اڈیالہ کے ”مکین“ سے آنکھ مچولی
پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کو اڈیالہ جیل میں دو سال ہو گئے ہیں آئے روز ان کی رہائی کے بارے میں سیاسی حلقوں میں افواہیں گردش کرتی رہتی ہیں لیکن ان میں کوئی حقیقت نظر نہیں آتی عمران خان کے خلاف کم و بیش دو سو کیس ہیں لیکن بیشتر کیسوں میں ان کی ضمانت ہو چکی ہے تاہم وہ 190 ملین پاؤنڈ کیس میں 14 سال قید بھگت رہے ہیں ان کی اہلیہ کو 7 سال قید ہوئی ہے دونوں اڈیالہ جیل میں الگ الگ سیلوں میں قید کاٹ رہے ہیں جیل مینول کے مطابق سزا یافتہ قیدی کی ہفتہ میں ملاقات کے لئے دو دن مقرر ہوتے ہیں عمران خان سے منگل کو وکلاء اور ان کی فیملی کے لوگ ملاقات کرتے ہیں جب کہ جمعرات کو عمران خان کے دوستوں کی ملاقات کا دن مقرر کیا گیا ہے عمران خان کا تعلق سیاست سے ہے اور جیل میں عمران خان کی ضروریات اور فرمائشوں کا خصوصی خیال رکھا جاتا ہے لیکن ان سے ملاقاتوں میں ”ڈنڈی“ ماری جاتی ہے وہ 190 ملین پاؤنڈ کیس میں سزا یافتہ ہونے کی وجہ سے سیاسی قیدی کا درجہ کھو بیٹھے ہیں اس لئے ان پر جیل مینول لا گو کیا جاتا ہے و کلا اور فیملی کے لئے بھی ملاقات کا دن مقرر ہے لیکن سلمان اکرم راجہ کی فراہم کردہ فہرست کے مطابق ملاقات نہیں کرائی جاتی کچھ لوگ فہرست میں نام نہ ہونے کے باوجود ملاقات کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں سلمان اکرم راجہ کو شکایت ہے ان کی فراہم کردہ فہرست کے مطابق عمران سے ملاقات نہیں کرائی جاتی اور جیل انتظامیہ اپنے منظور نظر افراد کو عمران خان سے ملاقات کرا دیتی ہے کیس کی سماعت کے دوران کچھ وکلاء عمران خان سے ملاقات کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں جیل انتظامیہ کی عمران خان سے ملاقات میں pik and chooose پالیسی سے پی ٹی آئی میں بھی پھوٹ پڑ گئی ہے جیل انتظامیہ پی ٹی آئی کے جس لیڈر کو چاہتی ہے ملاقات کرا دیتی ہے جس کو چاہتی ہے ڈراپ کر دیتی ہے جس پر سلمان اکرم راجہ شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہیں اور وہ غصے کے عالم میں اپنی جماعت کے ان لیڈروں کو بھی رگید دیتے ہیں جو ان کی فہرست میں شامل نہ ہونے کے باوجود اپنے اثر و رسوخ سے خان سے ملاقات کر آتے ہیں سلمان اکرم راجہ کی تین چار ہفتوں سے ملاقات نہیں ہوئی تو انہوں خوب شور شرابا کیا بالآخر عمران خان کی بہنوں کی بھی ملاقات کرا دی گئی تو ان کے احتجاج کی شدت میں کمی آ گئی۔ سلمان اکرم راجہ اپنے آپ کو ”عقاب“ سمجھتے ہیں جب کہ ملاقات کرنے والوں کو ”فاختاؤں“ کا درجہ دیتے ہیں۔
عمران خان کی تینوں بہنیں ملاقات کے لئے لاہور سے اڈیالہ جیل آتی رہیں تو انہیں گورکھ پور ناکے پر روک لیا جاتا رہا اور پھر وہ سارا دن بطور احتجاج گورکھ پور میں ننگے پاؤں فٹ پاتھ پر دھرنا دے کر احتجاج کرتی رہی ہیں لیکن جیل انتظامیہ کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی تھی جیل انتظامیہ کا کوئی ذمہ دار اس کی وجہ بتانے کی پوزیشن میں نہیں بس اتنا کہہ دینا کافی ہے اوپر سے حکم ہے۔ سیاسی حلقوں کی جانب سے انتظامیہ کی جانب سے جیل کے مکین اور خان سسٹرز کے ساتھ آنکھ مچولی کو ناپسندیدگی سے دیکھا گیا ہے ممکن ہے کہ اس طرح عمران خان اور علیمہ خان کو ذہنی اذیت پہنچا کر کسی کی انا کو تسکین پہنچائی جا رہی ہے لیکن اس سے حکومت کی بڑی بدنامی ہوئی ہے اڈیالہ جیل کے گرد و نواح میں ایک تماشا لگا رہتا ہے عدلیہ نے سلمان اکرم راجہ کی ملاقات کے بعد عمران خان کے حوالے سے بیان جاری کرنے پر پابندی لگا رکھی ہے اسی طرح علیمہ خان کی عمران خان سے ملاقات کی خبر کو اتنی اہمیت نہیں ملتی جتنی ملاقات کی اجازت نہ ملنے کی خبر وائرل ہونے سے شور شرابا کو ملتی ہے۔ پی ٹی آئی 26 نومبر 2024 ء کے ناکام مارچ کے بعد کوئی بڑا شو نہیں کر سکی۔ عید الفطر کے بعد گرینڈ اپوزیشن الائنس معرض وجود میں آیا اور نہ ہی کوئی تحریک شروع کی جا سکی ایسا دکھائی دیتا ہے پی ٹی آئی کی قیادت تھک ہار کر بیٹھ گئی ہے عمران خان کی قید کو قسمت کا لکھا کے طور پر قبول کر لیا اب ساری سیاست عمران خان سے ”غیر سیاسی“ عناصر کی ملاقات کے حوالے سے کی جا رہی ہے ”باخبر“ حلقوں کے حوالہ سے کبھی عمران خان سے ”غیر سیاسی“ عناصر کی ملاقات کی خبر بریک کی جاتی ہے پھر ان ہی حلقوں کی طرف سے ملاقات کی تردید آ جاتی ہے جیل انتظامیہ کی طرف سے کچھ لوگوں کی ملاقاتوں کے حوالے سے آنکھ مچولی کا سلسلہ جاری ہے۔
پلوں کے نیچے سے بہت پانی بہہ چکا ہے چار روزہ پاک بھارت جنگ نے شہباز شریف کی کمزور حکومت کو مضبوط بنا دیا ہے اور عاصم منیر کو فیلڈ مارشل کے منصب پر ترقی مل گئی ہے ادھر عمران خان بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار نہیں مقتدر حلقوں کی فرمائش پوری کیے بغیر ان کی رہائی ممکن نہیں اڈیالہ جیل سے پس پردہ ملاقاتوں کی خبروں سے پی ٹی آئی کے کارکنوں کو عمران خان کی رہائی کے بارے میں کچھ حوصلہ بڑھتا ہے لیکن پھر مایوسی کے سائے گہرے ہو جاتے ہیں شیر افضل مروت کو پی ٹی آئی سے نکال دیا گیا ہے لیکن وہ آئے روز عمران خان کے ساتھ ڈیل کے لئے ہونے والی ”خفیہ رابطہ کاری“ کے بارے میں جو انکشافات کر رہے ہیں وہ گھر کا بھیدی لنکا ڈھانے کے مترادف ہے بظاہر پی ٹی آئی منقسم نظر نہیں آتی لیکن پارٹی کے اندر گروپ بندی پائی جاتی ہے علیمہ خان کئی بار عمران خان کے وکلاء پر برس چکی ہیں اور ان سے سوال کرتی ہیں کہ انہوں نے عمران خان کی رہائی کے لئے کیا کیا ہے ویسے بھی پی ٹی آئی کے قائدین بشریٰ بی بی اور علیمہ خان کے کیمپوں میں منقسم ہیں علی امین گنڈا پور اور اعظم سواتی سمیت کچھ رہنما عمران خان کی ڈیل کے نتیجے میں رہائی کے حق میں ہیں اور وہ اس سلسلے میں اسٹیبلشمنٹ سے رابطے میں بھی ہیں۔
عمران خان کی رہائی 9 مئی 2023 ء کے واقعات پر قوم سے غیر مشروط معافی مانگنے اور ایجیٹیشن کی سیاست ترک کرنے کی یقین دہانی کرانے سے ممکن ہو سکتی ہے ان کے لئے گورنر ہاؤس نتھیا گلی خالی کرا لیا گیا تھا عمران خان کے لئے میانوالی کی نشست خالی کروا کر پارلیمنٹ میں لانے کی پیش کش موجود تھی لیکن پارٹی کے کچھ ”عقاب صفت“ لیڈروں نے اسے ”پولیٹیکل ٹریپ“ قرار دے کر ڈیل کو ناکام بنا دیا ہے۔ شنید ہے اب اڈیالہ جیل کے مکین کے پیغامات پر مقتدر حلقوں کی جانب سے کوئی جواب نہیں آ رہا اس صورت حال میں پی ٹی آئی کی قیادت پریشان ہے۔ حکومت گرانے کے لئے فوری طور پر کوئی تحریک چلانے کا امکان نہیں لہذا آنے والے دنوں میں اسٹیبلشمنٹ سے ”کچھ لو اور کچھ دو“ کی بنیاد پر ہی معاملہ ہو سکتا ہے۔

