مقبوضہ کشمیر میں پھر خوں ریزی


مقبوضہ کشمیر میں سیکورٹی فورسز کی فائرنگ سے چھ نوجوانوں کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں تاہم کہا جا رہا ہے کہ مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ یہ سانحہ ضلع بڈگام کے علاقے چرار شریف میں پیش آیا جہاں پارلیمانی نشست کے لئے ضمنی انتخاطب ہو رہا تھا۔ مقامی باشندوں نے انتخابات کا بائیکاٹ کیا ہے اور پولنگ اسٹیشنوں پر ویرانی چھائی ہوئی تھی۔ بعض اطلاعات کے مطابق ایک فیصد سے بھی کم لوگ ووٹ ڈالنے کے لئے پولنگ اسٹیشن آئے تھے۔ علاقے کے نوجوانوں نے ضمنی انتخابات اور بڑی تعداد میں فوج تعینات کرنے کے خلاف مظاہرہ کیا تھا۔ ان مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے فوج نے گولی چلائی جس سے صورت حال خراب ہو گئی۔ بھارتی فوج امن و امان بحال کرنے کے نام پر کشمیر میں متعین کی گئی ہے لیکن وہ مسلسل کشمیری عوام کو جبر و تشدد کا نشانہ بناتی ہے۔ متعدد عالمی تنظیمیں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی سیکورٹی فورسز کے جابرانہ ہتھکنڈوں پر تشویش ظاہر کرچکی ہیں۔
بھارت کی حکومت اور وزیر اعظم نریندر مودی بظاہر یہ دعوے کرتے ہیں کہ مقبوضہ وادی میں صورت حال کنٹرول میں ہے اور مظاہرہ کرنے والے مٹھی بھر لوگ ہیں جو پاکستان کے بہکاوے میں فوج اور پولیس پر پتھراؤ کرتے ہیں، جس کی وجہ سے اشتعال پیدا ہوتا ہے۔ اور سانحات بھی رونما ہو تے ہیں۔ گزشتہ دنوں وزیر اعظم نریندر مودی مقبوضہ کشمیر میں مواصلات کی بہتری کے لئے ایک سرنگ کا افتتاح کرنے آئے تھے۔ اس موقع پر پورے کشمیر میں پہیہ جام ہڑتال کی گئی تھی۔ اس کے باوجود بھارتی لیڈر نے کشمیریوں کو وارننگ دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ خود فیصلہ کریں کہ انہیں سیاحت چاہئے یا تصادم اور انتشار۔ اسی تقریر میں نریندر مودی نے ایک بار پھر پاکستان پر کشمیر میں مداخلت کا الزام عائد کیا۔ حالانکہ کسی بھی بیرونی مدد سے کسی علاقے کے لوگوں کو کاروبار بند کرنے اور احتجاج کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ بھارتی حکومت خود اپنی پوری طاقت استعمال کرکے اور ہر طرح کا لالچ دینے کے باوجود کشمیریوں کو انتخاب میں ووٹ دینے پر آمادہ کرنے میں کامیاب نہیں ہوتی۔
اس کے باوجود بھارتی لیڈر کشمیریوں کے بنیادی مطالبہ کو ماننے اور انہیں حق خود اختیاری دینے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ فی الوقت بھارت کی پوری کوشش ہے کہ کشمیر کی صورت حال کا الزام پاکستان کے سر تھوپ کر یہ ظاہر کیا جائے کہ کشمیر میں مظاہرہ کرنے والے مٹھی بھر شر پسند ہیں جنہیں پاکستان وسائل فراہم کرتا ہے۔ تاہم بھارت اب اپنی ان کوششوں میں کامیاب نہیں ہورہا۔ اب دنیا کے سب ملکوں کے علم میں یہ بات آچکی ہے کہ بھارت کشمیری عوام کے ساتھ نا جائز اور ظالمانہ سلوک روا رکھے ہوئے ہے۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں یا عاملی اداروں کو مقبوضہ علاقوں میں جانے اور حالات کا جائزہ لینے کی بھی اجازت نہیں دی جاتی۔ اب یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ بھارت اصل صورت حال چھپانے کی کوشش کررہا ہے۔
مقبوضہ کشمیر میں موجود احتجاج اور مظاہروں کا سلسلہ جولائی میں ایک نوجوان حریت پسند برہان وانی کی شہادت کے بعد شروع ہؤا تھا۔ اس کے بعد بھارتی حکومت نے ہر ہتھکنڈا آزما کر دیکھ لیا لیکن کشمیری عوام کے احتجاج اور غم و غصہ میں کمی واقعہ نہیں ہوئی۔ جو تھوڑے بہت لوگ پہلے یہ سمجھتے تھے کہ مقبوضہ کشمیر کے انتخابات میں ووٹ ڈال کر اور سیاسی عمل میں حصہ لے کر بھارتی حکام کو کشمیریوں کے حقوق بحال کرنے پر آمادہ کیا جا سکے گا، وہ بھی اب مایوس ہو چکے ہیں۔ انہیں بھی اب یقین ہے کہ بھارتی حکومت ان کے مفادات کے خلاف صرف مفاد پرست عناصر کے ساتھ مل کر مقبوضہ کشمیر میں جمہوری حکومت کا ڈھونگ رچانے کے لئے انتخابات کرواتی ہے۔ اس لئے اب انتخابات کا بائیکاٹ کرنے والے لوگوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔
بھارت نے نہ صرف پاکستان کے ساتھ مذاکرات سے انکار کیا ہے بلکہ وہ کشمیر کے حقیقی لیڈروں کے ساتھ بھی سیاسی مذاکرات کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔ اسی لئے حریت کانفرنس کے لیڈروں نے بھی گزشتہ کچھ عرصہ سے بھارتی حکومت کے نمائیندوں سے نہ ملنے کی حکمت عملی اپنائی ہے۔ اس کے باوجود بھارتی حکمرانوں کو اپنی ناکامی اور غلط حکمت عملی کا ادراک نہیں ہوتا اور وہ بدستور کشمیر پر ذبردستی قبضہ برقرار رکھنے کی عاقبت نااندیشانہ پالیسی پر عمل پیرا ہے۔
آج متعدد کشمیری نوجوانوں کی دردناک شہادت سے کشمیری عوام نے ایک بار پھر اپنے خون سے یہ پیغام لکھ دیا ہے کہ وہ بھارتی استبداد اور ظلم کے آگے سر نہیں جھکائیں گے اور آزادی کے لئے جد و جہد جاری رکھیں گے۔

Facebook Comments HS

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali