انصاف تو نواز شریف کو بھی ملنا چاہئے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ملک کے وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے بیٹوں پر کرپشن اور بد عنوانی کے الزامات کے ہنگامے میں یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ کسی شخص کو صرف اس لئے نا انصافی کا نشانہ نہیں بنایا جا سکتا کہ وہ ملک کا وزیر اعظم ہے۔ اس میں بھی شبہ نہیں ہونا چاہئے کہ ملک کے اعلیٰ عہدے پر فائز شخص پر جواب دہی کے حوالے سے غیر معمولی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ میاں نواز شریف سمیت اس ملک پر حکمرانی کرنے والے یا کسی بھی دوسری طرح اقتدار اور اعلیٰ سماجی و سیاسی حیثیت پر فائز افراد کم و بیش ہی اس ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے رہے ہیں۔ ملک کے کسی لیڈر یا عہدیدار نے کم ہی ایسی مثال قائم کی ہے کہ کسی عہدہ اور حیثیت پر متمکن ہونے کے باوجود خود کو احتساب یا جواب دہی کے لئے پیش کیا ہو۔ تاہم اس کوتاہی کے باوجود وزیر اعظم اور ان کے خاندان سمیت کسی بھی شخص کو صرف اس لئے انصاف دینے سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ وہ شخص کسی بڑے عہدے پر فائز ہے اور اس کے ساتھ توہین آمیز سلوک یا ناانصافی کرکے اپنی بڑائی یا انصاف پسندی ثابت کی جا سکتی ہے۔

اس یاد دہانی کی ضرورت یوں محسوس ہو رہی ہے کہ سپریم کورٹ نے دو ہفتے قبل پاناما کیس میں وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے بیٹوں کے مالی معاملات کے بارے میں تحقیقات کے لئے جو چھ رکنی جائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم مقرر کی تھی ، اس کے دو ارکان کی جانبداری کے بارے میں نواز شریف کے صاحبزادے حسین نواز کی طرف سے شدید اعتراضات سامنے آئے ہیں۔ اس حوالے سے سپریم کورٹ کو دی گئی درخواست میں کہا گیا ہے کہ کمیٹی میں شامل دو ارکان کا سابق فوجی آمر پرویز مشرف اور ان کے دور میں سرکاری سرپرستی میں بننے والی مسلم لیگ (ق) سے قریبی تعلق رہا ہے۔ ان دو ارکان میں سیکورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن کے بلال رسول اور اسٹیٹ بنک سے تعلق رکھنے والے عامر عزیز شامل ہیں۔ درخواست گزار کا کہنا ہے کہ یہ دونوں سابق آمر کے ساتھ تعلق رکھنے کے علاوہ نواز شریف کے خلاف حدیبیہ پیپرز ملز کے معاملہ کی تحقیق میں بھی شامل رہے ہیں۔ اس لئے یہ موجودہ جے آئی ٹی میں جانبداری کا مظاہرہ کریں گے۔

پاناما کیس کے فیصلہ پر عملدرآمد اور اس حوالے سے کام کرنے والی جے آئی ٹی کے کام کی نگرانی کرنے والے سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے اس درخواست کی اہمیت اور حساسیت کو تسلیم کرتے ہوئے فوری طور پر اس معاملہ کی سماعت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سوموار 29 مئی کو تین رکنی بینچ جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں اس درخواست کی سماعت کرے گا ۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر سامنے آنے والی حقائق درست ثابت ہوئے تو ان دو ارکان کو بدستور جے آئی ٹی کے رکن کے طور پر برقرار رکھنا مشکل ہو جائے گا۔ اس طرح نہ صرف موجودہ جے آئی ٹی تحلیل ہو سکتی ہے بلکہ سپریم کورٹ کی خواہش اور حکم کے مطابق ساٹھ دن کے اندر وزیر اعظم اور ان کے بیٹوں کے خلاف لندن میں ناجائز طریقے سے فلیٹ حاصل کرنے کے معاملہ کی تحقیقات کا کام مکمل کرنا بھی مشکل ہو سکتا ہے۔

اس پس منظر میں تھوڑی دیر پہلے بی بی سی نے خبر دی ہے کہ تحقیقاتی کمیٹی نے ہفتہ کے روز حسین نواز کو جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے کا نوٹس بھیجا ہے۔ واضح رہے حسین نواز لندن میں رہتے ہیں اور چوبیس گھنٹے کے نوٹس پر شاید ان کے لئے پاکستان آکر جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونا عملی طور پر بھی ممکن نہ ہو۔ لیکن اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ صرف ایک روز بعد سپریم کورٹ جے آئی ٹی کے دو ارکان پر اعتراض کے معاملہ کی سماعت کرنے والی ہے۔ اس صورت میں جے آئی ٹی کو اس سرعت میں اسی شخص کو طلب کرنے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی جو اس کے دو ارکان کے خلاف اعتراض لے کر سپریم کورٹ گیا ہے۔ اس طرح تو کمیٹی خود ہی اپنی ’بد نیتی‘ ثابت کرنے یا خود کو قانون سے بالا سمجھنے کے رویہ کا مظاہرہ کررہی ہے۔ اس طریقہ سے نہ انصاف کے تقاضے پورے ہوں گے اور نہ ہی قانون کی بالادستی قائم ہو سکتی ہے۔

حیرت کی بات ہے کہ دو ارکان کے بارے میں جو معلومات اب سامنے آئی ہیں، ان کا انکشاف کمیٹی قائم کرنے سے پہلے کیوں نہ ہو سکا۔ کیا دونوں متعلقہ افسران کو خود سپریم کورٹ کو نہیں بتانا چاہئے تھا کہ وہ نواز شریف کے سیاسی طور پر دشمن سابق آمر پرویز مشرف اور ان کے سیاسی مخالفین کی پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس لئے ان کا اس کمیٹی میں شامل ہونا مناسب نہیں ہوگا۔ یہ بھی باعث حیرت معاملہ ہے کہ سپریم کورٹ نے انتہائی احتیاط سے ایک غیر جانبدارانہ کمیٹی قائم کرنے کی کوشش کی تھی لیکن وہ یہ جاننے میں ناکام رہی کہ متعلقہ ارکان کی سماجی اور سیاسی وابستگیاں کہیں ان لوگوں کے خلاف نہ رہی ہوں جن کے خلاف تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

وزیر اعظم نواز شریف پر بہت سے الزامات عائد ہو سکتے ہیں۔ ان کے بارے میں بہت سے لوگوں کو یقین بھی ہو سکتا ہے کہ یہ الزامات سو فیصد درست ہیں لیکن اصول قانون کے تحت کوئی جج نواز شریف یا ان کے بیٹوں کو اس وقت تک مجرم قرار نہیں دے سکتا جب تک یہ الزامات کسی شک و شبہ سے بالا ہو کر ثابت نہ ہو جائیں اور انہیں غیر جانبدارانہ تحقیقات کا موقع فراہم نہ ہو۔ سپریم کورٹ کو اس سارے عمل کو شفاف اور غیر جانبدارانہ بنانے کی یقین دہانی کروانا ہوگی۔ ورنہ ملک کی تاریخ میں ایک نئے تاریک باب کا اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس سے پہلے اس ملک کی اعلیٰ عدالت ملک کے ایک وزیر اعظم کو پھانسی کے تختے تک پہنچا چکی ہے۔ لیکن اس فیصلہ کے نتیجہ میں عدالت ہی کو رسوائی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1737 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali