سیاست اور قانون کے دہرے امتحان میں الجھی سپریم کورٹ (2)

پاناما کیس کا سارا معاملہ سیاسی اور میڈیا مباحث پر استوار ہے۔ سپریم کورٹ نے بھی قانونی میرٹ کی بجائے سیاسی بنیادوں پر ہی اس کی سماعت کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ ورنہ صرف نواز شریف کے خلاف ہی تحقیقات کیوں ضروری ہیں۔ یہ تحقیقات تو ہر اس شخص کے خلاف ہونی چاہئیں جس نے ملک سے باہر سرمایہ رکھا ہوا ہے یا جائیداد بنائی ہوئی ہے۔ اس تخصیص سے ہی اس معاملہ کی سیاسی نوعیت کا تعین ہو جاتا ہے۔ اس لئے جے آئی ٹی خواہ کسی نتیجے پر پہنچے اور اس کی روشنی میں کوئی بھی فیصلہ کیا جائے، اس سے ملک کی سیاست متاثر ہوگی اور اس کے سیاسی اثرات مرتب ہوں گے۔ یہ فیصلہ اپنی ماہیت اور حیثیت میں سو فیصد سیاسی ہوگا جسے قانون کے خوشنما غلاف میں لپیٹ کر پیش کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ جے آئی ٹی میں مختلف محکموں کے افسر شامل ہیں۔ ان میں فوج کے دو نمائندے بھی شامل ہیں۔ موجودہ حالات میں فوج اور سول حکومت کے درمیان جو خلیج حائل ہے اس میں فوج کے نمائندوں کی رائے اور دلائل باقی ارکان سے مختلف ہو سکتے ہیں۔ ایسی صورت میں قوم جس طرح منقسم بینچ کے فیصلہ کا مفہوم اپنی مرضی اور خواہش کے مطابق نکالنے کی کوشش کر رہی ہے، وہی کام سہ رکنی عدالتی بینچ کو بھی کرنا ہوگا۔ یعنی یہ طے کرنا ہو گا کہ وہ تحقیقاتی کمیٹی کے کس رکن یا ارکان کی رائے کو اہمیت دیں۔ اس طرح جس مشکل کو ججوں نے کمال ہوشیاری سے جے آئی ٹی کی طرف لڑھکا دیا تھا، وہ مشکل واپس انہی کی طرف لوٹ سکتی ہے۔
جے آئی ٹی متفقہ طور پر یا منقسم ہو کر دو میں سے ایک ہی فیصلہ کرے گی۔ یا وہ نواز شریف اور ان کے خاندان کو بری کر دے گی یا قصور قرار دے گی۔ قصوروار قرار دینے کی صورت میں سپریم کورٹ کو وزیراعظم کو معزول کرنا پڑے گا۔ عدالت عظمیٰ کے دو جج تو پہلے ہی یہ فیصلہ دے چکے ہیں۔ اس طرح ملک میں ایک نئی اور عجیب تاریخ رقم ہوگی کہ ناقص معلومات کی بنا پر اخذ کئے گئے نتیجہ کی بنیاد پر ایک منتخب وزیراعظم کو متنازعہ آئینی شقات کے تحت یہ کہتے ہوئے معزول کر دیا جائے کہ وہ صادق اور امین نہیں رہا۔ اگر جے آئی ٹی نواز شریف کو بری قرار دیتی ہے تو سپریم کورٹ سمیت اس عمل میں شامل ہر شخص کو یہ الزام قبول کرنا پڑے گا کہ وہ درپردہ حکومت سے ملے ہوئے تھے۔ اس طرح ایک نیا قانونی اور سیاسی بحران سامنے آئے گا۔ کیوں کہ سپریم کورٹ کے ججوں کو بخوبی اندازہ ہوگا کہ نواز شریف کی دیانت اور صداقت کے بارے میں ہر شخص کی اپنی رائے ہے۔ فیصلہ جوبھی ہو وہ اس رائے کو تبدیل نہیں کرے گا۔ تب جج بھی اپنے چیمبر میں بیٹھ کر جیسے چاہیں متنبہ کرتے رہیں کہ انہوں نے تویہ نہیں کہا، ان کے منہ میں زبان نہ ڈالی جائے۔ سپریم کورٹ کے تین جج 20 کروڑ عوام میں سے کس کس پر گرفت کریں گے۔

