آزادی اور تحریک پاکستان کے گمنام ہیروز
آزادی پاکستان اور تحریک پاکستان کی کامیابی کے پیچھے کئی گمنام ہیرو شامل تھے جنہوں نے اپنی زندگیوں کو وقف کر کے قوم کی خدمت کی۔ ان میں سے چند اہم شخصیات یہ ہیں :
1۔ مولانا محمد علی جوہر
مولانا محمد علی جوہر کا بھارت (انڈیا) کی سیاست میں اہم کردار تھا، خاص طور پر برطانوی راج کے خلاف تحریکوں میں۔ وہ ایک نمایاں قوم پرست رہنما، صحافی، اور خلافت تحریک کے بانیوں میں سے تھے۔ ان کا کردار کئی حوالوں سے اہم ہے :
1۔ خلافت تحریک: مولانا محمد علی جوہر نے خلافت تحریک کی قیادت کی، جو 1919 ء میں خلافت کے ادارے کو بچانے کے لیے شروع کی گئی تھی۔ یہ تحریک مسلمانوں کو برطانوی استعمار کے خلاف متحد کرنے میں اہم ثابت ہوئی اور ہندو مسلم اتحاد کی بنیاد بنائی۔
2۔ کانگریس میں کردار: مولانا محمد علی جوہر نے انڈین نیشنل کانگریس کے ساتھ بھی کام کیا اور انگریزوں سے آزادی کی جد و جہد میں شامل ہوئے۔ وہ گاندھی جی کے قریبی ساتھی تھے اور ”سوراج“ (آزادی) کے مطالبے میں اہم کردار ادا کیا۔
3۔ ہندو مسلم اتحاد: مولانا محمد علی جوہر نے ہندو مسلم اتحاد کو فروغ دیا اور انگریزوں کے خلاف مشترکہ جد و جہد کی حمایت کی۔ ان کی قیادت میں مسلمان اور ہندو دونوں ہی برطانوی سامراج کے خلاف ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوئے۔
4۔ تحریکِ عدم تعاون: مولانا محمد علی جوہر نے مہاتما گاندھی کے ساتھ تحریکِ عدم تعاون (Non۔ cooperation Movement) کی حمایت کی، جو کہ برطانوی حکومت کے خلاف ایک پرامن احتجاجی تحریک تھی۔ اس تحریک نے برطانوی حکومت کو ہندوستان میں اپنے اقدامات پر نظر ثانی کرنے پر مجبور کیا۔
5۔ صحافت: مولانا جوہر ایک ممتاز صحافی تھے اور انہوں نے ”کامریڈ“ اور ”ہمدرد“ جیسے اخبارات کے ذریعے قوم پرستی، آزادی اور مسلمانوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھائی۔ ان کے صحافتی مضامین نے عوام میں بیداری پیدا کی اور برطانوی حکومت پر تنقید کی۔
6۔ گول میز کانفرنس: مولانا محمد علی جوہر 1930 ء کی گول میز کانفرنس میں بھی شریک ہوئے، جہاں انہوں نے برطانوی حکومت سے ہندوستان کی آزادی کا مطالبہ کیا۔ تاہم، انہوں نے کانفرنس میں کہا کہ وہ زندہ رہتے ہوئے غلام ہندوستان میں واپس نہیں جائیں گے، اور وہیں لندن میں ان کا انتقال ہو گیا۔
مولانا محمد علی جوہر کی جد و جہد نے نہ صرف مسلمانوں بلکہ پورے ہندوستانی معاشرے پر گہرا اثر ڈالا، اور ان کا نام ہندوستان کی آزادی کی تحریک کے اہم رہنماؤں میں شامل ہے۔
مولانا محمد علی جوہر کا نام بہت مشہور ہے، لیکن ان کی قربانیاں زیادہ تر زیرِ غور نہیں آتیں۔ وہ آزادی کی تحریک کے ایک اہم لیڈر تھے اور آل انڈیا مسلم لیگ کے قیام میں بھی کردار ادا کیا۔
2۔ مولانا شوکت علی
مولانا شوکت علی، مولانا محمد علی جوہر کے بھائی تھے اور خلافت تحریک میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ وہ برطانوی سامراج کے خلاف سخت موقف رکھتے تھے اور مسلمانوں کے حقوق کے لئے انتھک جدوجہد کرتے رہے۔
3۔ بیگم مولانا محمد علی جوہر
بیگم مولانا محمد علی جوہر نے بھی تحریک پاکستان اور مسلم خواتین کی سیاسی و سماجی بیداری میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی قیادت میں خواتین نے جلسے، جلوس اور دیگر احتجاجی سرگرمیوں میں بھرپور شرکت کی۔
4۔ لیاقت علی خان
اگرچہ لیاقت علی خان پاکستان کے پہلے وزیراعظم بنے، لیکن تحریک پاکستان میں ان کی جدوجہد اور قربانیاں زیادہ تر زیرِ بحث نہیں آتیں۔ وہ قائداعظم محمد علی جناح کے قریبی ساتھیوں میں سے تھے اور تحریک کے اہم منتظمین میں شامل تھے۔
5۔ سردار عبدالرب نشتر
سردار عبدالرب نشتر تحریک پاکستان کے ایک اور اہم کردار تھے، جو قائداعظم کے قریب ترین ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے۔ وہ صوبہ پنجاب میں مسلمانوں کی نمائندگی کرتے رہے اور پاکستان کے قیام کے بعد وزیرِ مواصلات بنے۔
6۔ چوہدری رحمت علی
چوہدری رحمت علی نے ”پاکستان“ کا نام تجویز کیا، لیکن ان کی خدمات کو وہ مقام نہیں دیا گیا جو ان کا حق تھا۔ وہ برطانوی حکومت کے خلاف ایک مضبوط آواز تھے اور مسلمانوں کے لئے علیحدہ وطن کے حق میں دلائل دیتے رہے۔
7۔ بی اماں (عبادی بیگم)
بی اماں، مولانا محمد علی جوہر اور مولانا شوکت علی کی والدہ تھیں، جنہوں نے تحریک خلافت اور تحریک پاکستان میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی قربانیاں اور جدوجہد تحریک میں خواتین کی شمولیت کا بہترین نمونہ تھیں۔
یہ وہ چند گمنام ہیرو ہیں جنہوں نے آزادی اور پاکستان کے قیام کے لیے اپنی زندگیاں وقف کیں، لیکن ان کی خدمات کو عموماً نظرانداز کیا جاتا ہے۔


