چار مختصر کہانیاں
شہید
وہ دونوں شہید تھے۔
ان دونوں کی ملاقات جنت میں ہوئی تھی۔
انہوں نے آپس میں علیک سلیک کی۔
ایک دوسرے کا تعارف کیا،
بات چل نکلی، رسمی بات چیت بےتکلفی میں بدل گئی۔
ایک نے بتایا وہ پاکستانی فوجی تھا،
کشمیر میں لائن آف کنٹرول پہ بھارتی فوجیوں سے بہادری سے لڑا
اور شہید ہو گیا۔
دوسرے نے اسے حقارت سے دیکھا،
ناک چڑھائی اور
رعونت سے بولا تم تو ناپاک ہندو بنیے کے ہاتھوں شہید ہوئے ہو،
مجھے تو الحمدللہ ایک باریش مسلمان نے خودکش حملے میں شہید کیا تھا۔
رات
رات جب گاؤں کی گلیوں میں اترتی
تو وہ ایک زندہ رات ہوتی
طاقچے میں دیا روشن ہوتا
دیےکی لو پھڑپھڑاتی
روشنی آنگن میں رقص کرتی
بچپنے کا کھلنڈرا پن
ہم شور مچاتے آنگن میں کھیلتے
خوب ادھم مچتا
آوازوں کا شور آسمان سر پہ اٹھا لیتا
اب بڑھاپے کی دہلیز پہ
شہر کی اداس تنہا راتیں ہیں
ایک مردہ سی چکا چوند ہےاور
یادوں میں کہیں
ایک دیا اور ایک طاقچہ زندہ ہے
قبریں
قبرستان میں بھی کتنی تفریق ہے،
امیر لوگوں کی قبریں،
عالیشان قبریں۔
کسی قبر کا تعویز سنگ مرمر کا تو کسی کا سنگ سرخ کا،
لوح پہ تحریر خوش نویس کاتبوں کے ہاتھ کی، خوش نما رنگوں سے مزین۔
درمیانے طبقے کی قبریں سیمنٹ کا تعویز اوپر چونے کا لیپ، ادھ مٹی لوح، شکستہ ادھ مٹے حروف،
جو پڑھے نہیں جا سکتے
غریب کچی قبریں،
بے سروسامان، بے نام و نشا ن جیسے ان کا کوئی والی وارث نہیں۔
رنگو گورکن جب رات کو
قبریں کھود کر ہڈیاں چراتا ہے،
حکیم بندو خان کو بیچنے کے لئے
تونہ جانے کیوں
ان سے نکلنے والےسب ڈھانچے
ایک جیسے ہوتے ہیں۔
سر منڈل کا راجہ
برف پوش پہاڑ تھے
پہاڑوں کی چو ٹیاں آسمان سے
ہم کلام تھیں، برف کی چادریں آسمانوں نے بڑی عقیدت سے انہیں دان کی تھیں، جھیلیں تھی زمرد پانیوں کی، پربتوں کے سر سبز صنوبر تھے جو ان پانیو ں پہ سایہ کرتے تھے، رنگ برنگے پھول خنک بار ہواؤں پہ رقص کرتے تھےاور فضاؤں کو رنگوں سے بھرتے تھے، میں جانے کتنے دن ہی پربتوں کی ان بھول بھلیوں میں بھٹکتا رہا، باغوں میں پھرتا تھا، تتلیوں کے پیچھے بھاگتا، ان کے رنگ آنکھوں میں سمیٹتا، برف پوش پہاڑوں کے نقرئی عکس دل میں اتر جاتے
جانتے ہیں مہینوں پہ پھیلی پربتوں کی یہ سیر میں نے صرف سو روپے میں کی
میں علی اکبر ناطق کی کتاب
سر منڈل کا راجہ خرید لایا تھا
یہ کتاب کھولتا ہوں
اور پربتوں سے آگے
ان دیکھی دنیاؤں کو نکل جاتا ہوں


