چینی ناول: نوجوانوں کا گیت


مصنف: یانگ مو
تبصرہ: حنا جتوئی

یہ ناول چین کے اندر 1930 سے 1935 تک رونما ہونے والے واقعات اور حالات کے پس منظر میں لکھی گئی ہے۔ جس دور میں جاپانی سامراجی چین کے کئی صوبوں پر قبضہ کر چکے تھے اور ابھی بھی دوسرے صوبے ہتھیانے میں مصروف تھے۔ کومنتانگ حکومت نے پوری طرح سے جاپانیوں کے آگے سر جھکا دیا تھا اور ان کی اطاعت کر رہے تھے۔ دوسرے طرف چینی کمیونسٹ پارٹی محب وطن نوجوانوں کے ساتھ اپنے وطن کی بقا کے لئے اندرونی (کومنتانگ حکومت) اور بیرونی (جاپانیوں ) قوتوں کا مقابلہ کر رہی تھی۔

اس مشن کے لیے وطن کے نوجوان مرد اور عورتیں شانہ بشانہ کھڑے تھے ؛ جو کہ ان گنت مشکلات کا سامنا کرنے کہ باوجود اپنی زندگیاں وطن کی آزادی اور خوشحالی کے لیے وقف کرنے کو تیار تھے۔ یہ ناول (نوجوانوں کا گیت) انہی بہادر اور بے باک نوجوانوں کی جدوجہد میں پیش آنے والے واقعات پر لکھی گئی ہے۔ اس ناول کی مرکزی کردار ایک نوجوان دانشور لڑکی ”لین تاؤچینگ“ ہے۔ جس کا بچپن دکھوں اور تکلیفوں سے بھرا ہوا تھا۔ جب اسے ایک مالدار شخص کے بیٹے ”یوی یونگ زے“ (جو پیکنگ یونیورسٹی کا طالب علم تھا) سے شادی کر کے آرام دہ زندگی گزارنے کا موقع ملا، تو وہ اس زندگی سے بیزار ہو گئی۔

وہ ذہنی سکون اور حقیقی خوشی کی تلاش میں تھی، اور یہ تلاش اسے اپنے وطن کے لیے کچھ کرنے کی خواہش تک لے گئی۔ اسی جستجو میں ایک دن، وہ طلبہ تحریک کے رہنما ”لوچیا چھوان“ سے ملی۔ جب تاؤچینگ نے نوجوان طالب علموں کو اپنے وطن کی آزادی کے لیے جدوجہد کرتے دیکھا، تو اسے اپنی زندگی بیکار اور بے مقصد لگنے لگی، جس کا کوئی مقصد یا نصیب العین نہیں تھا۔ اس نے فیصلہ کیا کہ وہ بھی ان نوجوانوں کی طرح اپنے وطن کی آزادی کے اس عظیم مشن میں حصہ لے گی۔

اس کے بعد لین تاؤچینگ نے اپنا زیادہ تر وقت کتابیں پڑھنے اور ان کے خیالات کو سمجھنے میں گزارنا شروع کیا، جو لوچیا چھوان اسے فراہم کرتا تھا۔ جیسے جیسے وہ کتابیں پڑھتی گئی، اس کے خیالات مضبوط ہوتے گئے۔ اب وہ اپنے ملک کے حالات اور ان حالات کو پیدا کرنے والے عوامل کو سمجھ چکی تھی۔ اس نے اپنی زندگی کا مقصد وطن کی آزادی کے لیے جدوجہد کرنے کو بنا لیا تھا، اور وہ دن رات اسی مشن کو پورا کرنے میں مصروف رہنے لگی۔

لین تاؤچینگ کے شوہر کو اس کے کام سے سخت اختلاف تھا۔ وہ ایک زمیندار کا بیٹا ہونے کے ناتے ان لوگوں کا ساتھ نہیں دے سکتا تھا جو غریبوں اور مزدوروں کے لیے جدوجہد کر رہے تھے۔ آخر کار، تاؤچینگ نے اپنے وطن کو چنا اور یوی یونگ زے سے علیحدگی اختیار کر لی۔ اگرچہ اسے معاشی مسائل کا سامنا تھا، لیکن وہ ذہنی طور پر مطمئن تھی۔ اب وہ صرف کتابیں پڑھنے تک محدود نہیں رہی تھی بلکہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر عملی کام بھی کر رہی تھی۔ اور بہت سے کارنامے سر انجام دے رہی تھی۔ تاہم، اس کی یہ جدوجہد آسان نہ تھی۔ کبھی رات کے اندھیرے میں پیدل سفر کرنا پڑتا تو کبھی تن تنہا پہاڑوں اور جنگلات سے گزرنا پڑتا۔ اس نے اپنے سب سے عزیز دوست اور ساتھی (لوچیا چھوان) جس نے اسے زندگی کے عظیم مقصد سے روشناس کرایا، اور اسے اس عظیم جدوجہد میں شریک ہونے کا موقع فراہم کیا۔ وہ بھی وطن کی آزادی کے لیے اپنی جان قربان کر گیا۔

اسے ”تائی یوی“ جیسے غداروں کا بھی سامنا کرنا پڑا، جو بظاہر اس کا ہم خیال اور ساتھی تو ڈکھائی دیتا تھا لیکن حقیقت میں وہ دشمن کے لیے کام کر رہا تھا۔جس کی وجہ سے کیے نوجوان دانشور پکڑے جا چکے تھے اور تاؤچینگ کو بھی دو مرتبہ جیل جانا پڑا۔ بعد میں تاؤچینگ کو ایک اور رہنما ”چیانگ ہوا“ کا ساتھ ملا۔ اور بالآخر کمیونسٹ پارٹی کی رکن بھی بن گئی۔ اب وہ ایک حقیقی انقلابی بن چکی تھی۔ اگرچہ وہ معاشی طور پر پسماندہ تھی، وہ اچھے کپڑے نہیں خرید سکتی تھی، نہ ہی اچھا کانا کھا سکتی تھی لیکن وہ بہت خوش تھی اور اپنی زندگی سے مطمئن تھی۔ وہ ایک اچھی کامریڈ، ایک لکھاری اور ایک سچی محب وطن بن چکی تھی۔

Facebook Comments HS