بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ تشدد


بھارت میں اقلیتوں اور خاص طور سے مسلمانوں کے ساتھ تشدد اور زیادتی کا ایک نیا واقعہ پیش آیا ہے۔ ریاست اتر پردیش کے علاقے منی پور سے موصول ہونے والی ایک اطلاع کے مطابق ٹرین میں سفر کرنے والے ایک خاندان پر حملہ کرکے انہیں زد و کوب کیا گیا اور خواتین کے ساتھ زیادتی بھی کی گئی۔ اس کے علاوہ بیس سے زائد افراد کا یہ گروہ اہل خاندان سے نقد رقم اور زیورات لوٹ کر فرار ہو گیا۔

یہ واقعہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں ہے بلکہ گزشتہ چند برس کے دوران تسلسل سے ان میں اضافہ ہو رہا ہے۔ یوں تو ملک کی سب اقلیتیں انتہا پسند ہندو گروہوں کا نشانہ بنتی ہیں لیکن یہ گروہ خاص طور سے مسلمانوں کو تاک کر ان پر حملے کرتے ہیں ۔ عام طور سے ایسا حملہ کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ یہ لوگ گائے کا گوشت کھاتے ہیں یا ان کے پاس گائے کا گوشت موجود تھا۔ اس مقصد کے لئے متعدد ہندو گروہوں نے گؤ رکھشا گروپ بنائے ہوئے ہیں۔ حکومت ان گروہوں کے خلاف کوئی کارروائی کرنے میں ناکام ہے۔

عید الفطر سے پہلے ایسے ہی ایک گروہ نے نئی دہلی کے قریب عید کی خریداری کرکے واپس آنے والے چار مسلمان نوجوانوں سے سیٹوں کے مسئلہ پر جھگڑا کرنے کے بعد ان پر حملہ کردیا۔ یہ واقعہ بھی ایک ریل گاڑی پر پیش آیا۔ اس حملہ میں پندرہ سال کا ایک نوجوان مارا گیا جبکہ باقی تینوں زخمی ہوئے تھے۔ ان نوجوانوں پر بھی گائے کا گوشت کھانے کا الزام لگاتے ہوئے حملہ کیا گیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق ان نوجونوں نے ٹوپیاں پہنی ہوئی تھیں اور ان کا پہناوا مسلمانوں جیسا تھا جس کی وجہ سے ان پر حملہ کیا گیا۔ اب منی پور میں جس خاندان پر حملہ کیا گیا ہے ، اس کے سربراہ نے بتایا ہے کہ حملہ آوروں نے یہ جاننے کے بعد کہ ان کے ہمراہ برقع پوش خواتین ہیں، مسلمان ہونے کی وجہ سے ان پر حملہ کیا اور ڈنڈوں اور لوہے کے سریوں سے انہیں مارا گیا۔ بعض مسافروں نے اس گروہ کو اس بلا اشتعال زیادتی سے روکنے کی کوشش کی لیکن ان لوگوں کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ ریلوے پولیس نے یہ خبر میڈیا میں آنے کے بعد تین افراد کو حراست میں لیا ہے لیکن حملہ کرنے والے دو درجن کے لگ بھگ لوگ تھے۔

بھارت میں نریندر مودی کی قیادت میں بی جے پی کی حکومت برسر اقتدار آنے کے بعد مسلمانوں پر حملوں میں اضافہ ہؤا ہے۔ اتر پردیش میں کامیابی کے بعد نئے انتہا پسند وزیر اعلیٰ کی سرکردگی میں خاص طور سے گوشت کا کاروبار کرنے والے مسلمان تاجروں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ نریندر مودی اور بی جے پی کے رہنما اقلیتوں کے خلاف ہندو گروہوں کی کارروائیوں پر خاموشی اختیار کرتے ہیں جس سے انتہا پسندوں گروہوں کی حوصلہ افزائی ہو رہی ہے۔

اس دوران بی جے پی سے وابستہ ایک 36 سالہ شخص کو بھی گائے کا گوشت رکھنے کا الزام لگاتے ہوئے زد و کوب کیا گیا ۔ گزشتہ چند ماہ کے دوران گؤ رکھشا گروہوں کے حملوں میں کئی لوگوں کو ہلاک کیا جا چکا ہے۔ نریندر مودی نے اگرچہ ان واقعات کی مذمت کی ہے لیکن ان کی طرف سے مذمتی بیان تاخیر سے اور انتہائی نرم لہجے میں جاری ہوتے ہیں جس کی وجہ سے صورت حال مسلسل خراب ہو رہی ہے۔

بھارت ایک سیکولر ملک ہے جہاں کا آئین تمام عقائد کو تحفظ فراہم کرتا ہے لیکن بی جے پی کے موجودہ دور حکومت میں ملک کو ایک انتہا پسند ہندو ریاست میں تبدیل کیا جارہا ہے جس کا خاص طور سے مسلمان نشانہ بن رہے ہیں۔ بھارت میں مسلمانوں کی تعدا د 14 فیصد کے لگ بھگ ہے جبکہ ہندو 80 فیصد کے قریب ہیں۔ اب اقلیتوں کے خلاف بڑھتا ہؤا تشدد دہشت گردی کی صورت اختیار کرچکا ہے۔ حکومت انتہا پسند عسکری گروہوں کے وجود کو برداشت کرنے کے علاوہ ان کو مظالم اور قانون شکنی کی اجازت بھی دے رہی ہے۔ میڈیا میں خبریں آنے کے بعد لوگوں کو گرفتار ضرور کیا جاتا ہے لیکن انہیں شاذ و نادر ہی سزا مل پاتی ہے۔ اس طرح ان عناصر کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ وہ من مانی کرنے میں آزاد ہیں۔

ایسے واقعات بھی سامنے آئے ہیں کہ عسکری گروہوں نے مسلمانوں کو روک کر انہیں ہندو مذہبی نعرے لگانے پر مجبور کیا۔ اس کے علاوہ گھر واپسی کے نام سے مسلمانوں کو ہندو کرنے کی مہم بھی جاری ہے اور دعویٰ کیاجاتا ہے کہ ان لوگوں کو ماضی میں مسلمان حکمرانوں نے زبردستی مسلمان کیا تھا، اس لئے وہ اپنے اصل مذہب میں واپس لائے جا رہے ہیں۔

ہندو مذہبی انتہا پسند صرف مسلمانوں کے لئے ہی خطرہ نہیں بنے ہوئے بلکہ سب سے بڑی اقلیت دلت اور دیگر مذاہب کے ماننے والوں کو بھی شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ بھارت کی حکومت ، نظام اور عدالتیں اس صورت حال کو تبدیل نہ کرسکیں تو اس خطہ میں ہندو مذہبی جنونیت ایک نئے دہشت گرد خطرہ کے طور پر سامنے آسکتی ہے۔

Facebook Comments HS

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali