شنگھائی تعاون تنظیم کا اجلاس اور پی ٹی آئی کا طرز عمل


شنگھائی تعاون تنظیم کا 23 واں سربراہی اجلاس بخیر و عافیت اختتام پذیر ہو گیا خبر یہ نہیں کہ پاکستان میں 27 سال بعد بہت بڑا بین الاقوامی ایونٹ منعقد ہوا ہے بلکہ خوش آئند بات ہے کہ جب پاکستان چاروں اطراف سے دہشت گردوں کے نشانے پر ہے اور کشیدہ سیاسی ماحول کی وجہ سے ایک بڑی سیاسی جماعت اپنے قائد کی رہائی کے لئے آئے روز ڈی چوک پر حملہ آور ہو رہی ہے۔ اس نے ایس سی او کانفرنس کو سبوتاژ کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔

اسلام آباد میں خوش اسلوبی سے سربراہی اجلاس کا انعقاد ہی بڑی خبر ہے۔ پاک بھارت وزرائے خارجہ کے درمیان باضابطہ مذاکرات کی میز تو نہ سجی لیکن بھارت کی درخواست پر کھانے کی میز پر جے شنکر اور سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی نشست اکٹھے لگائی گئی وزیر اعظم شہباز شریف اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار سے بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر نے سائیڈ لائن پر کرکٹ ڈپلومیسی سے دو طرفہ تعلقات امور پر بات چیت ہوئی ہے۔ اس کانفرنس کی سب سے بڑی کامیابی دونوں ملکوں کے درمیان وزرائے خارجہ کی سطح پر رابطہ کی بحالی ہے جس کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔ ایس سی او اجلاس کی کامیابی کا کریڈٹ نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کو جاتا ہے جن کی دن رات کی محنت سے کانفرنس کے شاندار انتظامات ہوئے ان کو بوجوہ وزارت خزانہ کا قلمدان نہیں سونپا گیا لیکن انہوں نے سفارتی محاذ پر کامیابی کے جھنڈے ضرور گاڑ دیے ہیں۔

سیاسی جماعتوں نے ڈی چوک کو ہائیڈ پارک بنا لیا ہے جب سے پی ٹی آئی سے اقتدار چھینا گیا ہے۔ اس نے تو اپنے احتجاج کی منزل ڈی چوک بنا لی ہے۔ شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس سے قبل ملائیشیا کے وزیر اعظم نے پاکستان کی سرزمین پر قدم رکھا تو وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے اپنا لشکر لے کر اسلام آباد پر چڑھائی کر دی اگلے روز چین کے وزیر اعظم لی چیانگ (جو شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں شرکت کے لئے بھی آئے ہیں۔) پاکستان کے سرکاری دورے پر آئے ان کا دورہ اس لحاظ سے غیر معمولی نوعیت کا تھا کہ پاکستان اور چین نے سی پیک 2 پر دستخط کرنا تھے۔ پی ٹی آئی نے عمران خان سے ملاقات کی اجازت دینے سے انکار کی آڑ میں ڈی چوک میں احتجاج کرنے کی کال دے دی شنگھائی تعاون اجلاس میں 9 ممالک کے سربراہان حکومت شرکت کر رہے تھے۔ پی ٹی آئی کی احتجاج کی کال کو چین سمیت ایس سی اوکے رکن ممالک نے قابل درخور اعتنا نہ سمجھا اور بڑے وفود کے ساتھ کانفرنس کو رونق بخشی۔

قبل ازیں 2014 ء میں پی ٹی آئی کے اسی طرز عمل کے باعث چینی صدر کا دورہ منسوخ ہو گیا تھا لیکن اب کی بار حکومت ڈٹ گئی اور جہاں ہر قیمت پر کانفرنس کرانے کے عزم کا اظہار کیا وہاں احتجاج کی کال پر پی ٹی آئی کی قیادت بھی خود اختلافات کا شکار ہو گئی۔ پی ٹی آئی کی احتجاج کے لئے تیاری نہ ہونے کے برابر تھی۔ کئی ماہ سے سیاسی منظر سے غائب رہنماؤں کی کال کو میدان عمل میں سرگرم رہنماؤں کی طرف سے پذیرائی نہ ملی اور پھر فیس سیونگ کے لئے ڈاکٹروں کی عمران خان سے ملاقات کی اجازت پر احتجاج کی کال واپس لے لی۔

جماعت اسلامی اور جمعیت علماء اسلام سمیت ہر سیاسی جماعت نے پی ٹی آئی کی قیادت کو ایس سی او اجلاس کے موقع پر احتجاج موخر کرنے کا مشورہ دیا تو اس نے کسی کے مشورے کو قبولیت کا شرف نہیں بخشا اور آخری روز محض عمران خان کی صحت یابی کے بارے میں ڈاکٹروں کی رپورٹ پر احتجاج کو موخر کر دیا۔ 2001 ء میں شنگھائی میں چین، روس، قازقستان، کرغزستان اور تاجکستان پر مشتمل یورشیائی سیاسی، اقتصادی اور عسکری تعاون کی تنظیم کا قیام عمل میں لایا گیا تھا۔ اسی سال ازبکستان کو بھی اس تنظیم کی رکنیت مل گئی اگر یہ کہا جائے بنیادی طور پر یہ چین، روس اور روس سے آزاد ہونے والی ریاستوں پر مشتمل کلب تھا تو مبالغہ آرائی نہیں ہو گی۔ 10 جولائی 2015 ء کو پاکستان اور بھارت کو بھی اس میں شامل کر لیا گیا دونوں ممالک 2005 ء سے اس تنظیم کے اجلاسوں میں مبصر کی حیثیت سے شرکت کر رہے تھے پھر 10 سال بعد ان کی رکنیت کی درخواست کو شرف قبولیت حاصل ہو گئی اب بیلاروس اور ترکمانستان مبصرین کی صف میں کھڑے ہیں۔

ایس سی او نے ایک اور مبصر ملک افغانستان کو بوجوہ کانفرنس میں شرکت کی دعوت نہیں دی۔ بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر کا خطاب اسی نقطہ کے گرد گھومتا رہا جو 22 ویں اجلاس کے موقع پر تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ امن کا مطلب دہشتگردی و انتہا پسندی کے خلاف سخت رویہ اختیار کرنا ہے۔ سرحد پار دہشتگردی، انتہا پسندی، علیحدگی پسندی جیسی سرگرمیاں جاری رہیں گی تو تجارت، عوامی سطح پر رابطے کا فروغ مشکل ہو جائے گا۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی اپنے خطاب میں اشارتاً کنایتاً وہ کچھ کہہ دیا جس کا وہ اپنے پڑوسی ممالک سے تقاضا کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا پاکستان خطے میں استحکام چاہتا ہے۔ افغان سرزمین کا دہشتگردی کے لئے استعمال روکنا ہو گا۔

ایس سی او کانفرنس کے اعلامیہ میں ممالک کے درمیان اختلافات اور تنازعات بات چیت اور مشاورت کے ذریعے حل کرنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ عالمی اتحاد برائے منصفانہ امن، ہم آہنگی اور ترقی کے لئے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے قرارداد منظوری کی تجویز کو فروغ دیا جائے گا۔ کانفرنس کے حوالے سے جے شنکر کی بھارتی ہائی کمیشن میں مارننگ واک اور سائیڈ لائن پر شہباز، اسحاق، شنکر کی غیر رسمی ملاقات کا زیادہ چرچا رہا۔ پاکستان میں اگلے سال فروری میں آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی منعقد ہو رہی ہے۔ دونوں اطراف سے اس بارے میں بات چیت کا آغاز ہوا نئی دہلی سرکار کے طرز عمل میں تبدیلی آئی ہے کہ نہیں اسلام آباد انتظامیہ کو انتظار ہے۔

پی ٹی آئی نے 15 اکتوبر کا احتجاج تو موخر کر دیا لیکن اس نے اگلے روز احتجاج کی ایک نئی کال دے دی بیرسٹر گوہر علی خان اور علی امین گنڈا پور 15 اکتوبر کو احتجاج کے حق میں نہیں تھے۔ پی ٹی آئی کے قانونی دماغ حامد علی خان نے بھی 15 اکتوبر کو احتجاج کے فیصلے سے اختلاف کیا ان کی رائے تھی کہ حکومت پی ٹی آئی کارکنان کو سخت سکیورٹی انتظامات کے تحت احتجاج نہیں کرنے دے گی۔ اس سے ہماری جگ ہنسائی ہو گی۔ علی امین گنڈاپور اور حماد اظہر کے درمیان تو تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔

کانفرنس ختم ہونے کے بعد کچھ مہمان ابھی اسلام آباد میں ہی تھے، صدر مملکت، وزیر اعظم سمیت پوری حکومت جاتی امرا میں نواز شریف کی جانب سے مولانا فضل الرحمنٰ کے اعزاز میں دی جانے والی ضیافت میں شرکت کے لئے پہنچ گئی۔ کراچی میں مولانا فضل الرحمٰن اور بلاول بھٹو زرداری کے درمیان آئینی ترمیم کے جن نکات پر اتفاق رائے ہوا ہے۔ اس پر نواز شریف سے بھی مہر تصدیق ثبت کروا لی گئی۔ وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار جو پہلے ہی شنگھائی میلہ لوٹ چکے تھے۔ وہ بھی جاتی امرا مذاکرات میں جا پہنچے لیکن 17 اکتوبر کا سورج طلوع ہوا تو وہ اسلام آباد میں موجود تھے۔ گویا وہ بیک وقت شنگھائی کانفرنس کے مہمانوں کی تواضع کر رہے تھے۔

جمعیت علما اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمنٰ کے بدلے ہوئے تیور حکومت کے لئے پریشان کن تھے۔ بالآخر 26 ویں آئینی ترمیم کی منظوری سے موجودہ حکومت نے سکھ کا سانس لیا ہے۔

Facebook Comments HS