پانامہ فیصلے پر جاوید چوہدری، ایاز امیر، عامر خاکوانی اور فرنود عالم کے تجزیات
"آپ کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ 20 اپریل دن دو بجکر 13 منٹ، 34 سکینڈ اور 44 نینو سکینڈ پر پانامہ کیس پر سپریم کورٹ کا فیصلہ ایک تاریخی فیصلہ ہے۔ آپ کو یہ ماننا پڑے گا کہ تحریک انصاف کی اخلاقی فتح ہوئی ہے۔ آپ دل پر ہاتھ رکھ کر سوچیں تو شریف خاندان کے لئے یہ فیصلہ ایک دھچکا ہے۔ یہ دھچکا کیسے ہے؟ اس سوال کو فی الحال ایک طرف رکھ کر ہم ماضی میں چلتے ہیں۔
چار ماہ قبل دھند آلود فضا میں، میں نے کوہ الپس میں قدم رکھا۔ کوہ الپس اٹلی، فرانس اور موزمبیق کے سنگم پر واقع پہاڑی سلسلہ ہے۔ کوہ الپس کے بیچوں بیچ ایک بینچ تھا۔ میں روز شام کو برف باری کا لطف لیتا وہاں بیٹھ کر بھاپ اڑاتی کافی کی چسکیاں لیتا تھا۔ ایک روز میں بینچ پر نیم دراز تھا کہ مجھے کسی نے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بلایا۔ میں نے مڑ کر دیکھا تو ششدر رہ گیا۔ وہاں چار بندر مجھ سے بینچ پر بیٹھنے کی اجازت مانگ رہے تھے۔ میں نے قہقہہ لگایا اور انھیں بیٹھنے کی اجازت دیدی۔ وہ دن اور آج کا دن مجھے ہمیشہ بندروں کی صحبت میں علم اور لطف دونوں ملے۔ میں ہاتھ جوڑ کر حکومت اور سپریم کورٹ سے استدعا کرونگا کہ وہ پانامہ کا جو مرضی فیصلہ دیں مگر پاکستان کے بندروں اور انسانوں دونوں کی اخلاقی تربیت کریں اور انھیں ایک بینچ پر بٹھا دیں۔ تاکہ ملک میں رواداری اور برداشت بڑھے۔

ایاز امیر۔۔۔
ہماری نسل نے جو عدلیہ کے فیصلوں کے نشیب و فراز دیکھے ہیں اس تناظر میں پانامہ پر فیصلہ کوئی انوکھا فیصلہ نہیں ہے۔ دیکھیں کیسا زمانہ پاکستان میں آگیا کہ نشیب و فراز جیسا لفظ جو کسی حسین پیکر کی وضاحت کرتے ہوئے استعمال ہونا چاہئے تھا اب عدلیہ کے لئے استعمال ہو رہا ہے۔ آرٹ کلچر اور حسن تو وطن عزیز سے قطع تعلق کر چکا ہے۔ ہمارے زمانے میں صنف نازک اپنے جسم کی ساخت کے حساب سے لباس زیب تن کرتی تھیں جس سے جسم کی موزونیت اور خوبصورتی نمایاں ہوتی تھی۔ لیکن اب ایسا فیشن آیا ہے کہ کھلے گھیر دار کپڑے پہنے جاتے ہیں۔ خواتین کے حسن کی اس پامالی کا ذمہ دار بھی کیا پانامہ ہے؟

عامر خاکوانی ۔۔۔
پچھلے کئی دنوں سے یار دوست پانامہ کیس پر فکری اور نظریاتی تقسیم اور متوقع فیصلے کے متعلق پوچھتے رہے۔ بے تکلف دوست تو ہماری ججمنٹ کے متعلق بھی استفسار کرتے رہے۔ پانامہ کے متعلق بھی کئی فکری دھڑے بن چکے ہیں۔ ایک لبرل طبقہ ہے جو جمہوریت کی حمایت اور تسلسل کا حامی ہے۔ دائیں بازو کی فکری نمائندگی بدقسمتی سے تقسیم یے۔ یہ ہماری انٹیلجنسیا کی کوتاہی ہے۔ خاص کر ہمارے اسلام پسند اس موضوع پر فکری اینگخت سے کوتاہی برتتے رہے۔ خاکسار کے زندگی میں دو اصول ہیں جن پر کاربند رہنے کی حتی الامکان کوشش کرتا ہوں۔ ایک تو کھانے پینے کے متعلق کسی کی ڈکٹیشن قبول نہیں کرتا۔ ٹھنڈے سموسوں سے ہماری کبھی نئی بنی الحمداللہ کسی دباؤ کے بغیر کبھی انھیں حلق کے نیچے نہیں اتارا۔ دوسرا اپنی رائے بلا کم و کاست صاف بیان کر دیتا ہوں۔ چاہے کسی کو بری لگے یا اچھی لگے۔

فرنود عالم۔۔۔
حضور میں کچھ کہوں گا تو خون تھوکوں گا۔ کھوپچے پر دستک ہوئی۔ سوال ہوا دادا پانامہ فیصلے پر کچھ رائے دیں۔ اب ہم کیا کہیں, پیر و مرشد آزاد کی نثر اور استاد گرامی وجاہت مسعود کی خوش الحانی اپنی رائے دے چکی تو ہم نگوڑے کس کھیت کی مولی ہیں؟ بہرحال حکم جاناں سر آنکھوں پر تعمیل کئے دیتے ہیں۔
عرض یہ ہے کہ
کسی زمانے میں ایک عدالت ہوا کرتی تھی۔ مدعی نے اپنی شکایت کی عرضی بھیجی۔ ظلم ہوا مائی لارڈ انصاف کیجئے۔ ملزم کی طلبی ہوئی۔ عدالت سجی۔ دلائل پیش ہوئے۔ پھر فیصلے کا وقت آیا۔ ساتھ ہی یار من ظفر اللہ خان نے اپنے چہرے کی رونمائی کی۔ اب جج شش و پنج میں ہے کہ فیصلہ دے یا یار من کی مہمان نوازی کرے؟
پھر ایک خیال لپکا۔۔

ارے سنئے۔۔
فیصلہ تو ہوچکا۔ آپ سمجھنے والے بنیں۔
کسی شاعر نے لکھا
ہر کوئی چہرہ چھپائے پھرتا ہے
پانامہ کا جج ہو جیسے
دے گھما کے!!


