وغیرہ میں بی ایس یا ایم ایس کی ڈگری لے رکھی ہے وہ کیا کریں؟ وہ بیرون ملک جاکر کیا کریں گے؟
ایک اور بات کہ ہمارے ہاں بھیڑ چال بھی بہت ہے۔ جس فیلڈ میں چار لوگوں کو اچھی نوکری مل جائے، سارا ملک اس طرف چل پڑتا ہے اور ایک نیا تعلیمی پروگرام شروع ہوجاتا ہے۔ چھ سات سال بعد علم ہوتا ہے کہ اب اس شعبہ میں گنجائش ہی نہیں رہی لیکن تب تک ان گنت نوجوان اس شعبے سے متعلق ڈگریاں حاصل کرچکے ہوتے ہیں۔ جیسے ماضی میں کامرس کی تعلیم کے ساتھ ہوا اور اب کمپیوٹر کی تعلیم کے ساتھ ہونے والا ہے۔
سیدھا سا ایک حل ہے کہ ہم چاہیں چار چار ڈگریاں حاصل کر لیں لیکن ہمیں کوئی نہ کوئی ہنر بھی لازماً سیکھنا ہو گا۔ اور اس ہنر کو میٹرک کے ساتھ یا میٹرک کے فوراً بعد سیکھنا شروع کرنا ہو گا۔ کوئی بھی ہنر سیکھا جاسکتا ہے۔ بالخصوص ٹیکنیکل شعبے کے حوالے سے ہمارے پاس کوئی نہ کوئی مہارت ہونا ضروری ہے۔ ایسی مہارت جو بیرون ملک بھی کارآمد ہو۔ فریج، اے سی، کمپیوٹر، لیپ ٹاپ، موٹرسائیکل، گاڑی وغیرہ کی مرمت کا کام، بجلی کی وائرنگ وغیرہ وغیرہ بے شمار کام ہیں جو سیکھے جا سکتے ہیں۔ ہمیں ”وائٹ کالر جاب“ کے شوق کو چھوڑنا ہو گا۔ کوئی بھی کام معمولی نہیں ہوتا۔ ہمیں محنت کی عظمت کو سمجھنا ہو گا اور یہ بھی کہ ہاتھ سے کمانے والا اللہ کا دوست ہوتا ہے۔
ایک بات واضح ہے کہ وطن عزیز میں جو سرکار ہے اس نے آپ کو نوکریاں ہرگز نہیں دینی کیونکہ اس کو ”اصل اور وڈی سرکار (آئی ایم ایف)“ سے اجازت ہی نہیں ملنی۔ اب جو بھی کرنا ہے، نوجوانوں نے اپنے بل بوتے پر ہی کرنا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ رسمی اور روایتی تعلیم کے ساتھ ساتھ کسی ہنر یا مہارت کو اپنی ترجیح بنائیں۔ آپ کسی بھی شعبے میں بی ایس اور ایم ایس کریں لیکن روزی روٹی کے لیے آپ کا ہنر یا مہارت ہی آپ کے کام آنی ہے۔ بلاشبہ تعلیم بہت ضروری ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہنر یا مہارت بھی اتنی ہی ضروری ہے۔

