حرمین شریفین کے مقدس گارڈ میں تبدیلی

شاہ سلمان کا یہ فیصلہ اس لحاظ سے تو کسی تعجب کا باعث نہیں ہے کہ انہوں نے بادشاہت سنبھالنے کے بعد اس کی تیاری کرنا شروع کردی تھی لیکن اس فیصلہ کے اچانک اعلان نے دنیا کے اکثر لوگوں کو حیران ضرور کیا ہے۔ اس طرح اب طے ہو گیا ہے کہ شاہ سلمان کے انتقال کے بعد بتیس سالہ شہزادہ محمد ہی ملک کے نئے فرماں روا ہوں گے۔ اس طرح اقتدار شاہ عبدالعزیز کے بیٹوں سے نکل کر اگلی نسل تک منتقل ہو جائے گا۔ شاہ سلمان نے جنوری 2015 میں شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کے انتقال کے بعد اقتدار سنبھالا تھا۔ اس وقت ان کے سوتیلے بھائی شہزادہ مقرن بن عبدالعزیز کو ولی عہد مقرر کیا گیا تھا۔ لیکن چند ہی ماہ بعد صورت حال پر قابو پانے اور شاہی امور کو اپنے ہاتھ میں لینے کے بعد شاہ سلمان نے اپنے سوتیلے بھائی شہزادہ نائف کے بیٹے شہزادہ محمد بن نائف کو ولی عہد اور اپنے بیٹے شہزادہ محمد بن سلمان کو نائب ولی عہد اور وزیر دفاع بنا دیا تھا۔ اس تبدیلی پر یہ اطمینان سامنے آیا تھا کہ اب سعودی عرب میں اختیار پرانی نسل اور دن بدن بوڑھے ہوتے شاہ عبدالعزیز کے بیٹوں سے نکل کر اگلی نسل کو منتقل ہو سکے گا۔ تاہم اس وقت ہی مبصرین نے یہ قیاس کرلیا تھا کہ اس تبدیلی کا مقصد اگلی نسل کو اقتدار سونپنے سے زیاہ اپنے نوجوان اور ناتجربہ کار بیٹے کو وراثت کے لئے تیار کرنا تھا۔ دو سال کی مدت میں شاہ سلمان نے بالآخر یہ مقصد بھی حاصل کرلیا ہے۔
شہزادہ محمد بن سلمان اس وقت سعودی عرب کے اصل حکمران سمجھے جاتے ہیں۔ اپریل 2015 میں نائب ولی عہد اور وزیر دفاع بننے کے بعد انہوں نے اپنے والد کی اعانت سے آہستہ آہستہ امور مملکت پر قبضہ جمانا شروع کردیا تھا۔ اس طرح وہ اپنے سوتیلے بھائی شہزادہ محمد بن نائف کو بے اثر کرتے چلے گئے۔ انہوں نے یمن پر حملہ سے لے کر اسلامی فوجی اتحاد قائم کرنے تک کے منصوبوں کا آغاز کیا اور کسی بھی مقصد میں انہیں مکمل کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں کمی کے بعد ملک میں تیل سے پاک معیشت کی بنیاد رکھنے کے کام کا آغاز کیا۔ اس سلسلہ میں مختلف شعبوں میں ٹیکس عائد کرنے اور صنعتی اور تجارتی منصوبوں کا آغاز کیا گیا ہے لیکن ان اقدامات کے نتائج بھی ابھی تک پوری طرح سامنے نہیں آئے ہیں۔ حال ہی میں سعودی عرب کی قیادت میں متعدد عرب ملکوں نے قطر کا بائیکاٹ کرنے کا جو ڈارامائی فیصلہ کیا تھا، وہ بھی شہزادہ محمد بن سلمان کی جارحانہ اور سخت گیر پالیسیوں کا ہی نتیجہ تھا۔
یمن کی جنگ دو سال میں بھی کسی نتیجہ پر نہیں پہنچ سکی ہے اور وہاں انسانی صورت حال دن بدن سنگین ہوتی جا رہی ہے۔ اسی طرح قطر کے خلاف بائیکاٹ کا فیصلہ بھی عرب ملکوں میں تفریق کا باعث بن رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس کی حمایت ضرور کی ہے لیکن دنیا میں اس فیصلہ کی خاص پذیرائی نہیں ہو سکی ہے۔ شہزادہ محمد جارحانہ انداز میں آگے بڑھنے اور تیزی سے تبدیلیاں لانے کے خواہشمند ہیں۔ اب تخت کا اصل جانشین بننے کے بعد ، وہ اپنے یہ مقاصد حاصل کرنے کے لئے زیادہ شدت سے کوشش کریں گے۔ تاہم اس طرح وہ سعودی عرب کو ایک نئے تصادم کی طرف بھی دھکیل سکتے ہیں اور شاہی خاندان میں بھی انہیں مزاحمت کا سامنا بھی ہو سکتا ہے۔
شاہ سلمان کی زندگی میں تو شاید بڑی مزاحمت دیکھنے میں نہ آئے تاہم ولی عہد محمد بن سلمان کے بادشاہ بننے کی صورت میں اگر انہوں نے سعودی شاہی خاندان کی روایات کو سمجھنے اور سنبھالنے کی کوشش نہ کی تو انہیں مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔

