چیمپیئنز کے چیمپیئن

یہاں بھارتی کپتان ویرات کوہلی کو بھی داد دینا ہو گی جنہوں نے شکست کا وجوہات کسی بھی وجہ پر ڈالنے کی بجائے خوش دلی سے اسے قبول کیا اور یہ بھی کہا وہ اپنی غلطیوں سے سبق سیکھ کر آگے بڑھیں گے۔ ویرات کوہلی ایک حقیقی چیمپیئن کھلاڑی ہیں اور ایک دنیا ان کی صلاحیتوں کی معترف ہے۔ شکست قبول کرنے کے ساتھ ساتھ انہوں نے پاکستان کرکٹ ٹیم کو سراہا جنہوں نے بھارت کو مکمل طور پر آؤٹ کلاس کر دیا۔ کوہلی نے پاکستانی ٹیم اور ان کے مداحوں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ آج پھر ٹیم پاکستان نے ثابت کر دیا کہ جو دن ان کا ہے اس دن وہ کسی کو بھی ہرا سکتے ہیں۔ وہ مایوس ضرور ہیں لیکن اپنی غلطیوں سے سیکھ کر آگے بڑھیں گے۔
چیمپیئنز ٹرافی کی جیت میں سب سے بڑا کردار نوجوان کھلاڑیوں کا ہے جنہوں کرکٹ کے جدید تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنا گیم ڈویلپ کیا اور پھر مڑ کر نہ دیکھا۔ حسن علی ہوں، فخر زمان ہوں، شاداب خان یا پھر رومان رئیس ۔۔۔۔۔ سبھی نے اپنی پرفارمنسز سے جہاں پاکستانیوں کے دل جیتے وہیں ٹیم کے ساتھ پندرہ پندرہ سال سے چپکے ہوئے کھلاڑیوں کیلئے بھی خطرے کی گھنٹی بجا دی۔ گزشتہ کچھ عرصے سے پاکستان کرکٹ ٹیم پر تنقید کی جا رہی تھی کہ وہ گزشتہ دہائیوں کی کرکٹ کھیل رہی ہے اور جدید تقاضوں سے آگاہی نہیں رکھتی اور یہی ان کی مسلسل شکستوں کی بڑی وجہ ہے۔ مگر اب ٹیم میں شامل نوجوان خون نے اپنا زور دکھایا اور سب کو بتا دیا کہ پاکستان میں ٹیلنٹ کی نہیں بلکہ درست سلیکشن کی کمی تھی۔
ٹیم کو شاندار کامیابی پر وزیراعظم اور آرمی چیف سمیت ہر جانب سے مبارک باد کے پیغامات مل رہے ہیں۔ کامیابی پر خوشی اور سرشاری بالکل بجا مگر جشن میں غلطیوں کو بھلانا درست نہیں ہو گا۔ پاکستان کرکٹ ٹیم میں اب بھی کئی خامیاں ہیں جنہیں دور کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ درست سلیکشن ، ڈومیسٹک کرکٹ کا مکمل اور بہترین ڈھانچہ ، فٹنس کیلئے بہترین سہولیات سمیت بہت سے ایسے کام کرنے کو باقی ہیں جو پاکستان کو کرکٹ کی نئی بلندیوں تک پہنچانے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

