بے ایمان لوگ
انٹرنیٹ پہ ہی کالم نگار جاوید چوہدری کا سوئٹزرلینڈ کے سفر کی یادداشتوں پہ مبنی لکھا ایک کالم بعنوان ”بے ایمان لوگ“ پڑھنے کو ملا۔ انھوں نے لکھا کہ ان کی ملاقات سوئٹزرلینڈ کے ایک شہر کے ریسٹورنٹ میں کام کرنے والے ایک ویٹر سے ہوئی جو شہر کی مقامی اسمبلی کا منتخب اسپیکر بھی تھا۔ وہاں سیاستدان اپنی روزی روٹی کمانے کے لیے مختلف کام بھی کرتے رہتے ہیں۔ یہاں میں چوہدری صاحب کے اس کالم کا اقتباس نقل کرتا ہوں۔ ”کسی برینڈ میں چلے جائیں آپ کو سوئٹزرلینڈ نمبر ون ملے گا۔ دنیا بھر کے امراء اور کمپنیاں یہاں کام کرنا چاہتی ہیں۔ کیوں؟ کیونکہ اس میں امن بھی ہے اور استحکام بھی“ ۔ مزید لکھا ”سوئس بھی ہم جیسے انسان ہیں، یہ آسمان سے نہیں اترے، یہ بھی اسی زمین کی پیداوار ہیں لیکن ان کے رویوں اور سوچ اور ہماری سوچ اور رویوں میں زمین آسمان کا فرق ہے“ ۔
جاوید چوہدری کا یہ کالم پڑھنے کے بعد راقم سوچ رہا تھا کہ اپنے بہاول پور میں تو یہ حال ہے کہ سرکاری محکموں کے چھوٹے چھوٹے افسران بھی اپنی ذاتی گاڑیوں پہ بھی نیلی بتی ہوٹرز لگا کر مارکیٹوں میں دکانداروں پہ رعب ڈال کر اپنی مرضی کی قیمت پہ اشیاء لے رہے ہوتے ہیں۔ اپنے عہدوں اور اختیارات کا غلط استعمال کر کے اپنی آئندہ آنے والی تین نسلوں کے لیے بھی جائیدادیں اور پیسہ بنا لیتے ہیں۔
جب آرمی اور رینجرز کی گاڑیوں پہ بڑے فونٹ میں نمایاں کر کے آرمی یونٹ کا نام یا رینجرز لکھا ہوتا ہے تو آپ قانون سازی کر کے عملاً نافذ کیوں نہیں کر دیتے کہ ہر سرکاری گاڑی چاہے اس پہ نیلی بتی ہوٹر لگا ہو یا نہ لگا ہو اس کے دروازوں پہ رینجرز کی گاڑیوں کی طرح محکمہ کا نام بہت بڑے فونٹ میں لکھا ہو تاکہ ان میں بیٹھے اہلکار چاہے وہ گائے بھینس کے دودھ بڑھانے کے پراجیکٹ پہ کام کر رہے ہوں یا کسی انتظامی محکمہ سے متعلق ہوں وہ سبز نمبر پلیٹ اور نیلی بتی ہوٹر کی آڑ میں عام آدمی کو بلیک میل نہ کر سکیں اور سڑک پہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے کے باوجود ٹریفک پولیس کے ایکشن سے اس لیے نہ بچے رہیں کہ ٹریفک سارجنٹ ڈرا ہوا ہوتا ہے کہ سبز رنگ نمبر پلیٹ اور نیلی بتی ہوٹر والی گاڑی میں کہیں کوئی جج یا انتظامی محکمہ کا کوئی بڑا افسر نہ بیٹھا ہو؟
حال تو یہ ہے کہ بہاول پور شہر کے درمیان گزرنے والی سڑک جس کے ارد گرد کی سو فٹ جگہ سرکار کی ملکیت ہے وہاں لوگوں نے گھر اور دکانیں بنا کر پھر ان کا فرش اور ریمپ کئی فٹ اونچے بنا کر انھیں سڑک کے اوپر ڈالا ہوا ہے جس سے سڑک سات آٹھ فٹ تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ اکبر شیخ اکبر پہلے بھی تجویز دے چکا ہے کہ آپ جب شہروں کے اندر مرکزی اور بڑی سڑک بناتے ہیں تو اس کے دائیں بائیں ایک فٹ اونچا جنگلہ کیوں نہیں لگا دیتے۔ سڑک کے اردگرد سرکاری جگہ پہ قبضہ کے بنائے گئے گھروں اور دکانوں کے اونچے فرش اور اونچے ریمپ کی وجہ سے بارش کا پانی سڑک کے دائیں بائیں مٹی والی جگہ میں جا کر جذب اور خشک ہونے کی بجائے سڑک پہ ہی جمع ہو کر جوہڑ بنا دیتا ہے اور سڑک ٹوٹ پھوٹ جاتی ہے۔ پھر ان سڑکوں کی مرمت کے لیے ہم دوبارہ سے آئی ایم ایف، ورلڈ بنک اور عرب ممالک کے سامنے کشکول اُٹھا کر کھڑے ہوتے ہیں۔ تجاوزات آپریشن کے خاتمہ کے بعد اگر لوگ دوبارہ اسی جگہ پہ تجاوزات قائم کر لیتے ہیں تو آپ بطور سزا بھاری جرمانہ کریں جو ہزاروں نہیں لاکھوں روپے ہو اور تجاوزات کے خلاف آپریشن کے اخراجات بھی اسی مافیا سے وصول کریں۔
بہاول پور شہر سے ون وے ہائی وے کراچی، بہاول نگر اور لاہور کی طرف جا رہی ہے وہاں سڑک کنارے لوگوں نے جانور باندھے ہوتے ہیں۔ وہاں بھی گھروں اور دکانوں کے فرش اونچے بنا کر ان کے اونچے ریمپ ان بڑی رابطہ سڑکوں کے اوپر ڈالے ہوئے ہیں۔ سفر کرنے والی گاڑیوں کے سامنے آوارہ کتے اچانک سامنے آ کر حادثوں کا سبب بن جاتے ہیں جس سے قیمتی جانیں چلی جاتی ہیں۔ یہ صورتحال آپ کو پاکستان، انڈیا اور بنگلہ دیش کی بہت ساری رابطہ سڑکوں پہ نظر آئے گی۔ آپ ان ہائی ویز اور شہروں کے درمیان رابطہ سڑکوں کے دائیں بائیں ایک فٹ اونچا جنگلہ یا ایک فٹ اونچی دیوار کیوں نہیں بنا دیتے؟
جاوید چوہدری کے سوئٹزرلینڈ پہ لکھے گئے کالم سے یاد آ گیا۔ راقم کافی عرصہ سے ماہانہ تنخواہ ملنے کے بعد اپنے لیے ٹوتھ پیسٹ، ٹوتھ برش، شیمپو، صابن اور سکن لوشن وغیرہ بہاول پور شہر کے ایک بڑے سپر سٹور سے خرید کر لاتا تھا۔ کاؤنٹر پہ بیٹھا سپر سٹور کا مالک بل کی سلپ کمپیوٹر سے نکال کر سامان والے شاپر میں ہی ڈال دیتا اور زبانی بتا دیتا کہ اتنا بل بنا ہے۔ میں بھی چپ کر کے ادا کر کے آ جاتا۔ گھر میں بل پڑھتا تو ٹوتھ برش کی قیمت اڑھائی سو سے تین سو روپے تک درج ہوتی۔ جب میں واک کے لیے پارک جاتا ہوں تو راستہ میں ایک بہت چھوٹی سی دکان آتی ہے جہاں تقریباً اسّی سال کی عمر کا ایک بہت بوڑھا دکاندار دمہ کے مرض کی وجہ سے ماسک لگا کے بیٹھا ہوتا ہے۔ میرا ٹوتھ برش استعمال کرتے ہوئے نیچے گر گیا۔ واک پہ جاتے ہوئے سوچا، سپر سٹور تھوڑا دور ہے اسی چھوٹی دکان سے معلوم کر لوں ٹوتھ برش ہے؟ آپ یقین کریں بوڑھے دکاندار نے مجھے اسی کمپنی کا پیک ٹوتھ برش ساٹھ روپے میں دیا جس کی قیمت سپر سٹور والے کمپیوٹرائزڈ بل میں تین سو روپے تک درج ہوتی تھی۔ احباب ناراض تو ہوں گے لیکن لکھتا جاؤں کہ انڈیا، پاکستان اور بنگلہ دیش میں تاجروں کی صرف آٹے میں نمک کے برابر تعداد ہی ایماندار ہے باقی اکثریت بے ایمان ہی ہے چاہے وہ مذہب کا لبادہ اوڑھے ہوں یا شام کو ”کڑوے پانی“ کی محفل سجانے والے نام نہاد لبرلز ہوں۔



حیرت تو آپ پر ہے ؟
اگر برش کسی مستند کمپنی کا ہے تو اس کے پیکٹ پر خوردہ قیمت اور ٹیکس کی تفصیل لکھی ہونا لازم ہے۔ اگر سپر اسٹور واالے نے اس سے زیادہ قیمت لی ہے تو رسید لے کر جائیں اور اپنی زائد قیمت واپس لیں۔ غلطی اپ کی ہے۔
ٹیکس بھی اگر وہ زائد لے رہا ہے تو وہ پیکٹ پر درج قیمت سے زیادہ نہیں ہوسکتا۔
یہ ضرور ممکن ہے کہ چھوٹی دکان والا جو چیز بیچ رہا ہو وہ جعلی ہو یعنی جسے آپ ایمان دار سمجھ رہے ہیں وہی دھوکہ باز ہو۔
بعض اوقات بڑی کمپنی کے سیلز والے لوگ اپنے لئے کم قیمت پر چیزیں کمپنی سے لیتے ہیں بعض اوقات ڈیمج اشیاء بھی انہیں سستی مل جاتی ہیں جن پر ٹیکس بھی نہیں ہوتا اور وہ انہین مارکیٹ میں بیچ کر منافع کھرا کرلیتے ہیں۔
تحقیق کریں پکچر ابھی بھی باقی ہوگی۔
یہ عین ممکن ہے کہ چھوٹا دکاندار بغیر جانے جعلی یا ٹیکس کے بغیر والی اشیاء بیچ رہا ہو۔ چھوٹے دکاندار کے پیکٹ پر بھی دیکھیں کہ خوردہ قیمت اور ٹیکس کی تفصیلات ہیں یا نہیں اوراگر ہیں تو وہ سپر اسٹور سے کتنی مختلف ہیں۔