رمضان المبارک میں موسمی جنات سے بچاؤ

تو جناب، پہلا جن ہے مہنگائی کا۔ ویسے تو یہ جن سارا سال ہی ہمارے سروں پر مسلط رہتا ہے پر رمضان میں یہ آپے سے باہر ہو جاتا ہے اور کسی طور قابو نہیں آتا۔ غریبوں کی تو وہ درگت بناتا ہے کہ الامان و الحفیظ۔ بے چارہ غریب فاقوں پر مجبور ہو جاتا ہے۔ جبکہ امیروں سے تھوڑا گھبراتا ہے یہ جن۔ اس پر قابو پانے کیلئےاکثر بجٹ کا سہارا لیا جاتا ہے اور بجائے اس کی بنیادی وجوہات پر توجہ دینے کے، سستی اشیاء کی فراہمی کیلئے رقم مختص کر دی جاتی ہے اور یہ رقم کسی نہ کسی ترقیاتی منصوبے کو ذبح کر کے ہی پوری کی جا سکتی ہے۔
سستی روٹی سکیم کی مثال آپ کے سامنے ہے۔ تیس ارب کی ہیوی ڈیوٹی رقم گٹروں اور سیوریج لائنوں میں بہا دی گئی اور ابھی تک حکومت اس ضمن میں بینکوں سے لی گئی ادھار کی رقم پر سُود ادا کرتی پھر رہی ہے۔
رمضان میں اس جن کو قابو کرنے اور عوام کے سامنے اپنا ہمدردانہ حکومتی چہرہ دکھانے کیلئے سستے رمضان بازار لگا کر عوام کو رَج کے بےوقوف بنایا جاتاہے۔ جہاں مہنگائی کا جن ہر دکان کے باہر بڑا سا چھرا لیے پھسکڑا مارے بیٹھا نظر آتا ہے کہ آئے کوئی قربانی کا بکرا جس کی بَلّی چڑھاؤں۔ پر اس جن کو قابو کرنے کیلئے کوئی تدبیر کام نہیں آتی۔
دوسرا جن ہے بجلی کا۔ یہ انتہائی شریر اور آنکھ مچولی کا شوقین ہے۔ لمحوں میں آتا ہے اور اگلے ہی پل غائب ہو جاتا ہے۔ اس جن کے بہت سے پرستار ہیں۔ کچھ کو یہ میسر آ جاتا ہے، کہیں جنریٹر کی صورت اور کہیں سولر پینل کی شکل میں۔پر اکثر لوگ اس کیلئے دعائیں کرتے نظر آتے ہیں۔ ہیر کی طرح پنکھا ہاتھ میں لے کر اور "آ جا تینوں اکھیاں اڈیکدیاں” (آ جاؤ کہ آنکھیں تمہاری منتظر ہیں) کی تصویر بنے غریبوں کو تو یہ لفٹ ہی نہیں کرواتا۔ شدید گرمیوں میں یہ اپنے چاہنے والوں کو خوار کرتا ہے، بیمار کرتا ہے اور ہلکان کرتا ہے۔ جبکہ بل اتنا زیادہ کہ دیکھتے ہی ہارٹ اٹیک ہو جائے۔
تیسرا شریر جن ہے سوئی گیس کا۔ یہ ویسے تو سارا سال آنا جانا لگائے رکھتا ہے لیکن سردیوں میں یہ گدھے سے سر سے سینگ کی طرح غائب ہو جاتا ہے۔ لوگوں کو بھوکا مارتا ہے، سردی سے بے حال کرتا ہے، فیکٹریوں کا بھٹہ بٹھاتا ہے۔ اس کی گمشدگی سے نہ تو چولھا جلتا ہے اور نہ ہی ہیٹر سو ہر طرف ٹھنڈ پروگرام ہی ہوتا ہے۔ اس جن کا آبائی وطن تو سوئی (بلوچستان)ہے لیکن سنا ہے کہ وہاں کے باسیوں نے آج تک اس کی شکل نہیں دیکھی۔
آخری جن ان سب جنات کا باپ ہے اور وہ جن ہے کرپشن کا۔ انتہائی اکھڑ اور خود سر ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ جن کچھ شوبازوں کے تابع ہے اور اس جن کی کچھ کرامات حال ہی میں پانامہ اور Bargain Plea کی صورت میں نظر آئی ہیں۔ یہ اونچے اونچے عہدوں پر براجمان لوگوں کا پسندیدہ جن ہے جو اپنے مالکوں کو فلیٹوں، زمینوں اور نوٹوں سے بھری بوریوں کے نذرانے پیش کر کے خوش کرتا ہے۔
ان جنات کو قابو کرنے کیلئے فی الحال تو کسی شوباز عامل کی کوئی جھاڑ پھونک کام نہیں آئی اور نہ ہی آئے گی کیوں کہ مسئلے کی بنیاد پر توجہ دیئے بنا پیسہ بہانے کا مطلب ہے کہ اربوں روپے شوبازی میجک شو کی نظر کر دیئے جائیں اور عوام۔۔۔۔ "ہن آرام ای؟” (اب آرام ہے)

