فوج پاناما کیس میں کیسا انصاف چاہتی ہے؟


 پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور کا ایک معنی خیز ٹویٹ سامنے آیا ہے جس سے یہ اندازہ تو ہوتا ہے کہ فوج انصاف اور میرٹ پر یقین رکھتی ہے لیکن یہ واضح نہیں ہوتا کہ اسے عدلیہ کی آزادی بھی قبول ہے یا نہیں۔ یہ وضاحت بے حد ضروری ہے۔ کیونکہ ماضی میں بارہا فوج کے سربراہان حکومت سنبھالتے ہوئے صرف جمہوری حکومت اور جمہوریت کا ہی گلا گھونٹنے کا سبب نہیں بنے بلکہ انہوں نے اعلیٰ عدلیہ سے ناپسندیدہ ججوں کو ہٹانے کی تاریک روایت بھی قائم کی ہے۔ 2007 میں اس وقت کے چیف جسٹس افتخار چوہدری کو آرمی ہاؤس میں بلا کر اور دھمکا کر استعفیٰ لینے کی کوشش کی گئی تھی۔ افتخار چوہدری کے انکار کے ہی نتیجہ میں ملک میں بحالی عدلیہ کی تحریک سامنے آئی جس نے پرویز مشرف کی آمریت کا بستر گول کرنے میں کردار ادا کیا۔ 2008 میں فوجی آمر کی حکومت ختم ہونے اور جمہوری حکومت کی بحالی کے بعد مسلسل یہ کہا جا رہا ہے کہ فوج جمہوریت کی حامی ہے۔ حتیٰ کہ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے بھی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے ساتھ ملاقات کے بعد اس بات کی گواہی دی ہے کہ پاک فوج کے سربراہ ملک میں جمہوریت کے حامی ہیں۔ گو کہ اب تک یہ وضاحت نہیں ہو سکی کہ ایک جمہوری نظام میں کام کرنے والی ایک جمہوری پارٹی کے سربراہ کو اچانک آرمی چیف سے ملنے اور یہ ’’ضمانت‘‘ حاصل کرنے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی کہ وہ جمہوریت کی حمایت کرتے ہیں یا کہ نہیں۔

میجر جنرل آصف غفور کا ٹویٹ فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کے دورہ برطانیہ میں منعقد کی گئی ایک پریس کانفرنس کے حوالے سے سامنے آیا ہے۔ میجر جنرل آصف غفور کی اس پریس کانفرنس میں پاناما کیس کے حوالے سے بھی سوال کیا گیا کیونکہ معاملہ اس وقت ملک میں زیر بحث اہم ترین معاملات میں شامل ہے۔ یہ قیاس آرائیاں کرنا روز کا معمول بن چکا ہے کہ یہ فیصلہ کب آئے گا اور کیا ہوگا۔ کیا اس کے نتیجہ میں نواز شریف کو معزول کر دیا جائے گا یا ان کے خلاف کرپشن کے الزامات کو مسترد کر دیا جائے گا۔ ہر مبصر اپنی صوابدید اور اندازوں کے مطابق جواب تلاش کرنے اور اندازے لگانے میں مصروف ہے۔ فوج چونکہ ملک کا ایک اہم ادارہ ہونے کے علاوہ ملکی سیاست میں بھی کردار ادا کرتی رہی ہے، اس لئے صحافیوں نے فوج کے ترجمان سے بھی اس موضوع پر رائے جاننے کےلئے سوال کرنا ضروری سمجھا۔ اس سوال کا جو جواب میڈیا میں رپورٹ ہوا، وہ کچھ یوں تھا: ’’پاکستانی فوج پاناما کیس سے متعلق جو بھی فیصلہ ہوا، اس کو قبول کرے گی۔ جبکہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ فیصلہ کیا آتا ہے‘‘۔ اس جواب میں کوئی ابہام نہیں تھا۔ یہ جواب کسی بحث یا بے چینی کا سبب بھی نہیں بنا لیکن فوج کے ترجمان کےلئے یہ رپورٹنگ تسلی بخش نہیں تھی۔ ان کے خیال میں ان کی بات مناسب طریقے سے سامنے نہیں لائی گئی بلکہ اسے سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا ہے۔ اسی لئے میجر جنرل آصف غفور نے اس کی وضاحت کرنا ضروری خیال کیا ہے۔

فوج کی طرف سے جاری کی گئی وضاحت میں کہا گیا ہے کہ ‘پاکستانی فوج بھی ہر پاکستانی کی طرح انصاف اور میرٹ کی بنیاد پر پاناما کیس کے فیصلہ کی منتظر ہے‘۔ اس مختصر ٹویٹ میں ہی یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس حوالے سے ہونے والی رپورٹنگ نامکمل اور سیاق و سباق سے ہٹ کر تھی اس لئے یہ وضاحت کی جا رہی ہے۔ لیکن فوج کے ترجمان کا وضاحتی ٹویٹ پاناما کیس ، ملکی سیاست اور جمہوریت کے حوالے سے فوج کے موقف کے بارے میں غیر یقینی پیدا کرنے کا سبب بننا چاہئے۔ اس ٹویٹ سے پہلے جو رپورٹ سامنے آئی تھی وہ اس لحاظ سے اطمینان بخش تھی کہ اس میں فوج کے ترجمان نے کسی قسم کی کوئی شرط عائد کئے بغیر یہ کہا تھا کہ پاناما کیس میں جو بھی فیصلہ آیا اسے قبول کیا جائے گا۔ یعنی فوج نے سپریم کورٹ کی خود مختاری اور انصاف پسندی کے علاوہ ملک کے قانون اور آئین پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا تھا۔ یہ رویہ اطمینان بخش اور قابل تحسین تھا۔ اس مکمل اور بہت جامع جواب کو نامکمل اور غیر اطمینان بخش قرار دیتے ہوئے پاناما کیس کے فیصلہ کے بارے میں میرٹ اور انصاف کی شرط عائد کی گئی ہے۔ گویا فوج کی طرف یہ کہا گیا ہے کہ وہ سپریم کورٹ کا صرف وہی فیصلہ قبول کرے گی جو اس کے خیال میں میرٹ اور انصاف کے تقاضوں کے مطابق ہوگا۔ میجر جنرل آصف غفور کا یہ ٹویٹ ملک کی سپریم کورٹ پر بالواسطہ عدم اعتماد کے مترادف ہے۔ اس مختصر پیغام سے یہ تاثر ملتا ہے کہ صرف سپریم کورٹ کے پانچ جج ہی انصاف اور میرٹ کو نہیں جانتے بلکہ فوج بھی اس بات پر نظر رکھے گی کہ یہ فیصلہ انصاف کے تقاضوں اور میرٹ کے معیار پر پورا اترتا ہو۔

ملک میں انصاف اور میرٹ کے بارے میں اتفاق رائے موجود نہیں۔ ہر ادارہ اور ہر فرد اس حوالے سے اپنا معیار اور رائے رکھتا ہے۔ ماضی میں فوج بھی یہ واضح کرتی رہی ہے کہ اسے صرف ایسے ججوں اور عدالتوں کی ضرورت ہے جو اس کے نقطہ نظر کے مطابق عدل فراہم کرنے اور میرٹ کا خیال رکھنے کے قابل ہوں۔ عدل و انصاف کے اسی فوجی معیار کی وجہ سے ملک کے منتخب وزیراعظم اور مقبول ترین لیڈر ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی کی سزا دی گئی اور ایک غیر منتخب فوجی آمر کی نگرانی میں یہ قبیح فعل سرانجام بھی دیا گیا۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو ملک کی پارلیمنٹ اب ’’عدالتی قتل‘‘ قرار دے چکی ہے۔ یہ فیصلہ اس وقت کی فوجی حکومت کے نزدیک عدل و انصاف اور میرٹ کے تقاضوں کے عین مطابق تھا۔ اسے تب پوری دنیا اور پاکستانی عوام نے مسترد کیا تھا اور اب تو اسے سیاسی پالیسی کے طور پر عدالتی قتل تسلیم کر لیا گیا ہے۔

یہ المیہ اپنی جگہ موجود ہے کہ ملک کی سپریم کورٹ اپنے ہی ایک غلط اور انصاف کش فیصلہ کو ری وزٹ REVISIT کرنے میں کسی مستعدی کا مظاہرہ نہیں کر رہی۔ اسی طرح ہر فوجی حکمران نے عبوری آئینی حکم نامہ یا پی سی او PCO کے ذریعے اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کو ملک کی غیر آئینی حکومتوں کی وفاداری کا حلف لینے اور فوجی سربراہوں کی صوابدید کے مطابق فیصلے کرنے پر مجبور کیا۔ یہ بھی اس ملک کی تاریخ کے سیاہ ابواب کا حصہ ہے کہ اعلیٰ عدالت کے بیشتر ججوں نے کبھی پی سی او سے بغاوت کرنے کی کوشش نہیں کی اور جن چند ججوں نے نیا حلف لینے سے انکار کیا انہیں آسانی سے اس عہدہ سے فارغ کر دیا گیا۔ فوج اور اس کے جرنیلوں کے اسی رویہ کے خلاف احتجاج افتخار چوہدری کے حرف انکار کی صورت میں سامنے آیا تھا اور اس کے نتیجے میں ایک ایسی تحریک نے جنم لیا جس نے میرٹ اور انصاف کی خود ساختہ ترجیح کو مسترد کیا تھا۔ تب ہی سپریم کورٹ کا ایک بنچ پرویز مشرف کی طرف سے 2007 میں دوبارہ ایمرجنسی نافذ کرنے کے حکم کو مسترد کرنے کے قابل ہوا تھا۔

اس پس منظر میں میجر جنرل آصف غفور کا پاناما فیصلہ کے حوالے سے میرٹ اور انصاف پر اصرار تشویش کا سبب ہونا چاہئے۔ حیرت ہے پاک فوج کے ترجمان نے اس اہم موضوع پر وضاحت کےلئے چند حرفی ٹویٹ کو کافی سمجھا۔ نہ کوئی مکمل بیان جاری ہوا اور نہ ہی نئی پریس کانفرنس بلا کر یہ وضاحت کرنے کی کوشش کی گئی کہ کیا وجہ ہے کہ فوج کو عدالت عظمیٰ کا کوئی بھی فیصلہ قبول نہیں ہوگا بلکہ اسے فوج کی تفہیم میں انصاف اور میرٹ پر پورا اترنا چاہئے۔ کیا اس ٹویٹ سے یہ سمجھا جائے کہ فوج سپریم کورٹ کے ججوں کو پاناما کیس میں فیصلہ لکھتے وقت ملک کی سیاسی نزاکتوں اور فوج کی ضرورتوں کا خیال رکھنے کا پیغام دے رہی ہے۔ اگر اس وضاحت کا یہ مقصد نہیں تھا تو فوج کے ترجمان کو ایک مناسب جواب کی اشاعت کے بعد اسے نامناسب اور نامکمل قرار دینے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی۔

Facebook Comments HS

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali