ایک لوہار کی
کہتے ہیں کہ دشمن کا دشمن دوست ہوتا ہے، اسی طرح اگر دو دوست دشمن بن جائیں تو ایک دوسرے کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہوتے ہیں، کیونکہ وہ کمزوریوں سے واقف ہوتے ہیں اور کچھ صورتوں میں ایک دوسرے کے نازک لمحات کے گواہ بھی۔
عمران خان اور نواز شریف کی دوستی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، وہ دونوں بارہا اس بات کا اظہار بھی کر چکے ہیں، کئی موقعوں پر عمران خان کہہ چکے ہیں کہ اگر 90 کے عشرے میں نواز شریف کی حکومت نہ ہوتی تو شاید شوکت خانم ہاسپٹل کا خواب شرمندہ تعبیر نا ہو پاتا، اسی لیے شوکت خانم ہاسپٹل کا افتتاح بھی نواز شریف کے ہاتھوں ہی کروایا گیا، سرکاری طور پر زمین کی الاٹمنٹ سے لے کر ذاتی طور پر شریف فیملی کی شوکت خانم ہاسپٹل کے لیے کنٹریبیوشن مثالی ہے۔
لیکن جب سیاست میں دونوں ایک دوسرے کے مقابل آئے تو شاید ان کی دشمنی کی مثالیں ہمیشہ دی جاتی رہیں گی، گزشتہ تقریباً 15 سال سے عمران خان نے نواز شریف کی گردن سے پاؤں نہیں اٹھایا، نواز شریف کی فوج دشمنی عیاں تھی اس لیے عمران خان نے فوج کی لائن ٹو کی اور پاک آرمی کی آنکھوں کا تارا بن گئے، یوں فوج نے اپنے ایک بدترین مخالف کے دوست کو اس کا دشمن بنا کر اپنا ساتھی بنایا، سیاست کی شطرنج میں یہ ایک بہترین چال تھی، عمران خان نے دل کھول کر پاک آرمی کا ساتھ دیا اور حکومت میں آ گئے، پاک آرمی کے سربراہ کی تعریف و توصیف ہو یا آرمی مخالف بیانیے کو غداری سے تشبیہ دینا، عمران خان اور ان کے ساتھی ہر حد تک گئے۔
خیر وقت ہمیشہ ایک سا نہیں رہتا، سیاست کی اس شطرنج میں بازی پلٹتے دیر نہیں لگتی، اور ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ دونوں جماعتوں کے بیانیے میں 180 ڈگری کا ٹرن ظہور پذیر ہوا، رات کو سونے والے اسٹیبلشمنٹ اور فوج کے حامی اگلی ہی صبح انقلابی بن کر اٹھے، اور فوج مخالف بیانیے کے علمبردار فوج اور اس کی قربانیوں کے مداح بن گئے۔
جب موجودہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو اس عہدے پر فائز کرنے کا موقع آیا تو شاید گزشتہ 20 سالوں میں نواز شریف کو اس سے بہتر فل ٹاس نہیں مل سکتی تھی جس پر وہ چھکا مار سکتے، وہ جنرل عاصم منیر کے عمران خان سے اختلافات کے بارے میں مکمل آگاہ تھے، فوج کے اندر پرو عمران خان دھڑا بھی جنرل عاصم منیر کی تعیناتی سے خوش نہیں تھا، جنرل باجوہ نے پورا زور لگایا کہ ان کی جگہ جنرل ارشاد کو چیف لگا دیا جائے۔
کہنے والے کہتے ہیں کہ پیپلز پارٹی اور شہباز شریف تک اس معاملے کو لے کر ڈھیلے پڑتے نظر آرہے تھے، شاید وہ بھی قائل ہو چکے تھے کہ جنرل عاصم منیر کو جوائنٹ چیف آف سٹاف بنا دیا جائے لیکن نواز شریف ڈٹ گئے اور جنرل عاصم منیر کو چیف بنا کر چھوڑا۔
یوں نواز شریف نے اپنی 15 سالوں کی خواری کا بدلہ ایک فیصلے سے لے لیا، گزشتہ دو سالوں میں عمران خان نے جتنی سیاسی غلطیاں کیں اور آئندہ جتنی بھی کریں گے، اس کے پیچھے صرف اور صرف یہ ایک تعیناتی ہے، اور خود نواز شریف جہاں تھے وہیں بیٹھ کر دشمن کی دشمن کے ساتھ جاری ”ٹگ آف وار“ پر نظر رکھے ہوئے ہیں، شاید وہ اس کا حصہ بھی نہیں بننا چاہتے۔
لیکن یاد رکھیے یہ شطرنج کا کھیل ہے، یہاں بازی پلٹتے دیر نہیں لگتی، نواز شریف یا ان کی پارٹی اپنے آپ کو زیادہ دیر تک اس سب سے دور نہیں رکھ سکتی، اب آرمی لیڈرشپ کو بھی اس بات کا احساس ہوتا جا رہا ہے کہ یہ لڑائی صرف ہماری نہیں ہے، سیاسی جماعتوں کا یوں خاموش تماش بین بن بیٹھنا اسٹیبلشمنٹ کو شدید پریشانی میں مبتلا کر رہا ہے، دیکھتے ہیں کہ لوہار کی اس ایک چوٹ کا اثر کب تک زائل ہو گا۔


