مشال خان کی روح بے چین رہے گی!

چیف جسٹس نے بھی اس پر حیرت کا اظہار کیا ہے کہ اس معاملہ کی پہلے سے منصوبہ بندی کی جا رہی تھی اور اس میں یونیورسٹی کے حکام کے ملوث ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں لیکن ابھی تک اس حوالے سے نہ تو تحقیقات مکمل کی گئی ہیں اور نہ ہی یونیورسٹی کے حکام کے خلاف کوئی کارروائی کی گئی ہے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ اگر مشال خان قتل کی واردات میں پولیس نے کوتاہی اور غفلت سے کام لیا ہے تو یہ ایک سنگین معاملہ ہے جس کی تحقیق ہونی چاہئے۔ گزشتہ ماہ مشال خان کے بہیمانہ قتل کی ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد قوم پر سکتہ طاری ہو گیا تھا۔ عبدالولی خان یونیورسٹی کے طالب علموں کے ایک گروہ نے توہین مذہب پر مبنی پوسٹ فیس بک پر لگانے کا الزام عائد کرتے ہوئے مشال خان پر حملہ کیا تھا۔ اس موقع پر سینکڑوں دیگر طالب علم بھی موجود تھے لیکن انہوں نے مداخلت کرنا ضروری نہیں سمجھا۔ اس کی ایک وجہ تو ملک میں فروغ پانے والی عمومی بے حسی ہے لیکن اس رویہ کی اہم ترین وجہ یہ تھی کہ حملہ آوروں نے مشال خان پر توہین مذہب کا جھوٹا الزام عائد کیا تھا اور وہ بزعم خویش حرمت رسولؐ کا تحفظ کرنے کےلئے ایک نوجوان کو قتل کرنے کے ارادے سے آئے ہوئے تھے۔ ملک میں کسی بھی معاملہ میں الزام لگنے کے بعد عدالت سے ریلیف ملنے کا امکان بھی ہوتا ہے اور لوگ بھی عمومی طور پر ملزم کو اس وقت تک قصور وار نہیں سمجھتے جب تک عدالت میں نامزد شخص گناہ گار ثابت نہ ہو جائے اور اسے اس کے جرم کی سزا نہ دے دی جائے۔ تاہم توہین مذہب کے بارے میں الزام ایک ایسا دعویٰ ہے جس کےلئے کسی کو ثبوت لانے یا دلیل دینے کی ضرورت پیش نہیں آتی اور یہ الزام لگانے کے بعد متعلقہ شخص کو کسی بھی طریقہ سے ہلاک کرنے کو جائز اور درست رویہ سمجھا جاتا ہے۔

مشال خان کیس میں یہ واضح ہو چکا ہے کہ اس پر توہین مذہب کے الزامات بے بنیاد تھے۔ اس کے علاوہ پورے ملک کے عوام، خیبر پختونخوا حکومت، قومی اسمبلی اور وزیراعظم نے اس قتل کی مذمت کی ہے اور ملزموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ اس کے باوجود مشال خان کی بہنوں اور دیگر اہل خاندان کو اپنے ہی علاقے میں سکون سے زندگی بسر کرنا محال ہو رہا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان مشال کے اہل خانہ سے تعزیت کےلئے خود اس علاقے میں گئے تھے۔ لیکن اس کے باوجود یہ تعصب اور شبہ اس گاؤں و قصبہ کے لوگوں میں سرایت کر چکا ہے کہ شاید مشال خان توہین مذہب کا مرتکب ہوا ہو۔ اس لئے اس کی حمایت میں آواز اٹھا کر کہیں ہم بھی ’’جہنمی‘‘ نہ ہو جائیں۔ اس خوف نے ہی کئی نسلوں پر محیط تعلقات کو ختم کرتے ہوئے اہل علاقہ کو مشال خان کے جنازہ میں شرکت نہ کرنے پر آمادہ کیا تھا۔ حتیٰ کہ گاؤں کے پیش امام نے بھی مرحوم کی نماز جنازہ ادا کرنے سے گریز کیا کہ مبادا وہ خود ہی توہین کا مرتکب نہ قرار پائے۔ بعد میں یہ خبر سامنے آئی تھی کہ صورتحال واضح ہونے پر علاقے کے لوگوں نے مشال خان کے والد سے معافی مانگی ہے اور اس کی قبر پر جا کر فاتحہ خوانی بھی کی ہے۔ لیکن آج اقبال خان نے جو کچھ سپریم کورٹ کو بتایا ہے، اس کی روشنی میں یہ واضح ہوتا ہے کہ صورتحال میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
یعنی ایک بے گناہ کو بعض خفیہ مقاصد کےلئے جھوٹے الزامات عائد کرکے سرعام تشدد کرکے ہلاک کر دیا جائے اور بعد میں یہ الزامات غلط ثابت ہو جائیں اور مقتول کو وسیع تر ہمدردی کا مستحق بھی قرار دیا جائے لیکن اس معاشرہ میں ایسے لوگ موجود رہیں گے جو مقتول کے اہل خاندان کا جینا حرام کرنے کی کوشش کرتے رہیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ میڈیا کے علاوہ سیاسی لیڈروں کی طرف سے شدید مذمت کے بعد بھی مردان میں کئی ہزار لوگوں نے مشال خان کے خلاف مظاہرہ کیا، اس کے قاتلوں کو مومنین قرار دیا اور بازار بند کروا کے یہ واضح کیا گیا کہ مشال خان کو معاف نہیں کیا جا سکتا۔ اس مظاہرہ کا اہتمام کرنے والوں میں مردان کی ہر سیاسی پارٹی اور مذہبی گروہ کے لوگ موجود تھے۔ لیکن علاقہ پولیس، صوبائی حکومت یا وفاقی حکومت ان لوگوں کے خلاف کارروائی کرنے کا حوصلہ نہیں کر سکی۔ ملک میں اسلام اور مذہب کی تشریح کا ذمہ لینے والے علما اور اکابرین نے یہ واضح کر رکھا ہے کہ اس معاملہ میں نہ تو بات کی جا سکتی ہے ، نہ انصاف کی دہائی دی جا سکتی ہے اور نہ اس رویہ کو تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ حکومت اپنی سیاسی مجبوریوں کی وجہ سے نام نہاد مذہبی طاقتوں کے اس طرز عمل کو مسترد کرنے اور ملک میں بے گناہ لوگوں کا خون بہانے کے مذموم طریقے کو ختم کروانے میں لاچار اور بے بس دکھائی دیتی ہے۔
قومی اسمبلی مشال خان قتل کے بعد توہین مذہب کا غلط الزام لگانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی قرارداد منظور کر چکی ہے لیکن ملک کے قانون ساز اپنا حق استعمال کرتے ہوئے اس حوالے سے قانون بنانے میں ناکام ہیں۔ اس قرارداد میں گو کہ توہین مذہب کے قانون میں ترمیم کی بات نہیں کی گئی بلکہ بے بنیاد الزام لگانے والوں کی گرفت کےلئے قانون سازی کا ارادہ ظاہر کیا گیا تھا لیکن ملک کے معتبر ترین مذہبی رہنما مولانا فضل الرحمان نے فوری طور پر اس قرارداد کو توہین مذہب قانون میں ترمیم کا قصد قرار دیتے ہوئے سخت انتباہ جاری کرنا ضروری سمجھا۔ حکومت اس وارننگ پر سر جھکانے پر مجبور ہے کیونکہ مولانا فضل الرحمان مدرسوں کے لاکھوں طالب علموں کو سڑکوں پر لانے کی دھمکیاں دیتے رہے ہیں اور سیاسی طور پر حکومت کی مجبوری بھی بنے ہوئے ہیں۔
پاکستان کی حکومتیں جب تک ایسی مجبوریوں کی اسیر رہیں گی، اس وقت تک اس ملک کے عوام کے حقوق کو مذہب کے نام پر مصلوب کرنے والے ضیا الحق کی روح شاد رہے گی اور مشال خان جیسے مظلوموں کی روحیں انصاف کی تلاش میں بے چین رہیں گی۔ اور اس کا باپ اپنی بیٹیوں کی تعلیم کےلئے سپریم کورٹ کے آگے جھولی پھیلائے گا جس کے پاس اس جھولی میں ڈالنے کےلئے کچھ بھی نہیں ہے۔

