برطانوی انتخابات: سیکھنے کے سبق
جمعرات کو برطانیہ میں منعقد ہونے والے انتخابات میں حیران کن طور پر وزیراعظم ٹریسامے کی حکمران ٹوری پارٹی کو اکثریت سے محروم ہونا پڑا ہے۔ وہ اب اقلیتی حکومت بنانے کی کوشش کر رہی ہیں لیکن ان کی سیاسی پوزیشن بہت کمزور ہوئی ہے۔ پارٹی کے اندر سے بھی ان کی قیادت کے بارے میں سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ ان اختلافات نے زور پکڑا تو ان پر پارٹی کی قیادت سے علیحدہ ہونے کےلئے دباؤ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ ٹریسامے نے 18 اپریل کو اچانک عام انتخابات کا اعلان کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ یورپین یونین کے ساتھ بریکسٹ مذاکرات کے دوران مضبوط سیاسی قوت سے بات چیت کرنا چاہتی ہیں۔ اس وقت رائے عامہ کے جائزوں میں کنزرویٹو پارٹی کو مدمقابل لیبر پارٹی سے 20 فیصد برتری حاصل تھی۔ لیکن انتخابی مہم کے دوران یہ فرق کم ہونے لگا۔ انتخاب سے پہلے ٹوری پارٹی کو 650 کے ایوان میں 17 نشستوں کی برتری حاصل تھی لیکن اب وہ 326 کی معمولی اکثریت حاصل کرنے میں بھی کامیاب نہیں ہوئی۔ 650 میں سے 649 نشستوں کے نتائج سامنے آنے تک ٹوری پارٹی کو 318 جبکہ لیبر پارٹی کو 261 نشستیں مل چکی تھیں۔ اس طرح لیبر پارٹی کے بظاہر غیر مقبول لیڈر جیرمی کوربین پارٹی کو 32 مزید نشستیں دلوانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ اگرچہ لیبر پارٹی کو بھی اکثریت حاصل نہیں ہوئی لیکن حکومت کے مقابلے میں اس کی پوزیشن مضبوط ہوئی ہے اور پارلیمنٹ میں وہ کنزرویٹو پارٹی کی اقلیتی حکومت کےلئے مشکلات پیدا کر سکیں گے۔ ٹریسامے اگر اقلیتی حکومت قائم کرنے میں کامیاب نہیں ہوتیں تو لیبر پارٹی چھوٹی علاقائی پارٹیوں کے ساتھ مل کر حکومت بنانے کی کوشش بھی کر سکتی ہے۔
نئی سیاسی صورت حال برطانیہ کی ساسی حیثیت اور معاشی پوزیشن کے لئے بھی تشویشناک ہے۔ اسی لئے برطانوی پونڈ کی قیمت میں کمی دیکھی گئی ہے اور یورپ بھر میں منڈیاں برطانیہ کے حالات کا جائزہ لے رہی ہیں۔ وزیراعظم ٹریسامے نے کل رات لندن کے نواح میں اپنی نشست جیتنے کے بعد اعلان کیا تھا کہ ملک کو سیاسی استحکام کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹوری پارٹی اس وقت ملک کی سب سے بڑی پارٹی ہے۔ اسے سب سے زیادہ ووٹ بھی ملے ہیں۔ اس لئے یہ ذمہ داری بھی ہم پر عائد ہوتی ہے کہ ہم ملک میں استحکام فراہم کریں۔ تاہم ان کی یہ باتیں سیاسی فقرے بازی سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتیں۔ انہیں پارلیمنٹ میں واضح اکثریت حاصل تھی اور وہ 2020 تک حکومت کر سکتی تھیں لیکن انہوں نے سیاسی جؤا کھیلتے ہوئے 7 ہفتے پہلے اچانک نئے انتخابات کروانے کا اعلان کر دیا۔ ان کا خیال تھا کہ اس طرح وہ لیبر پارٹی کو مزید محدود کر دیں گی اور چند مزید نشستیں حاصل کرکے بریکسٹ مذاکرات میں یورپی لیڈروں پر دباؤ میں اضافہ کر سکیں گے۔ اگرچہ انہوں نے بریکسٹ مذاکرات کےلئے اپنا لائحہ عمل یہ کہتے ہوئے واضح نہیں کیا تھا کہ وہ اپنی حکمت عملی کو مذاکرات کےلئے خفیہ رکھنا چاہتی ہیں لیکن ان کا رویہ سخت گیر تھا۔ اس کے برعکس لیبر پارٹی نے بریکسٹ مذاکرات کو فوکس کرنے کی بجائے برطانیہ کو درپیش مسائل پر توجہ مرکوز کی۔
لیبر لیڈر جیرمی کوربین یورپین یونین کو کارپوریٹ کلچر کا نمائندہ قرار دیتے ہوئے اس کے مخالف رہے ہیں تاہم بریکسٹ ریفرنڈم میں انہوں نے یونین سے نکلنے کی مخالفت کی تھی۔ موجودہ انتخاب سے قبل ان کا کہنا تھا کہ بریکسٹ ایک حقیقت ہے، اس پر عملدرآمد تو ہوگا لیکن سیاستدانوں کو عوام کے فوری مسائل حل کرنے کی ضرورت ہے۔ اس طرح بنیادی طور پر دو سیاسی رویوں کے درمیان مقابلہ تھا۔ ٹریسامے کا خیال تھا کہ بریکسٹ ریفرنڈم کے تحت یورپین یونین سے اخراج کا معاملہ اہم ہے اور عوام انہیں زیادہ ووٹ دے کر مزید سیاسی قوت عطا کریں گے۔ وہ سماجی بہبود ، صحت ، معمر لوگوں کی سہولتوں حتیٰ کہ سکیورٹی کے حوالے سے واضح اور دوٹوک موقف اختیار نہیں کر سکیں۔ مہم کے دوران انہیں بعض اوقات اپنا مؤقف تبدیل بھی کرنا پڑا جس کی وجہ سے ووٹر ان سے مایوس ہوتے چلے گئے۔
ٹوری پارٹی کی لیڈر اور وزیراعظم ٹریسامے کے مقابلے میں لیبر پارٹی کے لیڈر جیرمی کوربین عوامی اپیل رکھتے ہیں۔ وہ سوشلسٹ خیالات کے مالک ہیں اور عوام کو براہ راست مفادات پہنچانے کی بات کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے ملک کے انفرا اسٹرکچر پر 250 ارب پاؤنڈ صرف کرنے کا وعدہ کرنے کے علاوہ یونیورسٹی کے طالب علموں کی بھاری فیسیں ختم کرنے کا اعلان کیا۔ برطانیہ کے شہریوں کےلئے یونیورسٹی کی تعلیم روایتی طور پر مفت یا سستی رہی ہے لیکن ٹوری حکومت کے دوران طالب علموں کی فیسوں میں غیر معمولی اضافہ کیا گیا تھا جس سے طالب علموں اور نوجوانوں میں شدید بے چینی تھی۔ جیرمی کوربین نے اس بے چینی کو سیاسی زبان دینے کی کامیاب کوشش کی۔ انہوں نے بڑی کمپنیوں پر ٹیکس میں اضافہ کا اعلان بھی کیا جبکہ ٹریسامے کارپوریٹ ٹیکس میں کمی کا اعلان کرتی رہی ہیں۔ ان اعلان اور عوامی رویہ کی وجہ سے بعض عناصر کے نزدیک انتہا پسندانہ خیالات رکھنے کے باوجود لیبر لیڈر اپنی پارٹی کو انتخاب میں نمایاں حیثیت دلوانے میں کامیاب رہے۔ مبصرین اس بات پر متفق ہیں کہ انتخابات میں گزشتہ بار کے مقابلے میں زیادہ لوگوں نے ووٹ دیا اور ان میں نوجوان ووٹروں کی تعداد زیادہ تھی۔ یہ ووٹر جیرمی کوربین کی پالیسیوں اور طرز سیاست سے متاثر ہیں۔ اس لئے لیبر کی کامیابی کو نوجوان ووٹروں کی تائید بھی کہا جا رہا ہے۔ لیکن ٹریسامے کی پارٹی کی ناکامی کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ برطانوی عوام بریکسٹ ریفرنڈم کے بعد آگے بڑھ چکے ہیں۔ اب وہ عام زندگی میں درپیش مسائل پر بات کرکے ان کا حل تلاش کرنا چاہتے ہیں جبکہ ٹریسامے بدستور بریکسٹ کو بنیاد بنا کر اپنی مقبولیت میں اضافہ کی کوشش کر رہی تھیں۔
ایک اندازہ یہ بھی ہے کہ ٹریسامے کی طرف سے صرف 2 سال بعد ہی نئے انتخابات کروانے کے سیاسی ہتھکنڈے کو لوگوں میں ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھا گیا۔ اکثر ووٹر یہ کہتے سنے گئے کہ اتنی جلدی دوبارہ انتخابات کروانے کی کیا ضرورت تھی۔ اس سے پہلے 2014 میں اسکاٹ لینڈ کی علیحدگی کا ریفرنڈم اور 2016 میں بریکسٹ ریفرنڈم ہو چکا تھا۔ لوگ بار بار ووٹ دے کر تنگ آ چکے تھے۔ عام لوگوں کا خیال تھا کہ حکومت کو انتخابات کروانے کی بجائے کارکردگی دکھانا چاہئے۔ لیکن ٹریسامے ملکی حالات ، عوام کی ضروریات اور برطانیہ میں سماجی سہولتوں میں کمی اور بیروزگاری کی وجہ سے مرتب ہونے والے اثرات کو محسوس کرنے اور ان پر عوام کی ناراضگی نوٹ کرنے کی بجائے یورپین یونین کے حوالے سے برطانیہ کی پوزیشن مستحکم کرنے کی جدوجہد میں مصروف تھیں۔ ان کا یہ سیاسی اقدام ان کی پارٹی اور ملک کو بے حد مہنگا پڑا ہے۔ کمزور برطانوی حکومت کو یورپین یونین کے مذاکرات کے علاوہ عام طور سے دوسرے ملکوں سے معاملات کرتے ہوئے مشکل صورتحال کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اگر ٹریسامے وزیراعظم کا عہدہ برقرار رکھنے میں کامیاب ہو جاتی ہیں تو بھی یورپی اور عالمی لیڈروں سے بات چیت کرتے ہوئے ان کی پوزیشن کمزور ہوگی۔ یہ نتیجہ ٹریسامے کی توقع اور اندازوں کے برعکس ثابت ہوا ہے۔ جو ان کے سیاسی اقدامات اور مستقبل پر اثرات مرتب کرے گا۔
انتخابی مہم کے دوران ٹریسامے کا رویہ اور جیرمی کوربین کو غیر سنجیدہ لیڈر ثابت کرنے کی کوششیں بھی بری طرح ناکام ہوئی ہیں۔ انہوں نے عوام کو یہ پیغام دینے کی کوشش کی کہ جیرمی کوربین غیر سنجیدہ اور غیر منظم لیڈر ہیں۔ وہ وزیراعظم بن گئے تو ملک کی معیشت تباہ ہو جائے گی اور بریکسٹ مذاکرات میں برطانیہ کی پوزیشن کمزور ہوگی۔ لیبر لیڈر کے خلاف ان کی یہ مہم کامیاب نہیں ہوئی۔ انہوں نے قومی ٹیلی ویژن پر پارٹی لیڈر مباحثہ میں یہ کہہ کر شرکت سے انکار کر دیا کہ وہ براہ راست عوام کے ساتھ مل کر انتخابی مہم چلانا چاہتی ہیں، سیاست دانوں سے غیر ضروری مباحث کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ اس طرح مباحثہ کے دوران جیرمی کوربین کو یک طرفہ طور سے ٹریسامے کے خلاف بات کرنے اور انہیں ایسی بزدل لیڈر قرار دینے کا موقع ملا جو مسائل کا سامنا کرنے اور سوالات کے جواب دینے کی صلاحیت نہیں رکھتیں۔ اس طرح انتخابی مہم کے دوران ٹریسامے نے جو بھی قدم اٹھایا وہ سیاسی طور پر ان کے خلاف گیا اور وہ اپنی حکمت عملی میں بری طرح ناکام ہو گئیں۔
عام طور سے سکیورٹی کنزویٹو پارٹی کا طاقتور کارڈ ہوتا ہے۔ ووٹر قومی سلامتی کے حوالے سے ٹوری پارٹی پر زیادہ اعتماد کرتے ہیں۔ لیکن لندن اور مانچسٹر میں ہونے والے دہشت گرد حملوں سے ٹریسامے کی سیاسی پوزیشن بہت کمزور ہوئی۔ انہوں نے سخت لب و لہجہ اختیار کرکے قومی سلامتی کےلئے موثر اقدامات کا اعلان کیا لیکن برطانیہ میں سکیورٹی کے حوالے سے پہلے ہی مضبوط نظام استوار ہے۔ اس کے علاوہ لیبر لیڈر نے واضح کیا کہ دہشت گردی کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ٹریسامے نے وزیر داخلہ کے طور پر پولیس کی آسامیوں میں بہت زیادہ کٹوتی کی تھی تا کہ وسائل کو بچایا جا سکے۔ جیرمی کوربین نے سوال کیا کہ کیا قومی وسائل لوگوں کی حفاظت پر صرف نہیں ہونے چاہئیں۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ وہ پولیس کی تعداد میں اضافہ کریں گے تاکہ محلوں اور دیہات میں زیادہ پولیس کے ذریعے سکیورٹی نظام کو حقیقی معنوں میں موثر بنایا جا سکے۔
برطانیہ کا انتخاب ہو چکا۔ اب وہاں سیاستدان سامنے آنے والے نتائج میں اپنی سیاسی پوزیشن مستحکم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پاکستان جیسے ملکوں میں جہاں اکثر برطانوی نظام اور جمہوریت کی مثال دی جاتی ہے سیاسی لیڈروں اور کارکنوں کےلئے اس انتخاب سے سیکھنے کے بہت سے سبق موجود ہیں۔ سب سے پہلا سبق تو یہ ہے کہ انتخاب اصولوں، مسائل کی نشاندہی اور ان کا حل تجویز کرنے کی بنیاد پر لڑا جاتا ہے۔ صرف مخالفین پر ذاتی حملے کرکے یا سیاستدانوں کی کردار کشی کے ذریعے جمہوریت پر لوگوں کا اعتماد بحال نہیں ہو سکتا۔ اس کے علاوہ کسی مسئلہ پر عوام کی تائید حاصل کرنے کے بعد سب اس فیصلہ کو قبول کرتے ہیں۔ پھر بار بار اس مسئلہ کو کسی ایک پارٹی کی مقبولیت میں اضافہ کےلئے استعمال کرنے کا ہتھکنڈہ مناسب نہیں ہوتا۔ ٹریسامے نے بریکسٹ کو انتخابی کامیابی کی سیڑھی بنانے کی کوشش کرکے یہی فاش غلطی کی تھی۔ پاکستانی سیاستدان بھی اسی طرح بعض مسائل پر رائے تیار کرنے کے بعد آگے بڑھیں اور دیگر مسائل پر توجہ دیں تو سیاسی جماعتوں کی قدر و قیمت میں اضافہ کا سبب بن سکتے ہیں۔
اہل پاکستان کےلئے ان انتخابات کا سب سے اہم سبق یہ ہے کہ انتخابی نتائج سامنے آنے کے بعد ان پر سوال نہیں اٹھانے چاہئیں اور نہ ہی الیکشن کمیشن کو مطعون کرکے اور جیتنے والے کو دھاندلی کا مرتکب قرار دے کر خود اپنی جیت کا دعویٰ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ جب تک سیاستدان خود جمہوری طریقہ کار اور نظام پر مکمل اعتماد کا اظہار نہیں کریں گے، اس وقت تک لوگوں میں بھی یہ شعور پیدا نہیں ہو سکتا۔


