اسرائیلی جمہوریت کو لاحق خطرات


اسرائیلی موساد تو ایک عالمی طور پہ معروف ایجنسی ہے البتہ دوسری بڑی ایجنسی کا نام بیت شین ہے جس کا سربراہ رونن بار حال ہی میں عہدے سے برطرف کر دیا گیا ہے۔ اس بات کا خدشہ کچھ عرصہ سے چلا آ رہا تھا مگر جب اعلان ہوا تو لوگ ششدر رہ گئے۔ فیصلہ سازی کا وقت حیران کن تھا۔ نیتن یاہو بھی درحقیقت سب پر بھاری ثابت ہونا چاہتا ہے۔ تمام ملکی فیصلہ سازی کا منبہ محض اس کی اپنی خواہشات کی تکمیل ہے۔ بذات خود وہ ملکی عدالتوں کو کئی مقدمات میں مطلوب ملزم ہے، گواہی دینے سے وہ کتراتا ہے اور بڑے حاکموں کا خاص الخاص آدمی ہے لہذا عوامی عدم اعتماد اور نفرت و حقارت کی اسے کوئی پروا نہیں۔ اپنے اقتدار کو طول دینا اس کا پسندیدہ مشغلہ ہے یوں سمجھیئے کہ وہ ماہی بے آب کی طرح غلام گردشوں سے باہر سانس لے ہی نہیں سکتا اور اقتدار میں رہنے کے لئے وہ کچھ بھی کر سکتا ہے۔ رونن بار ایک باخبر سرکاری ملازم تھا جو اگر سیاست گری پہ اترتا تو عدم اعتماد کی قرارداد منظور کرا لیتا مگر وہ ملازمت کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے محض دبے لہجے اور نپے تلے الفاظ میں حکام بالا کو حقائق کی تلخیوں کے بارے میں آگاہ کرتا تھا جو نیتن یاہو کو ایک آنکھ نہ بھاتا تھا۔ اپنے وزیر اعظم کے برعکس رویہ اختیار کیا کیونکہ سات اکتوبر کی حیران کن کارروائی کے بعد اس نے کئی عسکری کمانڈروں کے ہمراہ اپنی کوتاہی اور غفلت نہ صرف فوری طور پہ قبول کی بلکہ عوام سے معافی کا بھی طلبگار ہوا۔

اس وقت غلام گردشوں میں سخت رسہ کشی چل رہی ہے جس میں اعلیٰ ترین عہدے دار اپنے وزیر اعظم کے خلاف انتہائی کڑے الزامات پریس کے سامنے بیان دے کر کھلی جنگ کا اعلان کرتے ہیں اور نیتن یاہو ان کے خلاف پولیس میں رپٹ درج کرواتا ہے کہ اسے ہراساں کیا گیا ہے۔ اس بار کی برخاستگی کا یہی باتیں سبب بنی ہیں۔ نتین یاہو کسی صورت کسی عدالت یا عوامی شعور کا سامنا کرنا برداشت نہیں کر سکتا۔ سرکاری وکیل ایک خاتون ہے جس کا نام غالی بہاروف میارہ ہے وہ بھی خواہشمند ہے کہ ایسی بڑی فیصلہ سازی سے قبل اسے مشاورت میں شامل کیا جائے مگر وہ بھی اب آنکھوں میں کھٹکنا شروع ہو گئی ہے دیکھیں کب اسے بھی اپنے عہدے سے ہاتھ دھونا پڑے۔ بنیادی طور پہ وہ ایک نہایت دبنگ اور نڈر خاتون ہے جو منہ پہ سچ بولنے کا حوصلہ اور سلیقہ رکھتی ہے۔ وہ قانون کی پاسداری کی تمنا لئے پھرتی ہے ”مگر کھٹکتی ہے دل یزداں میں کانٹے کی طرح“ ۔ وہ نیتن یاہو کی من مانیوں کے آگے سیسہ پلائی دیوار بن چکی ہے۔ وہ کہتی ہے کسی کو عہدے پہ تعینات کرنے اور اتارنے کے لئے موجودہ قوانین کی پاسداری کی جائے مگر نیتن یاہو شتر بے مہار کی مانند جو چاہے کرتا پھرے اس کی روک ٹوک والا کوئی نہ ہو اور وہ جب سفید کوا کہے تو سب جی حضوری کرتے ہوئے کورنش بجا لائیں۔ اسی چکر میں چاہے ملکی سلامتی کی چولیں ہل جائیں۔ وہ جب بھی اپنا عکس آئینہ میں دیکھے اسے خون مسلم سے لتھڑا چہرہ بھی دنیا کا حسین ترین چہرہ دکھائی دے جو ایک نفسیاتی بیماری کا پتہ دیتا ہے عملاً مگر ایسا ہی چل رہا ہے۔

غزہ اس کا سب سے بڑا امتحان بن گیا ہے۔ وقت دور نہیں کہ اسے حساب تو دینا ہی پڑے گا۔ فی الحال تو وہ کسی کو جواب دینے کا روادار نہیں پریس کا سامنا وہ کر نہیں سکتا۔ دراصل اس کی حیثیت محض ایک ہوا بھرے غبارے سے زیادہ نہیں۔ ساری اکڑ فوں ایک ننھے سے سوراخ سے نکل سکتی ہے اب دیکھنا ہو گا کہ یہ عوامی، انتظامی اور عدالتی خواہشات کی تکمیل کب ہوتی ہے فی الحال تو سب کچھ اس کی سخت مٹھی میں بند ہے۔ خودساختہ طاقتور حکمرانوں کا المیہ ہی یہی ہوتا ہے کہ اقتدار و جبروت کے اس عالم میں بھی وہ اپنے سائے سے بھی خوفزدہ ہو جاتے ہیں۔ رونن بار کی برطرفی اس کی ایک واضح مثال ہے۔

Facebook Comments HS