دریائے سوات کا حادثہ؛ ایک مہنگا سودا

برسوں سے تعمیر کی راہ تکتی ہوئی گاؤں کی ٹوٹی پھوٹی سڑک جب ایک دم چمچماتی کارپٹ روڈ میں ڈھل گئی تو میرے ذہن میں وہ تمام حادثات اور لاشیں گھوم گئیں جو مین روڈ کے کارپٹ بننے پر ہوئے تھے۔ ہر دوسرے چوتھے روز کسی نہ کسی گاؤں میں حادثات اور اموات کا ذکر چھڑ جاتا۔ جوں جوں وقت گزرتا گیا اموات کم ہوتی گئیں۔ وجوہات یہی تھیں کہ لوگ سن سن کر اور دیکھ کر محتاط ہو گئے تھے البتہ لاشوں کی بنا پر سیکھنا بہت مہنگا سودا تھا۔
اب گاؤں کی ذیلی سڑک کارپٹ بنی تو مجھے بہت پریشانی ہوئی کہ اس سڑک پر ہائی سکول موجود تھا۔ سڑک کھلنے کے اگلے ہی روز میں ہائی سکول میں موجود تھا۔ ہیڈ ماسٹر صاحب سے بات کی کہ کیا ضروری ہے کہ ہر بار لاشیں اٹھا کر ہی سیکھا جائے۔ کیوں نہ بچوں کو اس دفعہ اسمبلی کے دوران ہی نئی سڑک پر چلنے کے حوالے سے آگاہی اور حساسیت پیدا کی جائے تاکہ ممکنہ حادثات سے پیشگی ہی اس کا سدباب ہو سکے۔ ہیڈ ماسٹر صاحب نے تعریف بھی کی اور اگلے روز اسمبلی میں بات کرنے کا وعدہ کیا۔
جب سے پاکستان میں ٹورازم بڑھا ہے اور زیادہ سے زیادہ لوگ ان دیکھے علاقوں کی طرف سفر کرنا شروع ہوئے ہیں تب سے ہی حادثات اور اموات کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ کہیں اوور لوڈڈ فیملی کار سڑک سے نیچے جا گری ہے تو کہیں بریک فیل ہو گئے ہیں۔ کہیں درجنوں لوگ برف میں پھنس گئے ہیں تو کہیں ان پر تودہ آ گرا ہے۔ کہیں اوور لوڈ پل گر گیا ہے تو کہیں لفٹ پھنس گئی ہے۔ کہیں بنا لائف جیکٹ پہنائے کشتی الٹ گئی۔
اب دریائے سوات میں 16 لوگوں کی ہلاکت کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ دیکھیے پاکستان اگلے چند سالوں تک ٹورزم کے حوالے سے محفوظ ہو جائے گا کیونکہ لوگ لاشیں دیکھتے اور مسائل سنتے سنتے سیکھ جائیں گے۔ مگر سوال یہ ہے کہ لاشوں کی قیمت پر سیکھا تو کیا یہ سودا بہت مہنگا نہیں ہے؟ حکومت کو ہر ریزارٹ پر آگاہی کے حوالے سے لوگوں کی ذمہ داریاں لگانی چاہئیں۔
بڑے بڑے بورڈز لگانے چاہئیں بلکہ ان رستوں پر جانے والی ٹریفک کو ٹول پلازہ پر ان علاقوں کے حوالے سے حفاظتی اقدامات کے لئے کتابچہ مہیا کرنا چاہیے۔ سیکیورٹی کے حوالے سے ایک ہیلی کاپٹر سٹینڈ بائی رہنا چاہیے کیونکہ اس طرح کے علاقوں میں گاڑی سے مدد کا مشکل ہوتا ہے۔ یہ چند تجاویز میرے جیسے عام آدمی کی ہیں حکومت اس حوالے سے سے بہتر لائحہ عمل بنا سکتی ہے۔ گزارش اتنی سی ہے کہ لاشوں کی بنیاد پر آگاہی پھیلانا بہت زیادہ گھاٹے کا سودا ہے۔ حفاظت کو پیشگی یقینی بنایا جائے۔

