ایٹمی جنگ ہوئی تو کون بچے گا؟
یہ سوال مدت سے جواب طلب ہے اور اس کے جواب میں سب سے زیادہ جو نام لیا گیا ہے وہ ہے کاکروچ۔ مگر یہ بات بالکل بھی درست نہیں ہے۔ تو پھر درست نام کون سا ہے؟ اس سوال کا جواب حاصل کرنے کے لئے پہلے تھوڑا کاکروچ کی برداشت کے بارے میں جان لیجیے کہ یہ غلط فہمی کیسے پیدا ہوئی۔ اس سے بات کو سمجھنے میں آسانی ہو گی۔
کاکروچ اس کرہ ارض پر تقریباً ً ( 280 ملین) دو ہزار آٹھ سو لاکھ سال سے موجود ہیں اور ہر انسانی دور میں کنٹرول نہ ہو پانے اور بیماریاں پھیلانے کی وجہ سے یکساں طور پر قابل نفرت رہے ہیں۔ اور ان کی برداشت کے حوالے سے یہ بات آپ کے لئے بڑی دلچسپ ہو گی کہ اگر کاکروچ کا سر اتار دیا جائے تب بھی یہ ایک ہفتہ بغیر سر کے بھی زندہ رہ سکتے ہیں۔ اتنا کچھ برداشت کر لینے کے باوجود بھی یہ ناقابل شکست نہیں ہیں۔ دو ہم نام سائنسدانوں یعنی ڈاکٹر وارٹن اور وارٹن کی 1959 کی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ ایٹمی جنگ کی صورت میں یہ تو اپنی کلاس یعنی حشرات میں بھی سب سے پہلے مرنے والے ہوں گے۔ پھر سوال یہ رہا کہ سب سے آخر میں کون مرے گا یا ایٹمی حملے سے بھی کون زندہ بچ نکلے گا؟ اس راز کی جانچ کرنے کے لئے مختلف جانداروں میں سے ریڈی ایشن (جس کی یونٹ ”rad“ ہے ) کو گزارا گیا کہ کون کتنی ریڈی ایشن تک برداشت کر سکتا ہے۔
انسان تو صرف 1000 ریڈز تک ہی برداشت کر سکتا ہے۔ اس سے اگے وہ زندہ نہیں رہے گا۔ کاکروچ 20,000 ریڈز پر مارے جائیں گے۔ ایک فروٹ فلائی 64000 ریڈز تک برداشت کر لے گی جبکہ ایک ویسپ (بھڑ) 180,000 ریڈز تک بھی برداشت کر لیتی ہے۔ اب دیکھا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ کاکروچ صاحب تو اپنی کلاس میں بھی سب سے پہلے لڑھک جانے والوں میں سے ہیں۔ اب دیکھتے ہیں کہ پھر وہ چھپے رستم کون ہیں جو سب سے زیادہ ریڈی ایشن کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
تو جناب سب سے زیادہ ریڈی ایشن کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھنے کی ٹرافی ایک بیکٹیریم کو حاصل ہوتی ہے۔ اس بیکٹیریم کا نام ہے ”ڈینو کوکس ریڈیو ڈیورنز“ ۔ یہ عام حالات میں پندرہ سو لاکھ یعنی 1.5 ملین ریڈز تک برداشت کر سکتے ہیں لیکن اگر برف میں جمے ہوں تو ان کی برداشت بڑھ کر ڈبل یعنی تین ہزار لاکھ ( 3 ملین) تک چلی جاتی ہے۔ یہ بیکٹریم ہاتھی، اور لامہ کے گوبر میں پائے جاتے ہیں۔ اب ان کی برداشت کا ایٹمی دھماکے سے خارج ہونے والی ریڈی ایشن سے کریں تو وہ کم از کم 10 لاکھ ریڈز تک ہوتی ہے۔
ان بیکٹیریا کی اس خوبی کی بنا پر سائنسدان اس سوچ میں پڑے ہیں کہ شدید ترین سردی اور ریڈی ایشن سے بھی ان کا ڈی این اے جب سلامت رہ سکتا ہے تو ضرور یہ مریخ پر زندگی کے آثار کا بھی ایک بھید ہو سکتے ہیں۔


