مقبولیت سے قبولیت اور پھر یوٹرن


پاکستان کی سیاست میں بہت کچھ ہوتے دیکھا ہے جن کا بیان چلانے پر پابندی تھی ان کو اپنے ہاتھوں سے قبولیت کے کبوتر اُڑاتے دیکھا ہے لیکن خیر پھر میں قوم کو نواز نہ ملا بلکہ شہباز شریف مل گیا کیونکہ بڑوں کو کچھ اور ہی منظور تھا

حالیہ عام انتخابات میں سب سے مقبول جماعت تحریک انصاف تھی لیکن ان کی قبولیت بانی کے بدلتے بیانات کے آڑے آ گئی اور جیت ان انتخابات میں اُن کی ہوئی جن کو قبولیت نصیب ہوئی۔ بھارتی حملے کے بعد سیاسی قیادت بھی سیز فائز کے بعد متحد دکھائی دی لیکن اب ایک دوسرے پر الزامات کا سلسلہ جاری ہے، تحریک انصاف بانی کی رہائی مانگ رہی ہے اور ساتھ میں یوٹرن بھی ساتھ ساتھ لے رہی ہے ایسے میں حکومت اور اسٹیبلشمنٹ سمیت کوئی بھی تحریک انصاف پر یقین پر کرنے کو تیار نہیں کہ تحریک انصاف اسٹیبلشمنٹ سے چاہتی کیا ہے۔ ڈیل کی صورت میں رہائی مقبولیت کے آڑے آئے گی شاید ان ہی وجوہات کی بنا پر تحریک انصاف بار بار بیانات سے یوٹرن لے رہی ہے اس متعلق

متعدد سینئر صحافی بھی اپنے اپنے دعوے کر رہے ہیں۔ کچھ کو لگتا ہے عید سے قبل بانی پی ٹی آئی کی سزا معطل ہو جائے گی اور تو کچھ کہہ رہے ہیں He is Done ان کی رہائی نا ممکنات میں سے ہے۔ اگر عمران خان کو رہائی نہ دی جائے تو کیوں؟ اور اگر رہائی دے دی جائے تو اس کے ملک پر اثرات کیا ہوں گے موجودہ حکومت میں یہیں چہ مگوئیاں چل رہی ہیں عمران خان کا باہر آنا خود حکومت کے مفاد میں نہیں، عمران خان اسٹیبلشمنٹ سے براہ راست اپنے مذاکرات کے علاوہ کسی اور کو یہ اختیار دینے پر تیار ہی نہیں۔ اس کے باوجود کہ اسٹیبلشمنٹ واضح کرچکی ہے کہ جو بھی بات ہونی ہے وہ سیاسی قیادت کے درمیان ہوگی۔ عمران خان کی ضد کا مطلب ہے کہ وہی دھاک کے تین پات یعنی وہ خود بند گلی میں محصور ہیں۔ بانی پی ٹی آئی چاہتے تو خود کو تبدیل شخص کی حیثیت سے منوا سکتے تھے۔ وہ نو مئی کا داغ دھو کر خود کو دس مئی کی صف میں کھڑے لوگوں میں شامل کروا سکتے تھے، لیکن مقبولیت شاید ان کا پیچھا نہیں چھوڑ رہی۔ لیکن میری ناقص رائے میں لگ رہا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ ان کو کسی نہ کسی بات پر راضی کر لیں گی اور عید سے قبل رہائی ممکن ہو سکے گی لیکن کسی بھی یوٹرن کی صورت میں سماعت ملتوی ہو جائے گی یا پر ول پر رہائی کے لئے مجھے نہیں لگتا کہ عمران خان مانیں گے یا پھر ہو سکتا ہے اعتماد کی بحالی کے لئے بشرہ بی بی کو ریلیف مل جائے تاکہ بات آگے بڑھائی جائے خان اپنی مقبولیت ابھی وہ کسی صورت کھونا نہیں چاہتے کیونکہ تحریک انصاف کے سپورٹرز زیادہ تر نوجوان ہیں اور نوجوان لعن طعن کی سیاست کو پسند کرتے ہیں۔ قومی یکجہتی بھی وقت کی ضرورت ہے کیونکہ بھارت پھر سے حملہ کرے گا اس کا امکان موجود ہے ایسے میں ملک میں سیاسی استحکام وقت کی اہم ضرورت ہے سیاسی جماعتوں سمیت فیصلہ سازوں کو چاہیے کہ ایسا فارمولا طے کر لیا جائے جس میں پاکستان کی جیت ہو کیونکہ پاکستان سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں

Facebook Comments HS