صنفی برابری؟ بے معنی مطالبہ


اف، یہ صنف نازک بھی نا۔ روز نیا بہانہ روز نئی شکایت ہر وقت شکوے۔

کبھی کہتی ہیں گھروں میں محفوظ نہیں۔ کبھی کہتی ہیں کام کی جگہوں پر محفوظ نہیں، کبھی سڑک بازار اور سکول یونیورسٹی میں ہراسمنٹ کا شکوہ۔ اس سب سے جی نہ بھرا تو برابری کا مطالبہ۔

دیکھیں کہاں ایک نازک سی لڑکی اور کہاں ایک مضبوط مرد۔ ایک جذباتی، نادان، کم عقل مخلوق اور ایک عقل مند اور فیصلہ ساز۔ یہ تو فطرت کے اصولوں کے خلاف ہے۔

اور اگر برابری اتنی ضروری ہے تو عورتیں کیوں مردوں جیسی نہیں بنتیں۔ وہ کیوں نہیں گلی محلوں میں بیٹھ کر مردوں کو گھورتیں؟ کیوں وہ بحیثیت باس اپنے مرد ورکرز کو ہراس کرتیں؟ کیوں بازار میں چلتے مردوں کو ہاتھ لگا کر نہیں گزرتیں؟ کیوں ان کی نظروں سے زینب، فاطمہ اور عائشہ جیسی ننھی بچیاں محفوظ ہیں؟ وہ کیوں اجتماعی زیادتی کے کیس میں گرفتار نہیں ہوتیں؟

دیکھیں اگر ایسا نہیں کر سکتیں تو برابری کا مطالبہ فضول ہے۔ اس لیے عورتوں کی خاموشی ہی بہتر ہے۔ ویسے اللہ بچائے ان سے یہ کیسے مرد کے آگے زبان چلا کر جنت میں داخل ہونے کا سوچ سکتی ہیں۔ ذرا سی گالی، تشدد اور ہراسمنٹ ہی تو ہے۔ مرد بیچارے کی تو فطرت میں تشدد کرنا شامل ہے، اس لیے بدلنا مشکل ہے نا۔ اور عورت کو جچتا ہے کہ وہ برداشت کرے۔ بس ایسے ہی مردوں کے خلاف نعرے بازی۔

ویسے آپس کی بات ہے کہ یہ مطالبہ اس لیے بھی بے معنی ہے کیونکہ عورتیں برابری کر تو رہی ہیں۔ اور کیسی برابری کی طلب گار ہیں؟

لیکن ٹھہریے۔ یہ بھی قابل غور ہے

اگر یہ واقعی بے معنی مطالبہ ہے کیونکہ وہ برابری تو کر رہی ہیں، تو پھر یہ سوالات کیوں پیدا ہوتے ہیں کہ

اگر عورت اور مرد برابر ہیں تو پھر عورت کو ہی کیوں ہر جگہ محتاط رہنے کا کہا جاتا ہے؟ کیا کبھی کسی مرد طالب علم پر حُسن کے نمبر ملنے کا الزام لگا؟

کیا کبھی اپنے آفس میں بہانے سے بلا کر اس کو زیادتی کا نشانہ بنانے کی کامیاب یا ناکام کوشش کی گئی ہے؟ کیا شوہر اپنی عورتوں کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بنائے جاتے ہیں؟ کیا کبھی کسی مرد کی عزت صرف اس لیے سر بازار نیلام ہوئی کہ وہ کسی مجمع میں موجود تھا؟

نہیں نا؟ تو پھر یہ مطالبہ بے معنی کیسے ہوا؟ یہ کیسی برابری ہوئی؟

چھوڑیں یہ سب تو ایسے ہی فضول سوالات ہیں۔ کچھ نیکوکار تو کہتے ہیں کہ اگر عورت کو گھر سے نکلنے نوکری کرنے اور آگے بڑھنے پر بار بار خود کو ثابت کرنا پڑتا ہے تو پھر وہ برابری تو نہیں۔

برابری تو وہاں ہوتی ہے نا جہاں دونوں کے لیے اصول ایک جیسے ہوں۔ جہاں اگر کوئی مرد رات کو اکیلا باہر نکلے اور اس کے لیے کوئی خطرہ نہ ہو تو وہاں عورت بھی ضرورت کے لیے بلاخوف نکل سکے۔ جہاں سنسان گلی سے گزرنے سے پہلے عورت یہ دعا اور خواہش نہ کرے کہ چاہے چار ٹانگوں والے کتوں سے سامنا ہو جائے لیکن دو ٹانگوں والوں سے نہ ہو۔ جہاں مرد کی ترقی اگر صرف اس کی محنت پر منحصر ہو تو وہاں عورت کو قابل ہونے کے باوجود اپنے حسن، وضع قطع یا چاپلوسی کا سہارا نہ لینا پڑے۔

سب سے بڑھ کر اگر عورت واقعی نازک، کمزور اور جذباتی ہے تو پھر اس کی حفاظت اور عزت کا خیال وہ مرد کیوں نہیں رکھتے جو جسمانی اور ذہنی ہر لحاظ سے خود کو مضبوط سمجھتے ہیں؟ کیا خیال ہے آپ کا؟

مجھے تو افسوس ہے ایسے ویسوں کی مردانگی پر کہ ان کے وہی ہاتھ جو حفاظت اور مدد کے لیے آگے بڑھنے چاہئیں، اکثر بھیڑیوں کے پنجے بن جاتے ہیں۔

اگر عورت کو ان نا انصافیوں کو بار بار ثابت کرنا پڑ رہا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ برابر ہونا صرف دعوی ہے، حقیقت کچھ اور ہے۔ کچھ چیزیں دعووں میں زیادہ اور حقیقت میں کم نظر آتی ہیں۔ اور جن کا کہنا ہے کہ ”ہم نے اپنی خواتین کو مکمل آزادی دے رکھی ہے“ انہیں بس اتنا سمجھنے کی ضرورت ہے کہ آزادی مانگنے کی شے نہیں، یہ ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔

Facebook Comments HS