خدائی خدمتگار تحریک اور باچا خان


میں انقلاب پسندوں کی اک قبیل سے ہوں
جو حق پہ ڈٹ گیا اس لشکر قلیل سے ہوں
میں یونہی دست و گریباں نہیں زمانے سے
میں جس جگہ کھڑا ہوں کسی دلیل سے ہوں

میرا تعلق اس قبیل سے ہے جس کا انقلاب اور دلیل عدم تشدد اور خدائی خدمت گار تحریک ہے اور میرے لیے یہ باعث فخر ہے کہ میں وارث ہوں ہر اس نظریے اور تحریک کا جو دنیا کہ کسی بھی کونے میں ہر ظالم کے خلاف برسر پیکار ہے۔ دنیا میں صرف دو ہی اقوام ہیں ظالم اور مظلوم، جابر اور مجبور ایک گروہ مظلوم کا حامی ہوتا ہے اور دوسرا ظالم کی صف میں کھڑا ہوتا ہے۔ میرا بھی تعلق اس لشکر قلیل سے ہے جو روز اول ہی سے ظالم کے خلاف مظلوم کے حق میں سینہ تان کے کھڑا ہے اور لب پہ اک ہی نعرہ ہے

میں نہیں مانتا، میں نہیں جانتا، ایسے دستور کو، صبح بے نور کو
ظلم کی بات کو جہل کی رات کو، میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا

خدائی خدمتگار تحریک بھی برصغیر میں ان تحریکوں کی کڑی جو اس وقت کے جابر اور ظالم حکمران انگریز کے ظلم و جبر کے خلاف کھڑی کی گئی اور اس تحریک کے رو رواح باچا خان جنھوں نے پختون کی مظلومیت اور جبر پہ ماتم کناں ہونے کے بجائے ظالم کے سامنے اپنا سینہ تانا اور حکمت اور دور اندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پختونوں کو جدید تعلیم و ہنر سے آراستہ ایک قوم بنانے کا بیڑا اٹھایا۔ باچا خان نے ظلم و جبر کے آگے سرنڈر کرنے کے بجائے اپنے حصے کا کردار ادا کرنا شروع کر دیا اور وہ کردار جس کے اثرات نے پختونوں کو ایک قوم بنا دیا۔

باچا خان کا عدم تشدد کا فلسفہ پختون معاشرے میں اسی طرح تھا جس طرح آگ اور پانی اکٹھے نہیں ہوسکتے اسی طرح پختون اور تشدد، انتقام، جنگ و جدل علیحدہ نہیں ہوسکتے لیکن تاریخ نے ثابت کیا کہ پختون عدم تشدد کے فلسفے پہ پورا اترے اور پوری دنیا میں پختون قوم نے اپنا الگ مقام بنایا جو دنیا کی کسی قوم کو یہ اعزاز حاصل نہیں۔ دنیا کی ہر قوم کو اس کی بقاء کا خطرہ لاحق رہتا ہے لیکن پختون واحد قوم ہے جس کی بقاء کو کوئی خطرہ نہیں جس کی بنیادی وجہ خدائی خدمت گار تحریک کے ثمرات ہیں۔

مجھے تعجب ہوتا ہے اس وقت جب آج بھی اشرافیہ باچا خان پہ انگلی اٹھاتی ہے اور انہیں اپنا دشمن قرار دیتی ہیں کیونکہ باچا خان اور ان کے قد کاٹھ میں زمین اور آسمان کا فرق ہے، باچا خان ایک عالمی سطح کے لیڈر ہیں جبکہ یہ سیاسی بونے ہیں۔ باچا خان کو افریقہ کی آزادی کے ہیرو نیلسن مینڈیلا اپنا استاد مانتے تھے۔ مینڈیلا نے 27 سال قید کاٹی جبکہ باچا خان نے 38 برس پختونوں کے لیے کال کوٹھڑی کے نام کیے۔ خدائی خدمتگار تحریک نے نہ صرف پختونوں کو ایک قوم بنایا بلکہ عالمی و مقامی سطح پر ایک بہترین قیادت فراہم کی۔

حاجی صاحب ترنگزئی نے باچا خان کے خدائی خدمتگار تحریک کے تحت قائم کردہ سکولوں کے نگران تھے جو اپنی سطح پہ اعلی قیادت کی خصوصیات رکھتے تھے۔ بظاہر تو خدائی خدمتگار تحریک ناکام ہوئی لیکن حقیقت میں دور اندیشی میں اگر دیکھا جائے تو اس نے دوررس بہت مثبت اثرات سماج پر مرتب کیے برصغیر پاک و ہند میں خدائی خدمتگار تحریک کے مداح اس تحریک کی مدح سرائی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اگر عدم تشدد کے فلسفے کو جاننا ہے تو بابڑہ اور چوک یادگار کے میدان کو دیکھا جائے جب فرنگی سرکار اور ان کے ٹاوٹوں نے خدائی خدمتگار سرخ پوشوں پر گولیوں کی بوچھاڑ کی تو نہ وہ میدان سے بھاگے اور نہ ہی جوابی حملے کا سوچا۔

جب دوران قید باچا خان سے ان کے ساتھیوں نے انتقامی و جوابی کارروائی کا پوچھا تو باچا خان نے صاف انکار کر دیا۔ باچا خان ایک سیکولر سوچ کی حامل شخصیت تھی جس کی وجہ سے بادشاہ خان ہمیشہ اس رجعت پسند معاشرے کے ہاتھوں لعن طعن کی زد میں رہے۔ ایک واقعہ نے نہ صرف باچا خان کی زندگی بدل کے رکھ دی بلکہ ہر پختون کی زندگی پر اس کا اثر مرتب ہوا گویا کہ یہ واقعہ باچا کی نجی زندگی کا تھا جب باچا خان نے انگریز فوج میں جاتے جاتے رہ گئے اور وہ تھا انگریز فوج کا رویہ جس نے انھیں انگریز سے منحرف کیا بلکہ اسی کی بدولت وہ خدائی خدمت گاری کے مشن پر گامزن ہوئے اور کروڑوں انسانوں کی زندگیاں بدل کے رکھ دیں۔

آج ایک دفعہ پھر پختونوں کو قیادت کی اشد ضرورت ہے جو اشرافیہ کے ہاتھوں تبدیلی کے نام پر بے وقوف بنے ہوئے ہیں۔ جو آج عدم تشدد کے فلسفے سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ اگر خدائی خدمتگار تحریک نے جو قیادت اس سماج کو مہیا کی ہے اگر بغور دیکھا جائے تو یہ امر دیکھنے کو ملتا ہے کہ یہ قیادت سہی معنوں میں قیادت کی تعریف پر پورا اترتے تھے انھوں نے معاشرے کے ہر سطح پہ مثبت کردار ادا کیا ہے خواہ وہ اجمل خٹک ہوں غنی خان ہوں ولی خان ہوں اور اسی طرح اس تحریک کے کئی گمنام ہیروز ہیں۔

آج اگر سیاسی جماعتوں نے سیاسی طور پہ اپنی ایک ساکھ بنانی ہے تو انھیں اپنی جماعتوں کے اندر جمہوری اور عدم تشدد کے رویوں کو فروغ دینا ہو گا۔ آج بھی مختلف سیاسی جماعتوں میں خدائی خدمتگار موجود ہیں جن کی اپنی جماعتوں کے اندر حوصلہ افزائی انتہائی ضروری ہے، تاکہ پاکستانی سماج ایک بہتر، منظم اور خوشحال معاشرے کی جانب گامزن ہو سکے۔

Facebook Comments HS