اسرائیل کا ایران پر حملہ، پراکسی وارز سے براہِ راست جنگ تک


ایک بڑی اور غیر معمولی خبر نے فضا کو سنجیدہ اور بے چین کر دیا ہے۔ اسرائیل نے ایران پر بھرپور فضائی حملہ کر کے اس کی عسکری طاقت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ اس کارروائی میں ایران کی اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، اور اعلیٰ عسکری قیادت کے مارے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، جن میں ایرانی آرمی چیف بھی شامل ہیں۔ مگر یہ واقعہ اچانک پیش نہیں آیا، بلکہ برسوں سے جاری فرقہ ورانہ کشیدگی، پراکسی جنگوں اور مسلم دنیا کی باہمی کمزوریوں کا سنگین نتیجہ ہے، جس کا فائدہ ہمیشہ دشمن نے اٹھایا۔

یہ کہانی 1979 ء سے شروع ہوتی ہے، جب ایران میں انقلاب آیا، شاہ ایران کا اقتدار ختم ہوا اور آیت اللہ خمینی ایک مذہبی رہنما کی حیثیت سے برسر اقتدار آئے۔ اُمید تھی کہ ایران ایک اسلامی ریاست بنے گا جو امت مسلمہ کے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہو گا۔ لیکن خمینی نے اعلان کیا کہ انقلاب کو پورے اسلامی خطے تک پھیلایا جائے گا۔ اور یہ انقلاب مخصوص شیعہ نظریے پر مبنی تھا۔ یہ اعلان عرب دنیا کو ناگوار گزرا۔ سنی اکثریتی ممالک جیسے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور کویت کو لگا کہ ایران ان کے ممالک میں شیعہ اقلیتوں کو سہارا دے کر ان کے تخت و تاج کو چیلنج کرے گا۔ یوں ایران اور عرب دنیا کے درمیان خلیج بڑھتی گئی، جو بعد میں شدید دشمنی میں بدل گئی۔

ایران نے مختلف ممالک میں باقاعدہ اپنے حامی گروہ کھڑے کیے۔ لبنان میں حزب اللہ، یمن میں حوثی، عراق و شام میں شیعہ ملیشیا۔ سب کو اسلحہ، تربیت اور سرمایہ فراہم کیا۔ خود کبھی براہِ راست میدان میں نہ اترا، بلکہ ان گروہوں کے ذریعے ”پراکسی وارز“ لڑتا رہا۔ جواباً عرب ممالک نے بھی ان گروہوں کے خلاف اپنے اتحادی تلاش کر کے ان کے خلاف کارروائیوں کا آغاز کیا۔ یوں ایک ہی اسلامی ملک میں مختلف مسلمان گروہ ایک دوسرے کے خلاف لڑتے رہے۔ مسلمان، مسلمان سے برسرِ پیکار رہا، اور اصل دشمن اس ساری صورتحال میں جلتی پر تیل کا کام انجام دیتا رہا۔ اسی کشمکش میں ایران نے اسرائیل کو اپنا سب سے بڑا دشمن قرار دے دیا، اور حزب اللہ و حماس کی حمایت کرتا رہا۔ تو عرب ممالک، جو کبھی اسرائیل مخالف تھے، ایران دشمنی میں آہستہ آہستہ اسرائیل کے قریب ہوتے گئے۔ کئی نے خفیہ، اور بعد میں کھلے عام، اسرائیل سے معاہدے کر لیے۔ ایران اس تنہائی میں مزید ڈوبتا چلا گیا۔

نتیجہ یہ نکلا کہ جب اسرائیل اور ایران کے درمیان براہِ راست جنگ کا آغاز ہوا، تو کوئی اسلامی ملک ابھی تک ایران کے ساتھ کھڑا نظر نہیں آ رہا۔ نہ سعودی عرب، نہ ترکی، نہ ہی باقی امتِ مسلمہ۔ سب خاموش تماشائی بنے رہے۔ یا صرف بیانات پر اکتفا کر رہے ہیں۔ یہ وہ انجام ہے جس کی بنیاد دہائیوں کی باہمی نفرت، پراکسی وارز، اور قیادت کی کوتاہیاں ہے۔ آج ایران تنہا ہے، کل کوئی اور ہو گا۔ دشمن ایک ایک کر کے سب کو نشانہ بنائے گا۔ اور ہم صرف مرثیے پڑھتے رہیں گے۔

تقدیر کے قاضی کا یہ فتویٰ ہے ازل سے
ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات

اس نئی صورتحال میں ایران کی پالیسیوں سے اختلاف کے باوجود، جب دشمن اسرائیل ہے، تو کم از کم ایک بات طے ہونی چاہیے کہ سارے مسلمان ممالک ایران کا ساتھ دیں، نہ کہ اسرائیل کا۔ اب بھی وقت ہے، کہ ہم فرقوں، قوموں، اور مفادات سے اوپر اٹھ کر امت کے تحفظ کے لیے ایک ہو جائیں۔

Facebook Comments HS