سرہانے کا سانپ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

 سرہانے کا سانپ پھن پھیلائے ہوئے ہے

رات بھر میرا طواف کرتا ہے

سُنا ہے گھر جنت میں

سر کا سائیں نگہبان ہوتا ہے

نیندوں پہ ڈر کے سائے مُنڈلانے لگے ہیں

رِشتے تو آسمانوں پر بنتے ہیں

زمینوں پہ جسموں کی اذیت ناک کہانیاں ہیں

اور سانپوں کا زہریلا پہرا ہے

عورت پر نیند حرام ہوئی ہے

بستر پھولوں سے سجا ہے

ڈستا ہے رات بھر

سرہانے کا سانپ

جسم نیلا پڑ چُکا ہے

سُنو عورتو!

تمھارے بدن معتبر ہیں

تمھری پیشانیاں روشن دنیائیں ہیں

آنکھیں معبدوں کی محرابیں

اور سینے سیبوں کے باغ ہیں

تمھارے پاؤں پتھروں کو گدگداتے ہیں

اور تمھارے ہاتھ پانیوں کی طرح نرم خو ہیں

اپنی روحوں کو

سانپوں سے آزاد کر لو

خود کو پہچانو!!

Latest posts by یسریٰ وصال (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
یسریٰ وصال کی دیگر تحریریں