’امریکہ پہلے‘ کا نعرہ ٹرمپ کو لے ڈوبے گا

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انتخابی مہم کے دوران پیرس معاہدے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ماہرین کی ان قیاس آرائیوں کو نہیں مانتے۔ اس معاہدہ سے امریکہ کی صنعت اور معیشت کو بھاری نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے اس لئے وہ صدر بننے کے بعد اس معاہدہ کو تسلیم نہیں کریں گے۔ گزشتہ دنوں صدر ٹرمپ جب یورپ کے دورہ پر آئے تھے تو نیٹو کے سربراہی اجلاس کے علاوہ جی سیون ملکوں کے سربراہان کی بات چیت میں ماحولیات کے تحفظ کے لئے پیرس معاہدے کی اہمیت پر زور دیا گیا تھا۔ ٹرمپ نے اس بارے میں کوئی واضح بات کرنے کی بجائے کہا تھا کہ وہ سب کی باتیں سن رہے ہیں لیکن واشنگٹن واپس پہنچ کر اس بارے میں حتمی فیصلہ کریں گے۔ یورپی لیڈروں کو ان کے رویہ سے مایوسی ہوئی تھی لیکن یہ امید کی جارہی تھی کہ وہ واپس جاکر پیرس معاہدہ کے خلاف کوئی اقدام کرنے سے باز رہیں گے۔ امریکہ دنیا کا سب سے بڑا صنعتی ملک ہے اس لئے اس معاہدہ میں اس کی شرکت کو اہم سمجھا جاتا ہے۔ تاہم کل وہائٹ ہاؤس میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے پیرس معاہدہ کو امریکہ او ر امریکی کارکنوں کے مفاد کے برعکس قرار دیتے ہوئے اس سے نکلنے کا اعلان کیا۔
کینیڈا ، یورپ اور چین کے لیڈروں نے اس فیصلہ پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی پیرس معاہدہ کے مطابق اقدامات کرنے کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔ ان لیڈروں نے اپنے بیانات میں کہا ہے کہ دنیا کو محفوظ رکھنے کے لئے ماحولیاتی اقدامات کرنا اور گرین ہاؤس گیسز کے اخراج پر کنٹرول بے حد اہم ہے۔ اس لئے گرین انرجی کے منصوبوں پر کام جاری رکھا جائے گا تاکہ دنیا کو مکمل تباہی کے دہانے میں جانے سے بچایا جا سکے۔ امریکہ کے متعدد ماہرین، تبصرہ نگارں اور سیاست دانوں نے بھی صدر ٹرمپ کے فیصلہ پر شدید غم و غصہ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلیوں سے انکار کرکے مسئلہ حل نہیں کیا جاسکتا۔ پوری دنیا کے ملک طویل غور و خوض کے بعد اس اہم معاہدہ پر متفق ہوئے ہیں۔ امریکہ اگر اس معاہدہ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرے گا تو وہ دنیا میں اپنی قدر و قیمت کھو بیٹھے گا۔
امریکی صدر کی طرف سے یہ فیصلہ ماحولیاتی تحریک کے لئے اگرچہ شدید نقصان کا سبب بن سکتا ہے لیکن دنیا بھر سے سامنے آنے والے رد عمل کے بعد یہ کہنا مشکل نہیں ہے کہ اس فیصلہ سے امریکہ دنیا میں تنہائی کا شکار ہوگا۔ پوری دنیا ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لئے پر عزم ہے اور مختلف ملکوں کے لیڈروں نے بیک آواز یہ کہا کہ پیرس معاہدہ کے مقاصد پورے کرنے کے لئے کام جاری رکھا جائے گا۔ اسی طرح امریکہ کے مقامی سیاست دانوں اور مختلف ریاستوں کے منتظمین نے بھی اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ صدارتی فیصلہ کے باوجود وہ پیرس معاہدہ کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لئے اقدامات کرتے رہیں گے۔ بھارت جیسا ملک جو نریندر مودی کی حکومت میں امریکہ کے قریب ہونے کی سرتوڑ کوشش کررہا ہے، اس نے بھی صدر ٹرمپ کے اس فیصلہ کو مسترد کرتے ہوئے پیرس معاہدہ میں شامل رہنے کا اعلان کیا ہے۔
چین کے وزیر اعظم لی کیکیانگ آج کل برسلز میں یورپی لیڈروں سے ملاقاتیں کررہے ہیں۔ چین اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ گرین ہاؤس گیسز کے اخراج کا سبب ہے۔ تاہم وزیر اعظم لی نے پیرس معاہدے پر عملدرآمد کا یقین دلاتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاہدہ پر پوری طرح عمل یقینی بنایا جائے گا۔ اس طرح امریکہ جو ہر شعبہ میں دنیا کی قیادت کا دعویٰ کرتا تھا اب ماحولیات کی پالیسی کے سبب اپنے حلیف ملکوں سے دوری اختیار کرے گا اور اس کا فائدہ چین اٹھائے گا۔ اس سے پہلے ڈونلڈ ٹرمپ نے صدر کا عہدہ سنبھالنے کے ایک ہفتہ بعد ہی 12 ملکوں کے ٹرانس پیسیفک پارٹنر شپ معاہدہ سے نکلنے کا اعلان کیا تھا۔ سابق صدر اوباما کے دور میں اس معاہدہ کے تحت کینیڈا ، برازیل سے لے کر جاپان اور آسٹریلیا تک تجارتی معاملات میں تعاون کو فروغ دے کر چین کی بڑھتی ہوئی معاشی قوت کا مقابلہ کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔ امریکہ کے اس معاہدہ سے نکلنے کے بعد معاہدہ میں شامل دیگر ممالک چین کے ساتھ تعاون کرنے اور اس کی معاشی قیادت قبول کرنے پر مجبور ہوں گے۔
نئے امریکی صدر ’امریکہ پہلے‘ کا نعرہ لگاتے ہوئے ایسے عالمی معاہدوں کو خیر آباد کہہ رہے ہیں جو دنیا میں امریکہ کو تنہا کرنے اور خود اس کی معیشت اور تجارت کے لئے مشکلات پیدا کرنے کا سبب بن سکتے ہیں۔

