جام ساقی کی داستان (پہلاحصہ)

جام ساقی پاکستان میں عوامی جدوجہد کرنے والوں میں سر فہرست ہیں۔ غیرطبقاتی سماج کے لیے جہد مسلسل کرنے والے جام ساقی نے کبھی مفاہمت نہیں کی اور نہ ہی کبھی اپنے نظریہ اور اصولوں کو قربان کیا۔ وہ پاکستان کی عوامی تاریخ کا ایک ایسا کردارہیں جو آ ج نہیں توکل اس دھرتی میں انقلاب کا تسلسل ثابت ہوں گے۔ معروف ادیب فرخ سہیل گویندی نے کمیونسٹ رہنما جام ساقی کے بارے میں شایع ہونے والی کتاب ’’چلے چلوکہ وہ منزل ابھی نہیں آئی‘‘ کے فلیپ میں تحریر کی۔ یہ کتاب معروف محقق احمد سلیم اور نزہت عباسی کی تحقیق کا نتیجہ ہے۔اس کتاب کا انتساب انقلاب روس کے نام ہے۔ جام ساقی کی زندگی کی داستان پر مشتمل ہے اور آٹھ ابواب میں تقسیم کی گئی ہے۔کتاب کے پہلے باب میں جام ساقی دھرتی ،جنم اور تعلیم میں جام کے ابتدائی زندگی اور نوجوانی کے حالات بیان کیے گئے ہیں اور سندھ کا تاریخی پس منظر تحریر کیا گیا ہے۔
جام ساقی 31 اکتوبر 1944ء کو تھرپارکر کی تحصیل چاچھرو کے ایک چھوٹے سے گاؤں جھنجھی میں پیدا ہوئے۔ یہ وہ وقت تھا جب دنیا کی پہلی سوشلسٹ ریاست سوویت یونین جرمن فوج کو شکست دینے والی تھی۔ ابھی جام چند ماہ کے ہی تھے کہ اس وقت دنیا بھر کے جمہوری اتحاد کی فتح سامنے نظرآرہی تھی۔ بڑے پیمانے پر انسانی ہلاکتوں کا سلسلہ رکنے والا تھا۔ جام کی پیدائش سے ٹھیک ایک صدی قبل 1844ء میں جنرل ہوش محمد شیدی وطن کے لیے گوریلا جنگ لڑرہے تھے۔ انھوں نے خون سے وطن کی آزادی کا لافانی نعرہ مرویسوں مرویسوں سندھ نہ ڈیسوں بلندکیا جو جام کا نعرہ بن گیا۔
جام کا بچپن جو تھرپارکرکا بچپن تھا جو ویسے ہی جدید دور سے ایک صدی پیچھے تھا۔ بچپن کی سب سے پرانی دھندلی سی یادیں اپنی یادوں میں کہیں گڈمڈ اخباروں کی شہہ سرخیاں ہیں اور اخبار بیچنے والوں کا غوغا ہے۔ ابا کے چار دوست گھنٹوں ملکی اور غیر ملکی سیاست پر گپ لڑاتے رہتے۔ لینن نے مزدوروں کی فوج بنائی ہے اور مزدوروں کا راج بھی بنادیا ہے، روس، لینن اور انقلاب کی بات ان بھولے بسرے دنوں میں پہلی بار کان میں پڑی تھی۔ جام کو ٹھیک سے یاد نہیں ہے کہ پہلے دن اسکول میں کیا ہوا تھا۔ دراصل جام کے والد محمد بچل گاؤں کے پرائمری اسکول کے استاد تھے اور سماجی کارکن بھی تھے۔ اپنی ساری تنخواہ سماجی کاموں پر خرچ کردیتے تھے۔ جام نے 1961ء میں تقریری مقابلے میں وزیراعظم لیاقت علی خان کو موضوعِ بحث بنایا اور ایک کامیاب مقررکے طور پر سامنے آئے۔ پرائمری کے ایک ریٹائرڈاستاد عنایت اﷲ جن کا تعلق زیر زمین کمیونسٹ پارٹی سے تھا جام کی تقریر سے متاثر ہوئے۔ اس ملاقات نے جام کی زندگی کی حقیقی راستہ متعین کردیا۔ 1962ء میں لوک بورڈ اسکول چھاچھرو سے میٹرک کرنے کے بعد حیدرآباد آگئے جہاں انھوں نے گورنمنٹ کالج میں فرسٹ ایئر آرٹس میں داخلہ لیا۔
اپنے استاد کے ذریعے ان کا کمیونسٹ پارٹی سے رابطہ ہوا اور ساتھی عزیز سلام بخاری سے ملاقات ہوئی۔ جلد ہی ون یونٹ کے خلاف پمفلٹ لکھا جس کی قیمت 10پیسے تھی۔ چند ماہ بعد اس پر پابندی لگی جس سے کتابچے کی مقبولیت میں کئی گنا اضافہ ہوگیا۔ بلوچ رہنما غوث بخش بزنجو کے صاحبزادے بزن بلوچ نے داخلہ لیا تو بزنجو نے پیغام بھیجا کہ میرے بیٹے پر توجہ دی جائے اور اس سے کام لیا جائے۔ 1963ء میں جام اور ان کے ساتھیوں نے ایک دستخطی مہم چلائی۔ اس مہم کے تین نکات تھے۔ پہلے نکتہ یہ تھا کہ مادری زبانوں میں امتحانات لیے جائیں، دوسرا یہ کہ انٹر سائنس میں پاس ہونے والے طالب علموں کو متعلقہ شعبوں میں سیٹیں بڑھا کر داخلے دیے جائیں یا نئے کالج قائم کیے جائیں اور ہر سال فیس نہ لی جائے بلکہ طلباء وطالبات داخلے کے وقت جو فیس جمع کراتے ہیں وہ تمام عرصے کے لیے ہو۔1964ء میں مدیجی ہاری کانفرنس سے واپسی پر حیدرآباد اسٹوڈنٹس فیڈریشن قائم کی۔
10 نومبر 1964ء کو طلباء کنونشن منعقد ہوا۔ یوسف لغاری کنوینیئر اور جام ساقی جنرل سیکریٹری چن لیے گئے۔ جام ساقی کے والد 1964ء کے اواخر میں جام سے ناراض ہوگئے۔ وہ چاہتے تھے کہ ان کا بیٹا سائنس کے مضامین میں مہارت حاصل کرے لیکن سائنس کی طرف سے جام کی توجہ بالکل بٹ گئی تھی۔ جام کے والد نے انھیں خط لکھا کہ یا توسائنس پڑھو ورنہ گاؤں واپس آجاؤ۔ جام اگر گاؤں واپس جاتے تو سیاسی کام نہ کرپاتے۔ جام نے کام کی تلاش شروع کردی۔ اسی اثناء میں کبھی اپنے دوست نجم الدین میمن کے گھر کھانا کھاتے تو کبھی محض پکوڑوں پر گزارہ کرتے۔ انھیں واپڈا کے مقامی دفتر میں کام مل گیا۔ وہ شام کے وقت یونیورسٹی یا ہوسٹل چلے جاتے تاکہ طلبہ سیاست کے کام کو جاری رکھ سکیں۔ ایوب خان کے خلاف فاطمہ جناح کی انتخابی مہم میں پہنچ جاتے۔ 1966ء گزرا جارہا تھا۔ ذوالفقارعلی بھٹو تاشقند معاہدے سے اختلاف کی بناء پر ایوب کابینہ سے باہر آچکے تھے۔
ان ہی دنوں حیدرآباد اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے کنونشن کے لیے عنایت کاشمیری نے تجویز پیش کی کہ اس کنونشن میں بھٹوکو آنے کی دعوت دی جائے۔ جام ساقی بھٹو سے ملے۔ بھٹو صاحب نے اعتراف کیا کہ ایوب حکومت ان کی دشمن ہے اس لیے فیڈریشن کے کارکنوں کو بہت تنگ کرے گی۔ بھٹو کی بات پر جام نے کہا کہ ہم مکرنے والے نہیں۔ بھٹو نے اپنی تقریر میں ہندوستان، اسرائیل اورایوب حکومت کے خلاف بات کی مگر ون یونٹ کی مخالفت میں ایک لفظ بھی نہیں کہا۔ بھٹو نے مختلف ذرایع سے رابطہ کیا کہ انھیں فیڈریشن کے سالانہ اجلاس کا مہمان خصوصی بنایا جائے۔
اس موقعے پر جام کا جواب یہ تھا کہ آپ ایوب خان کی مخالفت کررہے ہیں اور اعلان تاشقند کے مخالف ون یونٹ کے حامی ہیں۔ ہماری جماعت معاہدہ تاشقند کی حامی اور ون یونٹ کی مخالف ہے۔ بھٹو نے وعدہ کیا کہ وہ اپنی تقریر میں جمہوریت کی حمایت کریں گے اور ون یونٹ اور معاہدہ تاشقند پر خاموش رہیں گے مگر جام اور ان کے ساتھی پھر بھی تیار نہیں ہوئے لیکن میر رسول بخش تالپرکے اصرار پر بھٹو کو اپنے جلسہ کا مہمان خصوصی بنانے پر تیار ہوگئے۔ جلسے کے بعد رسول بخش پلیجو کے گھر پر بھٹو نے جام ساقی کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا کہ جام میں تمہارا احسان زندگی بھر نہیں بھولوں گا اور بھٹو یہ احسان واقعی نہیں بھولے۔ صدرِ پاکستان بنتے ہی جام ساقی کوگرفتارکرلیا ۔ جام نے دانشور ندیم اختر، ہدایت حسین اور دیگر ساتھیوں کے ساتھ مل کر سندھ نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن کا انڈس ہوٹل میں پہلا کنونشن منعقد کیا۔ جام ساقی صدر، ندیم اختر سینئر نائب صدراور میر تھیپو جنرل سیکریٹری منتخب ہوئے۔
اس کے ساتھ ہی جام ساقی پر جیل کے دروازے کھل گئے۔ وہ 1966ء سے 1969ء تک ہر سال جیل گئے۔ 4 مارچ 1967ء کی طلبہ تحریک سندھ کی تاریخ کا ایک درخشاں باب ہے۔ سندھ یونیورسٹی کے وائس چانسلرکوغیر قانونی طور پر ہٹادیا گیا تو طلبہ کی احتجاجی مہم شروع ہوگئی۔کمشنر مسرور حسن نے طلبہ پر بے پناہ تشدد کیا اور درجنوں دیگر رہنماؤں کی طرح جام ساقی کو بھی گرفتارکرلیا گیا۔ جام نے موقعے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس کو ون یونٹ تحریک میں تبدیل کردیا۔ ندیم اختر جیل کے قیام کی یادیں بیان کرتے ہیں۔ ہمیں چارکمروں والی ایک بیرک میں رکھا گیا۔ یہ وہی بیرک تھی جن میں نام نہاد پنڈی سازش کیس کے ملزمان سجاد ظہیر اور فیض احمدفیض کو رکھا گیا تھا۔ حیدرآباد جیل میں غلام محمد لغاری، رسول بخش پلیجو، یوسف تالپور، مسعود نورانی، راجہ عبدالقادر اور اقبال ترین وغیرہ شامل تھے۔
(جاری ہے)

Comments - User is solely responsible for his/her words