ظفر عمران صاحب، عورت کوئی شے نہیں


پچھلے دنوں ہم سب کی ویب سائٹ پر "مرد، عورت اور طوائف” کے عنوان سے ایک تحریر شائع ہوا جسے ظفر عمران صاحب نے لکھا تھا۔ تحریر پڑھتے ہوئے مجھے جس کرب سے گزرنا پڑا اسے بیان کرنا مشکل ہے اسی لئے (بِزنس سٹدیز کے) ایک طالب علم کی حیثیت سے میں نے سوچا کہ ظفر عمران صاحب کیلئے ایک جوابی تحریر لکھ دوں تاکہ اس تحریر کو پڑھ کر ظفر عمران صاحب اپنے خیالات پر نظرِ ثانی کرسکے اور ساتھ ہی قارئین کو ایک اور پہلو سے سوچنے کا موقع فراہم ہو۔
تحریر کے آغاز میں ظفر عمران صاحب نے بالی ووڈ فلم "پنک” کے ایک منظر کا زکر کیا ہے جس میں ملزمہ فلک (ایک مجبوری کے تحت) عدالت میں اقرار کرتی ہے کہ انہوں نے سیکس کرنے کے پیسے لئے لیکن بعد میں ان کا ارادہ بدل گیا اسی لئے انہوں نے انکار کیا۔ ظفر عمران صاحب کو اعتراض یہ ہے کہ پیسہ لینے کے بعد بطور ایک دکان دار فلک کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ گاہک سے پیسہ لیکر اپنا شے واپس مانگے، کیونکہ پیسہ دینے کے بعد یہ حق گاہک کو حاصل ہے کہ وہ دکان دار کو شے واپس کرے یا شے اپنے پاس رکھے ۔ اپنے اس اعتراض کے حق میں انہوں نے کچھ کاروباری مثالیں اور کچھ کاروباری اصطلاحات (بِزنس ٹرمینالاجیز) استعمال کئے اسی لئے میں بھی کاروباری اصطلاحات کا سہارا لیکر اپنی بات سمجھانے کی کوشش کروں گا۔
محترم ظفر عمران صاحب کی خدمت میں عرض ہے کہ کاروباری صنعت کو دو مختلف قسموں، پراڈکٹ انڈسٹری اور سروس انڈسٹری میں تقسیم کیا جاتا ہے جس کے ذریعے فریقین آپس میں معاملے طے کرکے خرید و فروخت کرتے ہیں۔ پراڈکٹ انڈسٹری میں ایک فریق دوسرے فریق کو کوئی پراڈکٹ (شے یا مادی چیز) دے کر پیسے وصول کرتا ہے جبکہ سروس انڈسٹری میں کسی پراڈکٹ کو نہیں بیچا جاتا ہے بلکہ ایک فریق دوسرے فریق کو ایک سروس مہیا کرکے (غیر مادی چیز مثلاً خدمت کرکے) اپنا معاوضہ وصول کرتا ہے۔ سروس مہیا کرنے کی ایک مثال وہ استاد ہے جو ایک بچے کو ٹیوشن پڑھاتا ہے جس کے عوض اسے پیسے ملتے ہیں۔ اس مثال میں بچہ اپنے استاد سے کوئی پراڈکٹ (شے یا مادی چیز) نہیں لے رہا بلکہ استاد بچے کو ایک سروس (غیر مادی خدمت) فراہم کرکے پیسے کماتا ہے۔ اسی طرح جسم فروشی (پراسٹیٹیوشن) بھی ایک سروس انڈسٹری ہے جس میں ایک فریق دوسرے فریق کو ایک سودے کے تحت ایک خاص مدت تک ایک سروس (جسم کی تسکین) مہیا کرتا ہے اور اس کے بدلے پیسہ لیتا ہے۔ یہ ایک الگ بحث ہے کہ یہ سودا اخلاقی ہے یا غیر اخلاقی اس لئے فی الحال اس بحث میں الجھنے کی ضرورت نہیں۔ ظفر عمران صاحب کے خیال میں پیسہ لینے کے بعد سروس مہیا کرنے والے کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ کسی بھی صورت (خاص کر ارادہ بدلنے کی صورت میں) سروس خریدنے والے کو انکار کرسکے کیونکہ سروس خریدنے والے نے پیسے دے دیئے ہے اور ان کے بقول خریدار نے اس کے جسم کا قبضہ حاصل کرلیا ہے۔ کاروباری لحاظ سے دیکھا جائے تو طوائف بحیثیت ایک فریق دوسرے فریق کو صرف اور صرف ایک سروس مہیا کرتا ہے اور یہ ظفر عمران صاحب کی خام خیالی ہے کہ سودا کرتے وقت طوائف اپنے پورے جسم کا سودا کرتا ہے۔ میری ناچیز رائے میں طوائف کا پورا جسم صرف اس جگہ (ان جگہوں) پر مشتمل نہیں جیسا انہوں نے بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔
اگر ایک ٹیوشن پڑھانے والے استاد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ ارادہ بدل جانے کی وجہ سے بچے کو پڑھانا چھوڑ دے اور پیسے واپس کردے تو ایک طوائف کو یہ حق کیوں حاصل نہیں؟ اگر ایک حجام کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ ایک گاہک کی حجامت کرنے سے انکار کردے تو ایک طوائف سے یہ حق کیوں چھینا جا رہا ہے؟ اب از راہِ کرم یہ مت کہیں کہ حجامت اور تعلیم اخلاقی کام ہے جبکہ طوائف ایک غیر اخلاقی عمل سر انجام دے رہا ہوتا ہے کیونکہ یہاں بحث طوائف کے اخلاقیات کی نہیں بلکہ اس کے کاروباری حقوق پر ہو رہی ہے۔ جہاں تک بات ہے ٹیکسی والے مثال کی تو ٹیکسی والے کو بالکل یہ حق حاصل ہے کہ وہ سواری کو ٹیکسی میں بٹھانے سے پہلے انکار کرے خواہ وجہ کوئی بھی ہو۔
اب آتے ہیں ان کے اس بات کی طرف کہ کیا مرد بھی طوائف ہوسکتا ہے تو قارئین کی خدمت میں ایک رپورٹ کا لنک پوسٹ کررہا ہوں جو ڈان کی ویب سائٹ پر 23 اگست 2016 کو شائع ہوا۔

http://(https://www.dawn.com/news/1279428)

اس رپورٹ، خاص کر آخری دو لائنوں کو پڑھ کر پتہ چل جائے گا کہ پاکستان میں نہ صرف عورتیں بلکہ مرد بھی اس پیشے (پراسٹیٹیو شن) سے وابستہ ہیں۔ اب اس بات میں کوئی دو رائے نہیں ہونی چاہیئے کہ جتنے حقوق ایک خاتون طوائف کو حاصل ہے وہی حقوق مرد طوائف کو بھی حاصل ہے۔
تحریر کے آخر میں ظفر عمران صاحب نے ازدواجی رشتوں اور معاملوں پر سوالات اٹھائے ہیں۔ میں ان کی اس بات سے اتفاق کرتا ہوں کہ ازدواجی رشتہ معاہدے سے بنتا ہے اسی لئے دونوں فریقین کا رضامند ہونا لازمی ہیں۔ اب اگر کوئی بھی ایک فریق جنسی عمل پر راضی نہیں ہے تو بغیر کسی چوں چرا کے اس عمل کا شمار "ریپ” میں ہو گا چاہے غیر رضا مند فرد عورت ہو یا مرد۔ اگر فریقین یا شراکت داروں میں اختلاف اس حد تک بڑھ گیا ہے کہ وہ ایک دوسرے کی ضروریات کو نہ تو سمجھ سکتے ہیں اور نہ ہی پورا کرسکتے ہیں تو بہتری اسی میں ہے کہ دونوں فریقین الگ ہوجائے جو کہ ظلم نہیں بلکہ انصاف کا تقاضا ہے۔ اب ایسے میں مرد دوسری شادی کا بہانہ ڈھونڈنے کیلئے عورت کو اس بات کا طعنہ دے کہ چونکہ میں تمہیں تمام تر سہولیات مہیا کررہا ہوں اسی لئے تمہیں "نہ” کہنے کا حق حاصل نہیں تو یہاں عورت نہیں بلکہ خود مرد، عورت کو شریکِ حیات جیسے محترم رُتبے سے نکال کر ایک ایسے "طوائف” کے زُمرے میں ڈال رہا ہے جو مالی مدد کے عوض شوہر کو ایک سروس (جسم کی تسکین) فراہم کررہا ہے۔

Facebook Comments HS