کیا اندھی عقیدت کا فیصلہ وقت کرے گا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

قبل مسیح کے یونان میں دیوتاؤں کا راج تھا۔ یہ سب غیر حقیقی کردار ہوا کرتے تھے۔ اُن کی عبادت کی جاتی اور بڑی بڑی عبادت گاہیں تعمیر کر کے اُن میں اِن دیوتاؤں کے مجسمے رکھے جاتے۔ یونانی کبھی کبھار کسی غیر معمولی انسان کو بھی دیوتا کے درجے پر پہنچا دیا کرتے۔ بہار کا موسم دیوتا ڈیانوسس (DIONYSUS) سے منسوب تھا۔ یہ دیو مالائی کردار جنگل اور ویرانے میں رہتا اور اپنی عیاشی، شراب نوشی اور جنسی بے راہ روی کی وجہ سے مشہور و معتبر تھا۔ یہ لوازمات دیوتا کہاں سے لیا کرتا تھا؟ اس پر یونانی دیو مالا خاموش ہے۔ یونان میں اُس وقت ڈرامہ اور تھیڑ کو عبادت کا درجہ حاصل تھا اور ڈیانوسس ڈرامے کا دیوتا تھا۔ ایتھنز شہر میں یہ ڈرامے دیکھنے والے ہزاروں کی تعداد میں ہوتے تھے۔ یہ مذہبی ڈرامے آج بھی ہیں بس نوعیت اور کردار بدل گئے ہیں۔

وقت کا پہیہ گھوما اور دیوتاؤں یا مذہبی شخصیات پر عیاشی، شراب اور جنس حرام ٹھہری۔ مذہب جیسا طاقتور جذبہ بھی بعض اوقات انسانی فطرت کو بدلنے میں ناکام رہتا ہے چنانچہ ہزارہا سال کے عمل تطہیر کے بعد بھی تمام مذاہب میں ڈیانوسس دیوتا کی خوبیوں سے لبریز مذہبی شخصیات تواتر سے آتی رہی ہیں اور ڈرامہ بھی ہوتا ہی رہا۔ تمام مذاہب میں گناہ و جزا کا تصور مضبوط تر ہونے کے باوجود ایسے افراد آتے رہے جو اسلام کا لبادہ اُوڑھ کر مذکورہ بالا کارروائیاں کرتے رہے۔ کچھ اُموی، عباسی، عثمانی اور مغل فرمانروا کردار میں کیا ڈیانوسس سے کم تھے؟ یقیناً نہیں بس ویرانوں اور آبادیوں کا فرق ٹھہرا۔ اور ہاں رعایا نے انہیں ظل الٰہی اور ظل سبحانی تو تسلیم کیا لیکن اس سے آگے نہ بڑھے۔ پھر خانقاہی دور آیا۔ اسلام نے ابتدا میں رہبانیت کی سختی سے تردید کی تھی اور اپنے پیروکاروں کو معاشرتی دھارے میں شامل رہ کر عبادات کا حکم دیا تھا، بہت کم عرصہ تک جاری رہ سکا۔ اس میں کچھ ایسے افراد اُبھر آئے جنہوں نے مذہبی احکامات کے متوازی ایک نظام بنا ڈالا۔ اس نظام میں راگ کی گنجائش بھی تھی اور تاریک الدنیا ہونے کی بھی۔ انہیں صوفیا کہا جانے لگا۔ کچھ صدیوں تک یہ سلسلہ آب و تاب سے چلتا رہا۔ اس میں کچھ ایسے فقیر منش اور اعلیٰ انسان پیدا ہوئے جنہوں نے صوفیا کی قبا پر داغ نہیں لگنے دیا۔ اپنی ریاضت اور مجاہدے سے ان صوفیا نے لوگوں کے دلوں میں گھر کر لیا اور اپنی اس مشقت بھری عبادات کے عوض لوگوں سے محض امن، اخلاقیات اور محبت کا تقاضا کیا۔

وقت کا پہیہ پھر گھوما اور یہ خانقاہی نظام جو صدیوں کی محنت و ریاضت سے وجود میں آیا تھا اور شریعت و معاشرت کے درمیان ایک توازن قائم کر چکا تھا۔ نااہل، موقع پرست اور ڈیانوسس دیوتا کے پیروکاروں کے ہتھے چڑھ گیا۔ ان موقع پرستوں نے صوفیا کی صدیوں کی محنت پر پانی پھیر کر اسے کیش کرانا شروع کر دیا۔ ان لوگوں نے صوفیا کی قبروں کی مجاوری سنبھال لی، گدی نشین بن گئے اور اس کے پردے میں وہ سب ڈرامہ شروع کر دیا جو کبھی ڈیانوسس دیوتا ویرانوں میں کیا کرتا تھا۔ جھاڑ پھونک، تعویز گنڈے، نذر نیاز، لنگر تبرک، سلمہٰ ستارہ چادریں، خوشبویات اور نہ جانے کیا کچھ، یہاں تک تو شریعت بھی شاید برداشت کرتی لیکن جب آستانوں کی باہمی رقابت شروع ہوئی تو حالات ایک نئی نہج پر چلنا شروع ہو گئے پیران کرام کی ایک فوج ظفر موج سامنے آگئی۔ ویرانوں میں بنے آستانے خواتین کی عصمت دری، فقیری بوٹی، بھنگ، چرس اور کبھی شراب کے بڑے ٹھکانے بن گئے۔ سو فیصد ایسا بھی نہیں لیکن سوائے چند کے یہ آستانے ان قباحتوں میں سے کسی نہ کسی سے ضرور جڑے ہوتے ہیں۔ سادہ لوح اور اندھی عقیدت میں گوندھے خواتین و حضرات کی آواز وہیں دفن ہو جایا کرتی تھی اور ہے۔

وقت کا پہیہ اور گھوما۔ اب عقیدت کے آبگینے کچھ باشعور ہو گئے لیکن بنیادی فطرت اور خوف کی تلوار سر پر ہی رہی۔ خوف جو گناہ سرزد ہونے پر ضمیر کو خلش کے کچوکے لگاتا ہے۔ اب عقیدت مند گناہ جھاڑنے کے لیے اُدھر رُخ کرنے لگے۔ گناہ جو محض پیسوں اور کبھی کبھار عصمت کے سودے پر ہی جھڑ سکتے ہیں۔ پیران و مریدین نے مل کر عقیدت مندوں پر نذر نیاز کی اہمیت ثابت کر دی۔ عقیدت مندوں کی باہمی رقابتیں بھی اور گھریلو قسم کے لاینحل مسائل بھی ان آستانوں پر بھیڑ کا موجب بنے۔ یہ عمدہ کاروبار بن گیا۔ بعض نے ہمت کر کے جنت کے ٹکٹ تک جاری کرنے شروع کر دئیے۔ جنات و چڑیلیں وغیرہ عام ہو گئے۔ مختلف بیماریوں کے لیے مختلف آستانے مخصوص ہو گئے۔ سالانہ عرس وغیرہ آمدن کا بڑا ذریعہ ٹھہرے۔ عقیدت مندوں کے نجی مسائل اولاد، گھریلو ناچاقی وغیرہ بھی اِدھر ہی حل ہونے لگے۔ جعلی اور اصلی پیر میں تمیز ممکن نہ رہی۔ ان تمام ادوار میں کبھی کسی حکومت وقت نے بڑی مداخلت کی جرأت نہیں کی کیونکہ اندھی عقیدت بہت بڑے پیمانے پر فساد کا باعث ہو سکتی ہے۔ چنانچہ چھوٹے موٹے واقعات کو دبانا عام طور پر آسان عمل تھا۔ ازخود جانے والے خواتین و حضرات بھی محض اپنے فعل پر پچھتا کر چپ ہو لیتے۔

پھر وقت کا پہیہ آج کے دور تک پہنچا۔ اب بات خلاؤں کے پار بھی جا پہنچی۔ انٹرنیٹ اور ٹیلی ویژن نے لوگوں کے اذہان کی نئی پرتیں کھول دیں۔ لیکن عقیدت کے اندھے آبگینے جوں کے توں رہے۔ ذرا بھر فرق ضرور آیا لیکن اُس ذرا بھر فرق کے نہاں خانوں میں بھی خوف کا شائبہ باقی ہے۔ گناہ کا خوف اور ضروریات و مسائل کو رُوحانی طریقے سے حاصل کرنا نسبتاً آسان لگتا ہے۔ چنانچہ یہ تن آسانی انہیں ان آستانوں پر لے جاتی ہے جہاں اس بات کو ’’کیش‘‘ کرنے کا مکمل انتظام ہوتا ہے۔ نفسیات کا یہ کھیل دُنیا بھر میں ہے۔ محبوب الٰہی حضرت نظام الدین اولیاؒ دہلی سا کون ہو گا لیکن اُن کے پسماندگان نے بھی زائرین سے رقم وصول کرنے کا باقاعدہ نظام بنا رکھا ہے جس میں زائر اپنے ملک واپس جا کر بھی پیسے بھیج سکتا ہے۔ اس سے بڑھ کر کوئی مثال کیا دوں کہ خانقاہی نظام کس حد تک جا چکا ہے۔ سرگودھا میں پیر نے جنت کے ٹکٹ بیچنے کے بہانے 20 لوگوں کو ٹھکانے لگا دیا۔ لیکن آفرین ہے اُن بیس گھرانوں پر کہ اپنے عزیزوں کا خون پی گئے اور اُف تک کرنے پر آمادہ نہیں۔ بچ جانے والے بھی آگے آنے کو تیار نہیں حکومت اس قتل و غارت کی مدعی ہے یا پھر میڈیا شور مچا رہا ہے جن کے عزیز مرے وہ افسوس کر رہے ہیں کہ وہ خود کیوں نہ مرے۔ پیر صاحب اس دور میں جہاں انسان خلاؤں پر کمند ڈال چکا مردوں کو ٹھوکر سے زندہ کرنے کا دعویٰ کر رہے ہیں۔ اس دعوے سے اندھی عقیدت کے حامل آبگینوں کو مزید تقویت ملی ہے۔ عقیدت بجا سہی لیکن اس طور کی عقیدت کا حکم کون سا مذہب دیتا ہے۔ اس کا مجھے علم نہیں۔ شاید ہر بات کا فیصلہ وقت ہی کرتا ہے اور اندھی عقیدت کا بھی وقت خود ہی کرے گا۔

 

 

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •