بوتل صرف مشروب کے لئے استعمال کریں


”بوتل صرف مشروب کے لیے استعمال کریں“ یہ عام سا فقرہ تو ہم بچپن سے ہی بوتلوں پر دیکھتے اور پڑھتے چلے آئے ہیں۔ کچھ لوگ یہ پڑھ کر سراپا سوال بن جاتے تھے کہ ہیں جی؟ اب اس کا کیا مطلب ہو سکتا ہے۔ کچھ لوگ خود سے ہی کوئی مطلب اخذ کر لینے یا شاید اخذ نہ ہونے پر شرارت آمیز مسکراہٹ کی نمائش کر دیتے۔ ہم پر یہ عقدہ کب کھلا اس کی وضاحت آپ کے سامنے کیے دیتے ہیں۔

میری یہ عادت ہے کہ خود سے ہی گاڑی کی ڈگی میں چند بوتلیں پانی کی بھر کے ضرور رکھتا ہوں۔ مجھے ایک مخلص دوست نے یہ مشورہ دیا تھا کہ گرمیوں میں انجن کے زیادہ ہیٹ ہو جانے کا خدشہ ہوتا ہے تو ایسی صورتحال میں ریڈی ایٹر پر پانی ڈال کر انجن کو ٹھنڈا کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس لئے گاڑی میں پانی موجود ہونا چاہیے۔ ایک بار گاڑی کی فیول گیج خراب ہوئی تو ڈیڑھ لیٹر پٹرول بھی احتیاطاً رکھ لیا تھا کہ بوقت ضرورت کام آئے۔ گاڑی کی گیج ٹھیک ہو جانے کے بعد بھی وہ پٹرول کی بوتل دیگر سبز بوتلوں کے ساتھ اسی طرح موجود رہی۔

پہلی بار جب غلطی ہوئی تو دلچسپ بھی تھی اور خطرناک بھی۔ ٹریفک زیادہ دیر رکنے پر سڑک کنارے کھڑی گاڑی کا فین ٹرپ کر گیا تو انجن اوور ہیٹ ہونا شروع ہو گیا جس کا اندازہ باقاعدہ بونٹ کے نیچے سے بھاپ نکلنے پر ہوا۔ ہیٹ گیج بھی اوپری سطح تک اٹھ چکی تھی۔ میں انجن بند کیے بغیر اترا اور فوراً بونٹ کھولا۔ انجن سے اٹھتی ہیٹ منہ تک کو جھلسا رہی تھی اور ریڈی ایٹر سے منسلک ”ریزرو“ بوتل میں بھاپ نکلنے کے ساتھ ساتھ پانی کھولنے کی خوفناک آوازیں بھی آ رہی تھیں۔

میں نے وقت ضائع کیے بغیر جلدی سے ڈگی کو کھولا اور ایک بوتل نکال کر لایا۔ ابھی ڈھکن کھول کر ریڈی ایٹر پر ڈالنے ہی لگا تھا کہ پٹرول کی تیز بو نے اپنی موجودگی کا احساس دلایا۔ مجھے خطرہ محسوس ہوا کہ کہیں سے پٹرول بھی لیک ہو رہا ہے لہٰذا فوراً ریڈی ایٹر پر پانی ڈال کر انجن کو ٹھنڈا کرنا چاہیے۔ پانی ڈالنے سے فوری قبل اچانک مجھ پر انکشاف ہوا کہ پٹرول کی بو انجن سے نہیں بلکہ ہاتھ میں پکڑی اس بوتل سے آ رہی ہے جس کو میں بھاپ اڑاتے اور کھولتے ریڈی ایٹر پر ڈالنے لگا تھا۔ یہ انکشاف بیک وقت جان لیوا اور بعد ازاں جاں فزا ثابت ہوا۔

دوسری غلطی ایک ہفتہ پہلے کی ہے جب میں نے گاڑی اسٹارٹ کرنے سے پہلے ریڈی ایٹر میں پانی ڈالا۔ تھوڑی دیر بعد مجھے ہنسنے کے لئے کسی ساتھی کی ضرورت نہیں رہی تھی۔ اکیلے ہنسنے کی وجہ ریڈی ایٹر کی ”ریزرو“ بوتل سے اٹھتی سپرائٹ کی تیز اور ذائقہ دار خوشبو تھی۔ تو دوستو! ”سپرائٹ نہ کیا تو پھر کیا جیا والی“ بات اب ہم سے آگے بڑھ کر ہماری گاڑی پر بھی لاگو ہو رہی ہے۔ اس نے بھی جینا سیکھ لیا ہے۔

بہت سی مثالیں اور بھی ہیں مگر ان خبروں پر ذرا غور کریں۔
بچے نے تیزاب پی لیا۔ کیوں؟
بچے نے مٹی کا تیل پی لیا۔ کیوں؟
بچے نے غلطی سے زہریلی دوا پی لی۔ کیوں؟

تو دوستو! اگر کسی کی شراب کی بوتل میں سے شہد نکل آئے تو اتنا بڑا ایشو نہیں مگر آپ کا دفتر کا خاکروب ”تیزاب“ کو تیزاب کی بوتل میں رکھنے کی بجائے واش روم کے لوٹے میں ڈال کر رکھ دے تو یہ تشویشناک بات ہے۔ بہتر ہے ہر بوتل کو صرف اسی کے مشروب کے لئے استعمال کیا جائے۔ بصورت دیگر پہلے والا لیبل اتار دیا جائے اور نیا لیبل چسپاں کر دیا جائے یا مارکر سے لکھ لیا جائے۔ یہ تو پہلے بھی آفاقی اصول ہی ہے کہ دوائیں بچوں سے دور رکھیں۔

 

Facebook Comments HS