مستقبل کی تیاری، آج کی ذمے داری


ایک قابل اعتماد ادارے کے اعداد و شمار نے جیسے الارم کی گھنٹیاں بجا دی ہیں۔ مشاہدے میں آیا ہے کہ اولڈ ہاؤسز کی ضروریات میں اضافہ ہو رہا ہے، تاہم ہم اب بھی اس خیال کے زبردست حامی ہیں کہ بزرگ ہمارے لیے سایۂ رحمت ہوا کرتے ہیں۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جنوبی ایشیائی معیشتوں میں آبادی میں اضافے کی شرح دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہے، جہاں 64 فیصد آبادی کی عمر 15 سے 29 سال کے درمیان ہے۔ پاکستان میں یہ شرح مزید بلند ہے، اور اندازہ ہے کہ 2030 تک پاکستان کی آبادی 244 ملین سے تجاوز کر جائے گی۔ یہ خیال آتے ہی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ بزرگ آبادی میں بھی سالانہ 3.3 فیصد کے حساب سے اضافہ متوقع ہے ( 2015 سے 2030 کے درمیان) ۔ صنفی لحاظ سے دیکھا جائے تو پاکستان میں عورتوں کی متوقع عمر مردوں سے 1.8 سال زیادہ ہے۔ اقوامِ متحدہ کی ورلڈ پاپولیشن پروجیکشنز کے مطابق، پاکستان میں بزرگ افراد کی آبادی 2050 تک 12.8 فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے، جو کہ 2015 میں 6.6 فیصد تھی۔ جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک کے مقابلے میں پاکستان میں بزرگ آبادی کے تناسب میں اضافہ کم ہو گا، جس کی ایک بڑی وجہ ملک میں معمر افراد کی کم تعداد ہے۔ پاکستان دنیا کا پانچواں سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے، جس کی کل آبادی 207.7 ملین نفوس پر مشتمل ہے۔

کسی بھی فرد کی فلاح و بہبود اس وقت ممکن ہوتی ہے جب اس کی بنیادی ضروریات پوری کی جائیں۔ جب بنیادی ضروریات کی تکمیل کی بات آتی ہے تو سماجی تحفظ کا کردار نہایت اہمیت اختیار کر لیتا ہے، خاص طور پر ان افراد کے لیے جو معاشرے کے پسماندہ طبقات سے تعلق رکھتے ہیں۔ بزرگ افراد کی فلاح و بہبود کے تناظر میں سماجی تحفظ کو ایک اضافی مگر کلیدی پہلو کے طور پر شامل کرنا لازم ہے۔

عالمی سطح پر ناقابلِ تردید شواہد سے یہ ثابت ہو چکا ہے کہ بڑھاپے میں غربت صحت کے مسائل کو کئی گنا بڑھا دیتی ہے، کیونکہ عمر رسیدہ افراد کی کام کرنے کی صلاحیت کم ہو جاتی ہے، جس کی وجہ سے ان کی معاشی کمزوریاں بڑھتی ہیں اور نتیجتاً غربت میں اضافہ ہوتا ہے۔ مزید یہ کہ بزرگ افراد کمزور قوتِ مدافعت اور عمومی صحت کی خرابی کے باعث چھوٹی بڑی بیماریوں کا زیادہ شکار ہو جاتے ہیں۔ ترقی پذیر ممالک میں یہ صورتحال مزید سنگین ہو جاتی ہے، لہٰذا ان مسائل کے حل کے لیے بامقصد اور موثر پالیسی اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔

عمر بڑھنے کے ساتھ فرد کی زندگی میں نمایاں تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں، جو اس کی ضروریات، ترجیحات، اور مسائل سے نمٹنے کے طریقۂ کار میں بھی تبدیلی کا تقاضا کرتی ہیں۔ بزرگوں کی فلاح و بہبود کو موثر انداز میں ممکن بنانے کے لیے ان کی زندگی کے ہر پہلو کی شناخت اور گہرائی سے مطالعہ نہایت ضروری ہے۔

بڑھاپے میں صحت سب سے زیادہ متاثر ہوتی ہے۔ بزرگ افراد نہ صرف بیماریوں کا زیادہ شکار ہوتے ہیں بلکہ انہیں دائمی بیماریوں کا سامنا بھی نسبتاً زیادہ رہتا ہے۔ جسمانی اور ذہنی صلاحیت میں کمی کے باعث وہ کام کرنے کے قابل نہیں رہتے، جس کے نتیجے میں ان کی مالی حالت متاثر ہوتی ہے اور وہ غربت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ان کی معیشت میں شراکت کم اور ضروریات زیادہ ہونے کے باعث اکثر انہیں نظر انداز کیا جاتا ہے یا معاشرتی عزت سے محروم کر دیا جاتا ہے۔ یہ نہایت ضروری ہے کہ اس طبقے کو عمر یا جنس کی بنیاد پر امتیاز سے محفوظ رکھا جائے اور انہیں بھرپور معاشرتی عزت، عزتِ نفس اور تعاون فراہم کیا جائے۔

خودمختاری اس وقت حاصل ہوتی ہے جب بزرگ افراد اپنی بنیادی ضروریات خود پوری کرنے کے قابل ہوں، یا ان کے پاس محفوظ آمدنی کے ذرائع ہوں۔ خودمختاری نہ صرف مالی استحکام دیتی ہے بلکہ وقار کا احساس بھی پیدا کرتی ہے۔ بزرگ افراد کو غربت سے بچانے کے لیے مالی امداد، صحت کی دیکھ بھال کے لیے بیمہ، اور محفوظ بڑھاپے کے لیے ریٹائرمنٹ اسکیمز و پنشن جیسی سیکیورٹی درکار ہوتی ہے، جو ان کے تحفظ کا اہم ذریعہ بن سکتی ہیں۔ ان اقدامات کے ذریعے نہ صرف ان کی زندگی آسان بنائی جا سکتی ہے بلکہ معاشرے کو بھی ایک متوازن اور محفوظ سمت دی جا سکتی ہے۔

آخر میں، یہ سمجھنا از حد ضروری ہے کہ کسی بھی معاشرے کی ترقی کا انحصار صرف نوجوان نسل پر نہیں، بلکہ بزرگوں کے تجربے، دانش اور رہنمائی پر بھی ہوتا ہے۔ اگر ہم ان کی ضروریات اور وقار کو نظر انداز کریں گے تو نہ صرف ان کی زندگیوں کو مشکل بنائیں گے بلکہ اپنی اجتماعی سماجی اقدار کو بھی کمزور کریں گے۔ ریاست کو چاہیے کہ وہ بزرگوں کے لیے مخصوص پالیسیز تشکیل دے، عمر رسیدہ افراد کے لیے مفت یا کم قیمت طبی سہولیات فراہم کرے، اور پنشن و سماجی تحفظ کے نظام کو مضبوط بنائے۔ اسی طرح معاشرتی سطح پر ہمیں یہ سوچ پروان چڑھانی ہوگی کہ بزرگ صرف ذمہ داری نہیں بلکہ ہمارے معاشرتی سرمایہ ہیں، جن کی خدمت کرنا ہمارا اخلاقی اور قومی فریضہ ہے۔

Facebook Comments HS