عرب مطالبات: قطر کو نو آبادی بنانے کی کوشش


سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات ، بحرین اور مصر کی جانب سے قطر کو تعلقات بحال کرنے کےلئے جو تیرہ مطالبات فراہم کئے گئے ہیں، وہ عملی طور پر قطر کو سعودی عرب اور اس کے طاقتور حلیف ملکوں کی نو آبادیاتی ریاست میں تبدیل کر دیں گے۔ ان مطالبات کا لب و لہجہ حاکمانہ اور غیر مصالحانہ ہے۔ ان مطالبات کے ذریعے یہ واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ اگر قطر سعودی قیادت کی صوابدید اور رہنمائی میں شروع ہونے والے سفارتی ، تجارتی اور سرحدی بائیکاٹ سے نجات حاصل کرنا چاہتا ہے تو اسے نہ صرف اپنی غلطیوں کو سدھارنا ہوگا بلکہ یہ غلط پالیسیاں اختیار کرنے پر مالی ہرجانہ بھی ادا کرنا پڑے گا۔ گویا قطر کو ایک مفتوحہ علاقہ سمجھ کر اس سے مکمل اطاعت اور مستقبل میں ہر طرح سے تعاون کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ سفارتی تعلقات کی جدید تاریخ میں اس کی مثال ملنا مشکل ہے کہ چند ہمسایہ ملکوں کی طرف سے اپنے حجم اور طاقت کے بل بوتے پر ایک چھوٹے ملک کی خود مختاری ختم کرنے کی ایسی کوشش کی گئی ہو۔ اگرچہ امریکہ کے وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن نے گزشتہ دنوں سعودی عرب اور اس کے حلیف ملکوں پر زور دیا تھا کہ وہ قطر کے ساتھ مفاہمت کےلئے احتیاط سے کام لیں اور اس بحران کا حل تلاش کرنے کی کوشش کریں۔ لیکن اب مطالبات کی جو فہرست سامنے آئی ہے، اس سے یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں ہے کہ سعودی عرب کو یقین ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سربراہی میں امریکی حکومت اس کی ہر بے ادائی اور علاقائی تسلط کےلئے ہر قسم کے اقدام کی تائید و حمایت کرے گی۔ یہ مطالبات سامنے آنے کے بعد گزشتہ ہفتہ کے دوران قطر کے سفارتی اور سرحدی بائیکاٹ سے شروع ہونے والا یہ بحران مزید سنگین ہو جائے گا۔
ان مطالبات میں قطر کو دس روز کے اندر یہ سارے احکامات نما مطالبے مان کر ہرجانہ کی ادائیگی اور پالیسی کنٹرول کے اقدامات پر عملدرآمد کے کام کا آغاز کرنا ہوگا۔ بصورت دیگر دس روز بعد یہ مطالبات ناکارہ تصور ہوں گے اور سعودی عرب اور اس کے حلیف قطر کے خلاف من مانی کرنے میں آزاد ہوں گے۔ حیرت کی بات ہے کہ سعودی عرب کے وزیر خارجہ عادل الجبیر نے گزشتہ ہفتہ کے دوران لندن میں ایک پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ ان کا ملک دیگر حلیف ملکوں کے ساتھ مل کر ان معاملات کی فہرست تیار کر رہا ہے جن پر قطر کو عمل کرنے کےلئے کہا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ یہ فہرست کسی قسم کے مطالبات پر مشتمل نہیں ہوگی بلکہ ان امور کی طرف نشاندہی کرے گی جن کی وجہ سے ہمسایہ عرب ملکوں کی قطر سے شکایات پیدا ہو رہی ہیں۔ لیکن اب جو تیرہ نکاتی فہرست سامنے آئی ہے اور جس فاتحانہ اور آمرانہ لب و لہجہ میں انہیں ایک مختصر مدت میں تسلیم کرنے ورنہ عواقب کےلئے تیار رہنے کی دھمکی دی گئی ہے، اس میں تمام سفارتی آداب کو بالائے طاق رکھتے ہوئے قطر سے اپنی خود مختاری اور قومی حمیت سے دست بردار ہونے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
ان مطالبات میں الفاظ کا چناؤ کرتے ہوئے کسی قسم کی سفارتی زیبائش کا اہتمام بھی نہیں کیا گیا۔ یہ فہرست ایک ایسے شاہی فرمان کے طور پر جاری ہوئی ہے جس پر عمل نہ کرنے کی صورت میں سخت سزا دی جا سکتی ہے۔ حیرت اور تعجب کی بات تو یہ بھی ہے کہ قطر کے خلاف سفارتی مہم جوئی کرتے ہوئے اس پر سب سے بنیادی الزام یہ عائد کیا گیا تھا کہ وہ ہمسایہ ملکوں کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرتا ہے جس سے پیچیدگیاں اور مشکلات پیدا ہوتی ہیں۔ مطالبات کے نکتہ 7 کے تحت اس کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ان ملکوں کی حکومتوں کے خلاف سیاسی جدوجہد کرنے والے لوگوں کو قطر بدر کرکے ان کے اصل ملکوں کے حوالے کیا جائے۔ لیکن سعودی عرب سمیت چاروں ممالک نے اب قطرسے جو مطالبات کئے ہیں، وہ اس کے داخلی معاملات میں مداخلت ہی نہیں بلکہ اس کی خود مختاری پر براہ راست حملہ بھی ہیں۔ یہ رویہ اور طریقہ کار بین الملکی امور طے کرنے کے مسلمہ عالمی اصولوں اور قوموں کے درمیان مساوات اور باہمی احترام کے بارے میں اقوام متحدہ کے چارٹر سے بھی متصادم ہیں۔ لیکن فی الوقت عرب ممالک اپنی دولت اور امریکہ کے ساتھ قربت کی بنیاد پر مشرق وسطیٰ کو فتح کرنے اور وہاں اپنے عقیدہ و حکمت کے مطابق معاملات طے کروانے کا اعلان کر رہے ہیں۔
یوں تو یہ مطالبات 13 نکات کی صورت میں پیش کئے گئے ہیں لیکن ان میں چار بنیادی اصول وضع کئے گئے ہیں۔ قطر سے کہا گیا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات محدود کر لے، دوحہ میں اس کا سفارت خانہ بند کیا جائے اور اس کے ساتھ ہمہ قسم انٹیلی جنس تعاون کو فوری طور پر ختم کیا جائے۔ اس کے علاوہ ترکی کے ساتھ تمام عسکری تعاون ختم کرکے قطر میں زیر تعمیر ترک فوجی اڈہ بند کیا جائے۔ واضح رہے ترکی نے قطر کے خلاف عرب ملکوں کے بائیکاٹ کا اعلان سامنے آنے کے بعد مزید فوجی دستے اس زیر تعمیر فوجی اڈے پر روانہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ بعض مبصرین کا خیال ہے کہ اگر ترکی اتنا کھل کر قطر کی حمایت کا اعلان نہ کرتا تو سعودی عرب اپنے حلیف ملکوں کے ساتھ مل کر قطر پر فوجی کارروائی کے ذریعے قبضہ کرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔ اس صورت میں شاید تاریخ خود کو دہراتی۔ اگست 1990 میں عراق کے صدر صدام حسین نے اسی قسم کی خود سری کا مظاہرہ کرتے ہوئے کویت پر قبضہ کیا تھا۔ اس قبضہ کے خلاف امریکہ کی سرکردگی میں پہلی خلیجی جنگ شروع کی گئی تھی۔ عراق کے خلاف کی جانے والی فوجی کارروائی اور اس سے پہلے افغناستان میں سوویت فوجی مداخلت کے خلاف منظم کئے جانے والے جہاد ہی کی وجہ سے دراصل وہ سارے حالات رونما ہوئے ہیں جن کا اس وقت پوری دنیا دہشت گردی اور فرقہ وارانہ انتہا پسندی کی صورت میں سامنا کر رہی ہے۔
سعودی عرب اور حلیف ملکوں کی طرف سے قطر کے ساتھ ’’مفاہمت‘‘ کےلئے جو تیسرا اصول سامنے لایا گیا ہے، وہ الجزیرہ اور اس کے ذیلی اداروں کے علاوہ عربی 21، رسد ، العربی الجدید ، مکا ملین اور مڈل ایسٹ آئی جیسے میڈیا گروپ بند کرنے کا مطالبہ ہے۔ قطر کے ہمسایہ عرب ملکوں کا دعویٰ ہے کہ یہ میڈیا ادارے اور بطور خاص الجزیرہ انتہا پسند گروہوں کو پلیٹ فارم فراہم کرتے ہیں۔ اس طرح دہشت گردی کی حوصلہ افزائی اور پرچار کا سبب بنتے ہیں۔ الجزیرہ اور دیگر ادارے ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔ الجزیرہ کے عربی ٹیلی ویژن چینل نے عرب دنیا میں خود مختار اور بے لاگ صحافت کو متعارف کروایا ہے۔ اسے صرف سرکاری اعلامیے نشر کرنے کا ذریعہ بنانے کی بجائے مختلف النوع سماجی امور اور سیاسی پہلو سامنے لانے کےلئے استعمال کیا گیا ہے۔ اس طرح بعض ایسے عناصر اور گروہوں کی باتیں بھی سامنے آتی ہیں جو عرب آبادیوں میں سیاسی شعور اور اپنے حقوق کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے کا سبب بنی ہیں۔ یہ صورتحال آمرانہ عرب حکومتوں کےلئے قابل قبول نہیں ہے۔
الجزیرہ کو ہی 2011 میں عرب بہار کے نام سے اٹھنے والی آزادی اور جمہوری تحریک کا سبب بھی قرار دیا جاتا ہے۔ مغربی ممالک نے اس تحریک کی حوصلہ افزائی کی تھی اور اسے عرب ملکوں اور اس کے باشندوں کےلئے امید کی کرن اور آزادی کی صبح قرار دیا گیا تھا۔ لیکن سیاسی ضرورتوں کے تحت عوامی ووٹوں سے مصر کے منتخب ہونے والے صدر محمد مرسی کے خلاف فوج کے سربراہ جنرل السیسی کی بغاوت کی تائید کی گئی۔ سعودی عرب اور دیگر مالدار عرب ملکوں نے اس بغاوت کو کامیاب بنانے کےلئے خزانوں کے منہ کھول دیئے اور امریکہ نے اسے سیاسی ضرورت سمجھتے ہوئے خاموشی اختیار کی۔ اس طرح آزادی رائے اور جمہوریت کے چیمپئن مغربی ممالک نے مصری عوام کی رائے کو مسترد کرنے والی قوت کا ساتھ دے کر دراصل انسانی حقوق اور جمہوری تحریک کو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کیا اور سرخرو بھی رہے۔ لیکن الجزیرہ کے بعض صحافی غیر جانبدارانہ رپورٹنگ کرنے کے ’’الزام‘‘ میں اب تک مصر کی جیلوں میں صعوبتیں برداشت کر رہے ہیں۔ اب سعودی عرب اور اس کے دوست عرب ممالک اس خود مختار اور آزاد صحافت کو فروغ دینے والے ادارے کو بند کروانے کےلئے قطر کو حکمنامہ جاری کر رہے ہیں۔
قطر سے عرب ملکوں کے مطالبات میں چوتھا اصول یہ وضع کیا گیا ہے کہ وہ سعودی عرب اور مصر سمیت تمام ملکوں میں آزادی کی تحریک چلانے اور آمرانہ حکومتوں کے خلاف آواز اٹھانے والے سب عناصر ، افراد اور گروہوں سے مکمل قطع تعلق کا اعلان کرے۔ ان لوگوں کی مالی امداد بند کی جائے۔ اب تک ان ممالک کے جن لوگوں کو سیاسی بنیادوں پر قطر میں پناہ دی گئی ہے یا انہیں قطری شہریت دی گئی ہے، اسے منسوخ کیا جائے اور ان لوگوں کو فوری طور پر (یعنی دس دن کی مدت میں) ان کے اصل ملکوں کے حوالے کیا جائے۔ ان کی املاک ضبط کی جائیں اور ان لوگوں کے بارے میں ہر طرح کی معلومات کے بارے میں ریکارڈ متعلقہ ملکوں کے حوالے کیا جائے۔ یہ مطالبہ تمام مسلمہ انسانی اصولوں سے متصادم ہے۔ یورپ کے بیشتر ملکوں میں ایسے درجنوں ملکوں کے ہزاروں لوگوں نے پناہ لی ہوئی ہے جو اپنے ملکوں میں سیاسی جدوجہد کی وجہ سے مشکلات کا شکار تھے۔ لیکن یہ ممالک مطالبہ کے باوجود آزادی رائے اور سیاسی اختلاف کے حق کی بنیاد پر انہیں تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ گزشتہ برس جولائی میں ترکی میں ناکام فوجی بغاوت کے بعد صدر طیب اردوان کی حکومت نے اپنے سابق سرپرست اور ملک کے مقبول مذہبی لیڈر فتح اللہ گولن کو واپس لانے کی حتی المقدور کوشش کی ہے۔ 76 سالہ گولن امریکہ میں جلا وطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ لیکن ترکی کے تمام تر دباؤ کے باوجود انہیں ترکی کے حوالے کرنے سے انکار کیا گیا ہے۔ حیرت انگیز طور پر امریکہ کے قریب ترین حلیف اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اس کے دست و بازو قرار دیئے جانے والے عرب ممالک انسانی احترام، وقار اور آزادی کے تمام اصولوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے قطر سے ہر نازیبا مطالبہ منوانے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن آزادی کے علمبردار امریکہ کے ایوانوں میں وحشت ناک خاموشی چھائی ہوئی ہے۔
عرب ملکوں کی طرف سے تیرہ نکاتی مطالبوں کی جو فہرست قطر کے حوالے کی گئی ہے، اسے 2011 کے عرب بہار کے نام سے شروع ہونے والے عوامی انقلاب کو رد کرنے کا اعلان نامہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ یہ مطالبات آزادی ، جمہوریت اور شرف آدمیت کے ان تمام اصولوں کو بھی مسترد کرتے ہیں جنہیں بنیاد مانتے ہوئے امریکہ اور تمام مغربی ممالک دہشت گردی کے خلاف جنگ کرتے ہیں اور قرار دیتے ہیں کہ یہ گروہ دراصل آزادی کے عالمی اصولوں کو مسترد کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس لئے انہیں قبول نہیں کیا جا سکتا۔ اب امریکہ کے حلیف اور مغربی ممالک کے چہیتے عرب ملکوں نے قطر سے مطالبات کی صورت میں انہی بنیادی جمہوری اصولوں اور ریاستوں کی خود مختاری کے عالمی معاہدوں کو مسترد کیا ہے۔ لیکن طاقت کے کسی مرکز سے ان مطالبات پر حرف زنی کی توقع کرنا عبث ہوگا۔

Facebook Comments HS

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali