زندگی میں مہارت ہی کامیابی کی ضمانت ہے


دنیا کی ترقی کا دار و مدار آج کے دور میں ہنر اور کاروبار پر ہے۔ وہ وقت گزر چکا جب صرف ڈگریاں کامیابی کی ضمانت سمجھی جاتی تھیں۔ اب وہی لوگ ترقی کر رہے ہیں جو کسی مخصوص مہارت کے حامل ہیں اور اپنے ہنر کو عملی زندگی میں استعمال کرنا جانتے ہیں۔ حکومت بھی اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے اسکل بیسڈ اکانومی پر زور دے رہی ہے تاکہ لوگ ملازمتوں کے بجائے خود کفیل بن سکیں۔

پاکستان جیسے ملک میں بے روزگاری ایک بڑا مسئلہ ہے اور ہر سال ہزاروں گریجویٹس نوکری کی تلاش میں مارے مارے پھرتے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ نوکریاں محدود ہیں جبکہ کاروبار کے مواقع لامحدود ہیں۔ جو لوگ مہارت رکھتے ہیں وہ نہ صرف خود کو بلکہ دوسروں کو بھی روزگار فراہم کر سکتے ہیں۔

ہنر مندی سے حاصل ہونے والے فوائد بے شمار ہیں۔ ایک شخص اگر کسی ہنر میں مہارت حاصل کر لے تو وہ اپنی آمدنی خود پیدا کر سکتا ہے اور کسی ادارے یا دفتر کا محتاج نہیں رہتا۔ دوسرا فائدہ یہ ہے کہ مہارت رکھنے والے افراد کے لیے دنیا بھر میں مواقع موجود ہیں۔ آن لائن کام، فری لانسنگ، ای کامرس، اور دیگر کاروباری ماڈلز کے ذریعے لوگ بغیر کسی بڑی سرمایہ کاری کے اچھی خاصی کمائی کر سکتے ہیں۔

کاروبار شروع کرنے کے لیے بڑا سرمایہ ہونا ضروری نہیں، بلکہ سب سے اہم چیز ایک خاص مہارت اور اس پر گرفت ہے۔ حکومت بھی اسی فلسفے کو سمجھتے ہوئے مختلف منصوبے متعارف کروا رہی ہے تاکہ نوجوانوں کو کاروبار کے لیے تیار کیا جا سکے۔ کامیاب جوان پروگرام کے ذریعے قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں، ٹیوٹا اور دیگر ووکیشنل ادارے ہنر سکھا رہے ہیں، اور ڈیجیٹل پاکستان کے تحت نوجوانوں کو جدید اسکلز سکھانے پر کام ہو رہا ہے۔

سب سے زیادہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ملک کے تعلیمی نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے۔ آج بھی سکولوں میں وہی پرانی نصاب پڑھائے جا رہے ہیں جن کا عملی زندگی میں زیادہ فائدہ نہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ تعلیمی نصاب میں ایسے مضامین شامل کرے جو کاروبار سے متعلق ہوں۔ بچوں کو چھوٹی عمر سے ہی مالیاتی شعور دیا جائے، ان کو کاروبار کے بنیادی اصول سکھائے جائیں، اور انہیں عملی زندگی میں مواقع سے فائدہ اٹھانے کے قابل بنایا جائے۔ صرف ڈگریوں پر انحصار کرنا اب ممکن نہیں، بلکہ ہنر کی اہمیت کو اجاگر کرنا ضروری ہے۔

پاکستان میں کئی ایسے شعبے ہیں جہاں کم سرمائے میں بہترین کاروبار کیا جا سکتا ہے۔ ڈیجیٹل مارکیٹنگ، ای کامرس، زراعت، فوڈ بزنس، ٹیکسٹائل، اور سروس انڈسٹری وہ شعبے ہیں جن میں لوگ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر اچھا خاصا منافع کما سکتے ہیں۔ اگر جدید ٹیکنالوجی اور مہارت کو یکجا کیا جائے تو چھوٹے پیمانے پر شروع کیا گیا کاروبار بھی عالمی سطح پر پہنچ سکتا ہے۔

کاروبار میں کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ صحیح مہارت کا انتخاب کیا جائے اور اس پر مہارت حاصل کی جائے۔ جو لوگ ایک خاص فیلڈ میں مہارت حاصل کرتے ہیں، وہی آگے بڑھ کر کامیاب ہوتے ہیں۔ مارکیٹ کی تحقیق کے بغیر کسی بھی کاروبار میں کامیابی ممکن نہیں، اس لیے ضروری ہے کہ پہلے مارکیٹ کا جائزہ لیا جائے اور پھر چھوٹے پیمانے پر کام کا آغاز کیا جائے۔ ڈیجیٹل دور میں کاروبار کے فروغ کے لیے آن لائن پلیٹ فارمز کا استعمال بھی انتہائی ضروری ہو گیا ہے۔

حکومت کی موجودہ پالیسیاں ان لوگوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہو رہی ہیں جو ہنر سیکھ کر اپنا کاروبار شروع کرنا چاہتے ہیں۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ تعلیمی اصلاحات کی بھی ضرورت ہے۔ جب تک سکولوں اور کالجوں میں کاروبار سے متعلق تعلیم کو لازمی نہیں بنایا جاتا، تب تک نوجوان عملی زندگی میں مشکلات کا شکار رہیں گے۔ اگر بچوں کو بچپن سے ہی کاروباری ذہنیت دی جائے تو وہ بڑے ہو کر نہ صرف خود کفیل ہوں گے بلکہ ملک کی معیشت کو بھی ترقی کی راہ پر گامزن کریں گے۔

یہ وقت کاروباری بننے کا ہے، نہ کہ نوکری کے پیچھے بھاگنے کا۔ اگر لوگ اپنے اندر ہنر پیدا کریں اور اسے بہتر طریقے سے استعمال کرنا سیکھیں تو وہ کامیابی کی راہ پر گامزن ہو سکتے ہیں۔ مہارت ایک ایسا سرمایہ ہے جو وقت کے ساتھ مزید قیمتی ہوتا ہے اور جس کے ذریعے دنیا کی بڑی سے بڑی کامیابیاں حاصل کی جا سکتی ہیں۔ اب فیصلہ ہر فرد کے اپنے ہاتھ میں ہے کہ وہ صرف نوکری کی تلاش میں وقت ضائع کرنا چاہتا ہے یا اپنے ہنر کے ذریعے اپنی تقدیر خود بنانا چاہتا ہے۔

Facebook Comments HS