عورت، اسلام اور ملا


اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہمار ے معاشر ے میں عورت بے اندازہ زیادتیوں اور ناانصافیوں کا شکار ہے۔ اس کے دینی حقوق تسلیم کیے جاتے ہیں نہ دنیوی۔ جاگیردارانہ سماج عورت سے بھیڑ بکری جیسا سلوک کرتا ہے۔ شادی بیاہ میں بھی عورت کی رضا اور پسند و ناپسند کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی، اسے جس کھونٹے سے جی چاہا باندھ دیا۔ وراثت میں بھی اس کا حق تسلیم نہیں کیا جاتا نہ اس کا حصہ ادا کیا جاتا ہے۔ سندھ میں ایک انتہائی قبیح رسم جاری ہے۔ عورتوں کو وراثت سے محروم رکھنے کے لیے ان کا قران سے نکاح کر دیا جاتا ہے۔ عورتوں کو تعلیم دلانا بھی معیوب سمجھا جاتا ہے۔

مزید ستم یہ ہے کہ اس رویہ کے حق میں مذہب کی سند پیش کی جاتی ہے۔ ہمارے ہاں آج بھی عورتوں کی تعلیم و تربیت کے لیے بہشتی زیور ایک مستند کتاب سمجھی جاتی ہے۔ اس کتاب کی رو سے عورت کے حقوق کی بات کرنا تو درکنار، اسے انسان سمجھنا بھی دشوار ہو جاتا ہے۔ برصغیر کے علما نے، مقامی اثرات کے زیر اثر، اسلام کی جو تعبیر اختیار کی ہے اس کے مطابق عورت سات پردوں میں چھپا کر رکھی جانے والی چیز ہے۔ اسی لیے ہمارے ہاں عورت کی پاکیزگی اور عفت کو بیان کرنے کے لیے یہ جملہ عام طور پر بولا جاتا ہے کہ اس پر کبھی سورج کی بھی نظر نہیں پڑی۔ گویا اگر اس پر کسی غیر محرم کی نظر پڑے گی تو فتنہ پیدا ہونا لازمی ہے۔ بلکہ عورت پر تو کجا اگر اس کی تحریر پر بھی کسی غیر محرم کی نظر پڑ جائے تو فتنہ پیدا ہو سکتا ہے۔ ان کے نزدیک یہ محض ایک امکان نہیں بلکہ واقعتا ایسا ہو چکا ہے کہ کئی مرد اس سے فتنہ میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ چنانچہ مولانا تھانوی کا فتویٰ یہ ہے کہ اگر کوئی عورت لکھنا جانتی ہو تو کسی دوسری عورت کو خط لکھ کر نہ دے کیونکہ اس طرح اس کی تحریر پر غیر محرم کی نظر پڑے گی جو بڑی بے شرمی کی بات ہے۔ ان کے خیال میں عورتوں کو تھوڑا بہت پڑھنا تو سکھانا چاہیے تا کہ وہ قرآن حکیم پڑھ سکیں مگر لکھنا نہیں سکھانا چاہیے کیونکہ اس طرح وہ آشنائی گانٹھنا شروع کر دیں گی۔ جن لوگوں کی پرواز خیال بس اتنی ہی ہو کہ اگر عورت کو لکھنا آ گیا تو وہ بس کسی آشنا کو خط لکھے گی وہ سد فتنہ کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا بہشتی زیور میں بیان کردہ تصور ہی حقیقی اسلامی تصور ہے یا یہ تصور مخصوص تاریخی اور معاشرتی صورت حال کے پس منظر میں کی گئی ایک تعبیر ہے۔ کیا اس مسئلے پر قرآن کی کوئی اور تعبیر ممکن ہے؟

قرآن حکیم کے مطابق مرد اور عورت ایک دوسرے کے حریف نہیں بلکہ زوج ہیں۔ دونوں کی تخلیق ایک ہی نفس سے ہوئی ہے اس لیے دونوں باہم مل کر ایک اکائی بناتے ہیں اور ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔ انسان ہونے کے ناتے دونوں ہر اعتبار سے مساوی ہیں۔ اپنے اعمال کے لیے یکساں طور پر ذمہ دار اور جواب دہ ہیں۔ دونوں کے اعمال کا عذاب و ثواب بھی یکساں ہے۔ قرآن حکیم میں مردوں کو عورتوں کا قوام کہا گیا ہے۔ ہمارے مترجمین اور مولویوں نے اس کا ترجمہ یہ کیا ہے کہ مرد عورتوں پر حاکم ہیں۔ قوام کا لفظ عربی زبان میں نگرانی، کفالت، تولیت، سب مفاہیم میں استعمال ہوتا ہے۔ آیت کا سیاق و سباق خاوند اور بیوی کے تعلقات کو بیان کر رہا ہے۔ چنانچہ آیت کا یہ مفہوم لینے میں کوئی امر مانع نہیں کہ خاوند بیویوں کے کفیل ہیں یعنی شادی کے وقت مرد یہ ذمے داری قبول کرتا ہے کہ وہ اپنی بیوی کی کفالت کرے گا۔ اس سے یہ نتیجہ کسی طور نہیں نکلتا کہ عورت کسی معاشی سرگرمی میں شریک نہیں ہو سکتی۔

اب ہمارے مولویوں نے اسلام پریہ ستم ڈھانا شروع کر دیا ہے کہ انہوں نے اسمبلیوں کے پاس کردہ قانون کو خلاف قرآن و سنت قرار دینا شروع کر دیا ہے۔ ہر مسودہ قانون کی موزونیت پر کچھ گفتگو ہو سکتی ہے مگر اسے قرآن و سنت کے منافی قرار دینا نری افترا پردازی ہے۔ عضد الدین ایجی کے مطابق سنت اس چیز کو کہتے ہیں جو رسول اللہ ﷺ کی ذات سے – قرآن کے علاوہ – صادر ہوئی ہو، خواہ وہ فعل ہو، یا قول ہو یا تقریر (سکوت)۔ تقریر سے مراد کسی فعل کو دیکھ کر آپ کا منع نہ کرنا۔ اب ان مولوی صاحبان پر لازم ہے کہ وہ یہ ثابت کریں کہ نبی کریم ﷺ نے عورتوں پر جسمانی تشدد کا حکم دیا، کبھی اس پر عمل کیا یا کسی صحابی کو ایسا کرتے دیکھا تو اس پر سکوت اختیار کیا یا اس کی تصویب کی۔ مجھے یقین ہے کہ یہ کوئی ضعیف روایت بھی پیش کرنے سے بھی قاصر ہوں گے۔ ان دین فروشوں کو اللہ کے رسول ﷺپر اتہام باندھتے ہوئے کچھ تو شرم کرنا چاہیے۔ افسوس ہے کہ ان لوگوں نے اپنی ہر کج روی کو تحفظ دینے کے لیے خدا کے دین کو بازیچہ اطفال بنا کر رکھ دیا ہے۔ اقبال نے اسی بنا پر ان ملاؤں کو ننگ مسلمانی قرار دیا تھا۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3

4 thoughts on “عورت، اسلام اور ملا

  • 01/03/2016 at 4:28 صبح
    Permalink

    Thank you for writing this article. I hope majority of Muslims will be able to read and digest the content with an open mind.

  • 01/03/2016 at 11:28 صبح
    Permalink

    النسا 34

    مرد عورتوں پر قوّام ہیں ،56 اس بنا پر کہ اللہ نے ان میں سے ایک کو دوسرے پر فضیلت دی ہے ،57 اور اس بنا پر کہ مرد اپنے مال خرچ کرتے ہیں ۔ پس جو صالح عورتیں ہیں وہ اطاعت شعار ہوتی ہیں اور مردوں کے پیچھے اللہ کی حفاظت و نگرانی میں ان کے حقوق کی حفاظت کرتی ہیں ۔58 اور جن عورتوں سے تمہیں سرکشی کا اندیشہ ہو انہیں سمجھاؤ ، خواب گاہوں میں ان سے علیحدہ رہو اور مارو ،59 پھر اگر وہ تمہاری مطیع ہو جائیں تو خواہ مخواہ ان پر دست درازی کے لیے بہانے تلاش نہ کرو ، یقین رکھو کہ اوپر اللہ موجود ہے جو بڑا اور بالاتر ہے ۔

    تفسیر ابن کثیر

    مرد عورتوں سے افضل کیوں؟
    جناب باری ارشاد فرماتا ہے کہ مرد عورت کا حاکم رئیس اور سردار ہے ہر طرح سے اس کا محافظ و معاون ہے اسی لئے کہ مرد عورتوں سے افضل ہیں یہی وجہ ہے کہ نبوۃ ہمیشہ مردوں میں رہی بعینہ شرعی طور پر خلیفہ بھی مرد ہی بن سکتا ہے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں وہ لوگ کبھی نجات نہیں پاسکتے جو اپنا والی کسی عورت کو بنائیں ۔ (بخاری) اسی طرح ہر طرح کا منصب قضا وغیرہ بھی مردوں کے لائق ہی ہیں ۔ دوسری وجہ افضیلت کی یہ ہے کہ مرد عورتوں پر اپنا مال خرچ کرتے ہیں جو کتاب و سنت سے ان کے ذمہ ہے مثلاً مہر نان نفقہ اور دیگر ضروریات کا پورا کرنا۔ پس مرد فی نفسہ بھی افضل ہے اور بہ اعتبار نفع کے اور حاجت براری کے بھی اس کا درجہ بڑا ہے۔ اسی بنا پر مرد کو عورت پر سردار مقرر کیا گیا جیسے اور جگہ فرمان ہے (وَلِلرِّجَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةٌ ۭ وَاللّٰهُ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ) 2۔ البقرۃ:228) ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ عورتوں کو مردوں کی اطاعت کرنی پڑے گی اس کے بال بچوں کی نگہداشت اس کے مال کی حفاظت وغیرہ اس کا کام ہے ۔ حضرت حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ایک عورت نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے اپنے خاوند کی شکایت کی کہ ایک انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنی بیوی صاحبہ کو لئے ہوئے حاضر خدمت ہوئے اس عورت نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے اس خاوند نے مجھے تھپڑ مارا ہے۔ پس آپ نے بدلہ لینے کا حکم دیا ہی تھا جو یہ آیت اتری اور بدلہ نہ دلوایا گیا ایک اور روایت کہ ایک انصار رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنی بیوی صاحبہ کو لئے ہوئے حاضر خدمت ہوئے اس عورت نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے اس خاوند نے مجھے تھپڑ مارا جس کا نشان اب تک میرے چہرے پر موجود ہے آپ نے فرمایا اسے حق نہ تھا وہیں یہ آیت اتری کہ ادب سکھانے کے لئے مرد عورتوں پر حاکم ہیں ۔ تو آپ نے فرمایا میں نے اور چاہا تھا اور اللہ تعالیٰ نے اور چاہا ۔ شعبہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں مال خرچ کرنے سے مراد مہر کا ادا کرنا ہے دیکھو اگر مرد عورت پر زنا کاری کی تہمت لگائے تو لعان کا حکم ہے اور اگر عورت اپنے مرد کی نسبت یہ بات کہے اور ثابت نہ کر سکے تو اسے کوڑے لگیں گے۔ پس عورتوں میں سے نیک نفس وہ ہیں جو اپنے خاوندوں کی اطاعت گزار ہوں اپنے نفس اور خاوند کے مال کی حفاظت والیاں ہوں جسے خود اللہ تعالیٰ سے محفوظ رکھنے کا حکم دیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں بہتر عورت وہ ہے کہ جب اس کا خاوند اس کی طرف دیکھے وہ اسے خوش کر دے اور جب حکم دے بجا لائے اور جب کہیں باہر جائے تو اپنے نفس کو برائی سے محفوظ رکھے اور اپنے خاوند کے مال کی محافظت کرے پھر آپ نے اس آیت کی تلاوت فرمائی مسند احمد میں ہے کہ آپ نے اس آیت کی تلاوت فرمائی۔ مسند احمد میں ہے کہ آپ نے فرمایا جب کوئی پانچوں وقت نماز ادا کرے رمضان کے روزے رکھے اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرے اپنے خاوند کی فرمانبرداری کرے اس سے کہا جائے گا کہ جنت کے جس دروازے سے تو چاہے جنت میں چلی جا، پھر فرمایا جن عورتوں کی سرکشی سے ڈرو یعنی جو تم سے بلند ہونا چاہتی ہو نافرمانی کرتی ہو بےپرواہی برتتی ہو دشمنی رکھتی ہو تو پہلے تو اسے زبانی نصیحت کرو ہر طرح سمجھاؤ اتار چڑھاؤ بتاؤ اللہ کا خوف دلاؤ حقوق زوجیت یاد دلاؤ اس سے کہو کہ دیکھو خاوند کے اتنے حقوق ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اگر میں کسی کو حکم کر سکتا کہ وہ ماسوائے اللہ تعالیٰ کے دوسرے کو سجدہ کرے تو عورت کو حکم کرتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے۔ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے کیونکہ سب سے بڑا حق اس پر اسی کا ہے بخاری شریف میں ہے کہ جب کوئی شخص اپنی بیوی کو اپنے بسترے پر بلائے اور وہ انکار کر دے تو صبح تک فرشتے اس پر لعنت بھیجتے رہتے ہیں صحیح مسلم میں ہے۔ کہ جس رات کوئی عورت روٹھ کر اپنے خاوند کے بستر کو چھوڑے رہے تو صبح تک اللہ کی رحمت کے فرشتے اس پر لعنتیں نازل کرتے رہتے ہیں ، تو یہاں ارشاد فرماتا ہے کہ ایسی نافرمان عورتوں کو پہلے تو سمجھاؤ بجھاؤ پھر بستروں سے الگ کرو، ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں یعنی سلائے تو بستر ہی پر مگر خود اس سے کروٹ موڑ لے اور مجامعت نہ کرے ، بات چیت اور کلام بھی ترک کر سکتا ہے اور یہ عورت کی بڑی بھاری سزا ہے ، بعض مفسرین فرماتے ہیں ساتھ سلانا ہی چھوڑ دے ، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال ہوتا ہے کہ عورت کا حق اس کے میاں پر کیا ہے؟ فرمایا یہ کہ جب تو کھا تو اسے بھی کھلا جب تو پہن تو اسے بھی پہنا اس کے منہ پر نہ مار گالیاں نہ دے اور گھر سے الگ نہ کر غصہ میں اگر تو اس سے بطور سزا بات چیت ترک کرے تو بھی اسے گھر سے نہ نکال پھر فرمایا اس سے بھی اگر ٹھیک ٹھاک نہ ہو تو تمہیں اجازت ہے کہ یونہی سی ڈانٹ ڈپٹ اور مار پیٹ سے بھی راہ راست پر لاؤ۔ صحیح مسلم میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حجتہ الوداع کے خطبہ میں ہے کہ عورتوں کے بارے میں فرمایا اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہا کرو وہ تمہاری خدمت گزار اور ماتحت ہیں تمہارا حق ان پر یہ ہے کہ جس کے آنے جانے سے تم خفا ہو اسے نہ آنے دیں اگر وہ ایسا نہ کریں تو انہیں یونہی سے تنبیہہ بھی تم کر سکتے ہو لیکن سخت مار جو ظاہر ہو نہیں مار سکتے تم پر ان کا حق یہ ہے کہ انہیں کھلاتے پلاتے پہناتے اڑھاتے رہو ۔ پس ایسی مار نہ مارنی چاہیے جس کا نشان باقی رہے جس سے کوئی عضو ٹوٹ جائے یا کوئی زخم آئے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ اس پر بھی اگر وہ باز نہ آئے تو فدیہ لو اور طلاق دے دو ۔ ایک حدیث میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اللہ کی لونڈیوں کو مارو نہیں اس کے بعد ایک مرتبہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ آئے اور عرض کرنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عورتیں آپ کے اس حکم کو سن کر بہت سی عورتیں شکایتیں لے کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئیں تو آپ نے لوگوں سے فرمایا سنو میرے پاس عورتوں کی فریاد پہنچی یاد رکھو تم میں سے جو اپنی عورتوں کو زدو کوب کرتے ہیں وہ اچھے آدمی نہیں (ابو داؤد وغیرہ) حضرت اشعث رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ایک مرتبہ میں حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مہمان ہوا اتفاقاً اس روز میاں بیوی میں کچھ ناچاقی ہو گئی اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی بیوی صاحبہ کو مارا پھر مجھ سے فرمانے لگے اشعث تین باتیں یاد رکھ جو میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سن کر یاد رکھی ہیں ایک تو یہ کہ مرد سے یہ نہ پوچھا جائے گا کہ اس نے اپنی عورت کو کس بنا پر مارا ؟ دوسری یہ کہ وتر پڑھے بغیر سونا مت اور اور تیسری بات راوی کے ذہن سے نکل گئی (نسائی) پھر فرمایا اگر اب بھی عورتیں تمہاری فرمانبردار بن جائیں تو تم ان پر کسی قسم کی سختی نہ کرو نہ مارو پیٹو نہ بیزاری کا اظہار کرو ۔ اللہ بلندیوں اور بڑائیوں والا ہے۔ یعنی اگر عورتوں کی طرف سے قصور سرزد ہوئے بغیر یا قصور کے بعد ٹھیک ہو جانے کے باوجود بھی تم نے انہیں ستایا تو یاد رکھو ان کی مدد پر ان کا انتقام لینے کے لئے اللہ تعالیٰ ہے اور یقینا وہ بہت زرو اور زبردست ہے۔

  • 03/03/2016 at 3:39 شام
    Permalink

    عدنان صاحب !
    جو حوالے آپ نے پیش کیے ہیں اس سے تو بظاہر ڈاکٹر صاحب کے استدلال کی نفی ہوتی ہے اور یوں لگتا ہے کہ اسلام میں مرد کو عورت پر مار پیٹ کی کھلی اجازت ہے۔ لیکن شاید آپ اتفاق کریں گے کہ لفظی ترجمے کی بنیاد پر قوانین بنانے کی بات تو مذہبی جماعتیں بھی نہیں کرتیں۔ تفسیر بھی زمانے کے ساتھ بدلتی رہتی ہے اور اسی وجہ سے ڈاکٹر صاحب کا بنیادی نقطہ معقول ہے کہ مولوی مذہب کا سہارا لے کر حقوق نسواں بل رد نہیں کر سکتے- اب دیکھیں کہ پرویز صاحب کی مفہوم القرآن [ جلد اول طلوع اسلام ٹرسٹ] میں اسی آیت کے بابت درج ہے کہ بدنی سزا مرد خود نہیں دے سکتا بلکہ عدالت تجویز کرے گی۔

    اسی آیت سے دو آیتیں پہلے یہ حکم بھی ہے کہ عورت کا اپنی روزی پر مکمل اختیار ہے- لیکن ہمارے ہاں عورت کا کام کرنا مذہبی حوالوں سے نا پسندیدہ قرار دیا جاتا ہے- جبکہ لفظی ترجمہ عورت کے حق میں واضح ہے۔

  • 11/03/2020 at 1:08 شام
    Permalink

    اقبال نے کہاہے : دین ملافی سبیل اللہ فساد،توفسادی توفساد ہی مچائیں گے ، ضروری یہ ہے کہ معاشرہ ان فسادیوں کوایسے کنارے لگائے جیسے عالم عرب میں لگاد
    یا گیاہے ۔

Comments are closed.