مذاکرات کا ”کھیل“ ختم


2025ء کا سورج پی ٹی آئی کے لئے نیک شگون لے کر طلوع نہیں ہوا۔ عمران کی رہائی ہوئی اور نہ ہی پی ٹی آئی کو کوئی بڑا ریلیف ملا، حکومت پی ٹی آئی کے مطالبات کسی طور پر قبول کرنے پر تیار نہیں جس کی وجہ سے عمران خان نے یک طرفہ طور مذاکرات کا کھیل ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔ میں شروع دن سے ہی مذاکرات کو ”مذاق رات“ قرار دے رہا تھا۔ پی ٹی آئی نے مذاکرات کے نتیجے میں عمران خان کی رہائی کے لئے امیدیں وابستہ کر رکھی تھیں جو عملی طور ممکن نظر نہیں آ رہا تھا۔

قبل اس کے کہ حکومت پی ٹی آئی کے مطالبات کو مسترد کرتی عمران خان نے 23 جنوری کی شب تک جوڈیشل کمیشن قائم نہ ہونے کی صورت میں مذاکرات کے چوتھے دور کے انعقاد سے قبل ہی مذاکرات ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔ عمران خان کا یہ اعلان حکومت کے لئے کوئی سرپرائز نہیں ہے کیونکہ حکومت نے دانستہ مذاکرات کو طول دے کر پی ٹی آئی کو مذاکرات ختم کرنے کا اعلان کرنے پر مجبور کیا۔ احتساب عدالت نے عمران خان کو 14 سال قید اور 10 لاکھ روپے جرمانہ اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو 7 سال قید اور 5 لاکھ روپے جرمانہ کی سزا سنائی ہے بظاہر دونوں اطراف سے یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اس عدالتی فیصلے کے مذاکرات پر منفی اثرات مرتب نہیں ہوں گے لیکن سزا کو ایک ہفتہ نہیں ہو پایا کہ پی ٹی آئی نے مذاکرات کو ختم کر دیا۔

عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی سزا پر جس طرح حکومتی طبلچی عمران خان اور ان کی اہلیہ کو سزا دینے پر دَف بجا رہے تھے اور پی ٹی آئی کی جانب سے جس رد عمل کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے سیاسی ماحول میں بہتری آنے کی بجائے مزید خرابی آئے گی جو ملک کو سیاسی عدم استحکام کی طرف لے جائے گی، کسی وقت بھی مذاکرات کی میز الٹ دی جائے گی۔ مذاکرات کی میز سجانے سے پی ٹی آئی نے فارم 47 کی حکومت کو عملاً تسلیم کر لیا ہے اس سے اس کی جگ ہنسائی ہوئی ہے عمران خان کو سزا ہونے پر حکومت اور پی ٹی آئی کے تعلقات مزید خراب ہوئے ہیں۔

دونوں میں سے جس کا بس چلے ایک دوسرے کا وجود ہی ختم کر دے لیکن زمینی حقائق کی وجہ سے وہ ایک دوسرے کا کچھ بگاڑ نہیں سکتے۔ حکومت کسی طور پر بھی عمران خان کی رہائی کے حق میں نہیں وہ سمجھتی ہے کہ عمران کی رہائی اسے عدم استحکام کا شکار کر دے گی لہٰذا وہ اپنی آئینی مدت کے دوران عمران خان کی رہائی افورڈ نہیں کر سکتی۔ جبکہ پی ٹی آئی ناکام ایجی ٹیشن کے بعد تھک ہار کر نہیں بیٹھی اس کی تمام تر توجہ سول نافرمانی کی تحریک کی طرف مرکوز ہے فوج کے اداروں کی پراڈکٹس کے بائیکاٹ کی مہم پہلے ہی چلائی جا رہی ہے بیرون ملک پاکستانیوں، جن کے بارے میں عام تاثر ہے کہ ان کی اکثریت عمران خان کے حق میں ہے، کو ترسیلات زر روکنے کی اپیلیں کی جا رہی ہیں۔

عمران خان کے پاس رہائی کے لئے یہ آخری کارڈ ہے اگر یہ بھی ناکام ہو گیا تو پھر عمران خان کے لئے اپنی شرائط پر رہا ہونا ممکن نہیں پی ٹی آئی کی آخری امید واشنگٹن سے آنے والی کال پر ہے فی الحال حکومت دعوے کر رہی ہے کہ اسے گزشتہ سال کے مقابلے میں بیرون ملک پاکستانیوں کی جانب سے زیادہ زر مبادلہ موصول ہوا ہے لہٰذا اس وقت زرمبادلہ کے ذخائر محفوظ ہیں۔ سر دست حکومت کی جانب سے پی ٹی آئی کے دو مطالبات جن کے 22 نکات ہیں کا تحریری جواب نہیں دیا گیا، حکومت کی جانب سے لیت و لعل سے کام لیا جا رہا تھا تاہم باخبر ذرائع کے حوالے سے شائع ہونے والی ایک خبر میں دعویٰ کیا گیا کہ حکومت نے پی ٹی آئی کے مطالبات کا جواب تیار کر لیا ہے اور اتحادی جماعتوں سے مشاورت کی جا رہی ہے۔

در اصل باخبر ذرائع سے شائع ہونے والی خبر حکومتی حلقوں کی طرف سے لیک کی گئی اور پی ٹی آئی کو بالواسطہ پیغام دے دیا گیا کہ حکومت کی طرف سے پی ٹی آئی کے مطالبہ پر سانحہ 9 مئی 2023 ء پر جوڈیشل کمیشن بنانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اس پیغام پر حکومت پی ٹی آئی کا رد عمل دیکھنا چاہتی تھی، جو اگلے روز پی ٹی آئی نے مذاکرات ختم کرنے کی صورت میں دے دیا۔ حکومت کا موقف ہے کہ 9 مئی 2023 ء کے واقعات پر جوڈیشل کمیشن قائم ہی نہیں ہو سکتا، جوڈیشل کمیشن ان معاملات پر بنتا ہے جو کسی عدالت میں زیر سماعت نہ ہوں۔

9 مئی 2023 ء کے واقعات میں ملوث کچھ ملزمان کو فوجی عدالتوں سے سزائیں بھی ہو چکی ہیں حکومت نے پی ٹی آئی کے دوسرے مطالبے کے جواب میں کہا ہے کہ 26 نومبر 2024 ء کے واقعات میں لاپتہ اور گرفتار افراد کی تفصیلات فراہم کی جائیں، گرفتار افراد کے نام اور دیگر تفصیلات نہ ہونے سے ان کی رہائی کے لئے کیو نکر اقدام کیا جا سکتا ہے؟ پی ٹی آئی کا دعویٰ ہے کہ 26 نومبر 2024 کو ہلاکتیں ہوئی ہیں لہٰذا ان کی تفصیلات فراہم کی جائیں لیکن 23 جنوری 2025 کو اڈیالہ جیل میں مقدمہ کی سماعت کے موقع پر بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے حکومت کے ساتھ جاری مذاکرات ختم کرنے کا اعلان کر دیا بعد ازاں پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان نے بھی یہی کہا کہ ”حکومت نے سات روز میں کمیشن بنانے تھے لیکن اب تک حکومت نے 9 مئی 2023 ء اور 26 نومبر 2024 ء کے واقعات پر کمیشن نہیں بنائے اس لئے ہم مذاکرات ختم کرنے کا اعلان کر رہے ہیں“ بیرسٹر گوہر خان نے کہا کہ ہماری بڑی خواہش تھی کہ مذاکرات جاری رہیں اور معاملات آگے بڑھیں لیکن برف پگھل نہیں رہی تاہم ان کا کہنا ہے کہ بانی چیئرمین کہہ چکے ہیں کہ ہمیں بیرون ملک سے کسی مدد کا انتظار نہیں ہم سیاسی جماعتوں سے مل کر جدوجہد کریں گے۔

بیرسٹر گوہر خان اور علی امین گنڈا پور کی آرمی چیف سے ملاقات کا بڑا چرچا رہا۔ پی ٹی آئی کی قیادت نے اس ملاقات کے تناظر میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ اب ان کی طاقت ور حلقوں تک رسائی ہو گئی ہے اور سیاسی منظر تبدیل ہونے کو ہے لیکن مذاکرات کے کھیل کے ختم ہو جانے سے اس تاثر کو تقویت نہیں ملی ہے۔ آئندہ دنوں میں پی ٹی آئی کو اس وقت تک کوئی ریلیف نہیں ملے گا جب تک بانی چیئرمین 9 مئی 2023 ء کے واقعات پر معافی نہیں مانگتے اور پی ٹی آئی مائنس ون کا فارمولہ تسلیم نہیں کرتی۔

Facebook Comments HS