فطرتِ انسانی کی ثنویت اور ابن خلدون


انسانی فطرت دو رخوں پر مشتمل ہے۔ خیر و شر، روشنی و تاریکی، بھلائی و برائی۔ کوئی مکمل طور پر نیک نہیں اور نہ ہی مکمل طور پر بد۔ ہر فرد میں اچھائی اور برائی کا امتزاج پایا جاتا ہے، فرق صرف اتنا ہے کہ بعض میں اچھائی غالب ہوتی ہے اور بعض میں برائی۔ جو لوگ اچھے سمجھے جاتے ہیں، وہ اپنی برائیوں کو قابو میں رکھتے ہیں، جبکہ برے افراد اپنی منفی صفات پر قابو پانے میں ناکام رہتے ہیں۔ یہی فطرت انسانی کی ثنویت ہے، جسے ابن خلدون نے اپنے فلسفہ تاریخ میں نہایت باریک بینی سے بیان کیا ہے۔

ابن خلدون لکھتے ہیں، ”خیر و شر انسان کی گھٹی میں ہے۔ اگر کسی کو ظلم سے روکا نہ جائے تو وہ طاقت کے زور پر دوسروں کا حق غصب کر لے گا۔“ یہی وجہ ہے کہ معاشرے میں نظم و ضبط اور قانون کی ضرورت ہمیشہ سے رہی ہے۔ انسان اگر مہذب نہ بنایا جائے تو وہ اپنی جبلت کی پیروی کرے گا اور طاقتور کمزور کو کچل دے گا۔ اسی لیے ریاست کا قیام ناگزیر ہے تاکہ انسان کو اس کے فطری رجحانات کے تحت بے لگام ہونے سے روکا جا سکے۔

یہی ثنویت ہمیں سماج، سیاست، معیشت اور روزمرہ زندگی میں واضح نظر آتی ہے۔ معاشرے میں کچھ لوگ انصاف، ایمانداری اور ایثار کے اصولوں پر کاربند رہتے ہیں جبکہ بعض دھوکہ دہی، منافقت اور خودغرضی کے ذریعے طاقت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ یہی تضاد قوموں کے عروج و زوال کا باعث بنتا ہے۔ غالب نے کیا خوب کہا تھا:

آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا

یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم اپنی حیوانی جبلت کے تابع ہو کر خود غرضانہ زندگی گزاریں یا اعلیٰ انسانی اقدار کو اپنائیں۔ نیک انسان وہی ہے جو اپنی منفی جبلتوں پر قابو پانے کی صلاحیت رکھتا ہو، جبکہ برا انسان اپنی خواہشات اور تحریصی جذبات کا غلام ہوتا ہے۔

ابن خلدون کے مطابق حکومت کا بنیادی مقصد ظلم کو روکنا اور عدل قائم کرنا ہے، لیکن جب حکمران خود ظلم پر اتر آتے ہیں تو پوری ریاست انتشار کا شکار ہو جاتی ہے۔ وہ لکھتے ہیں، ”شہریوں کو حکومت باہمی ظلم سے روکتی ہے، لیکن اگر حکمران ہی ظالم بن جائیں تو ریاست زوال پذیر ہو جاتی ہے۔“ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسانی فطرت قابلِ اعتبار نہیں۔ جب طاقت ملتی ہے تو اکثر افراد اور گروہ اپنے وعدے، اصول اور اخلاقیات بھلا دیتے ہیں۔

ابن خلدون کا نظریہ سیاست و اخلاق ہمیں بتاتا ہے کہ حکومت صرف اس وقت تک قائم رہتی ہے جب اس میں عدل اور مکارمِ اخلاق کی پاسداری کی جائے۔ اگر حکمران طبقہ بدعنوان ہو جائے تو عصبیت کمزور پڑ جاتی ہے، اور یہی کسی بھی قوم کے زوال کی پہلی علامت ہوتی ہے۔ وہ لکھتے ہیں، ”جب کسی قوم میں اخلاقِ رذیلہ عام ہو جائیں تو اس کا زوال قریب ہوتا ہے، کیونکہ حکومت طاقت یا دولت سے نہیں بلکہ اعلیٰ اقدار سے قائم رہتی ہے۔“

انسان کی تقدیر اس کے اعمال سے جُڑی ہے۔ جنت و دوزخ کوئی خلا میں موجود تصورات نہیں، بلکہ یہ ہمارے اعمال کا نتیجہ ہیں جو ہماری فطرت میں موجود خیر و شر کے بیج سے پھوٹتے ہیں۔ ہر انسان کو اپنے باطن میں جھانکنا چاہیے اور خود سے سوال کرنا چاہیے کہ آیا وہ اپنی اچھائی کو فروغ دے رہا ہے یا اپنی برائی کو بڑھاوا دے رہا ہے۔

یہی وہ مسئلہ ہے جسے حل کیے بغیر نہ کوئی فلسفہ مکمل ہو سکتا ہے، نہ کوئی نظریہ، نہ کوئی مذہب اور نہ کوئی قانون۔ یہی وہ مسئلہ ہے جسے صوفیاء اور انبیاء نے حل کرنے کی کوشش کی، تاکہ انسان کو اس کی حیوانی جبلت سے بلند کیا جا سکے اور ایک مہذب معاشرہ وجود میں آ سکے۔ ابن خلدون کا فلسفہ ہمیں سکھاتا ہے کہ حکومت کا مقصد صرف حکمرانی نہیں، بلکہ عوام کی فلاح ہے۔ اگر حکومت میں اخلاقی اقدار نہ ہوں تو وہ بے روح ڈھانچہ بن جاتی ہے۔

ابن خلدون کے مطابق جب ایک قوم میں بدعنوانی، ظلم اور اخلاقی انحطاط عام ہو جائے تو خدا اس قوم سے حکومت چھین کر کسی اور قوم کو دے دیتا ہے جو زیادہ اہل ہو۔ یہی تاریخ کا وہ اصول ہے جسے نظر انداز کر کے کئی تہذیبیں برباد ہو چکی ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ اپنی فطرت کے دونوں پہلوؤں کو پہچانیں اور اپنی اچھائی کو مضبوط کریں، کیونکہ انسان کی بقا اسی میں ہے کہ وہ اپنی جبلت پر نہیں، بلکہ اعلیٰ انسانی اقدار پر عمل کرے۔

Facebook Comments HS